پاکستان اور رومانیہ کے تعلقات کے 61 سال مکمل، شراکت داری مزید مستحکم ہو رہی ہے، سفیر ڈین سٹوئینسکو

اسلام آباد۔28نومبر (اے پی پی):پاکستان میں رومانیہ کے سفیر ڈین سٹوئینسکو نے کہا ہے کہ پاکستان اور رومانیہ کے درمیان تعلقات محض سفارتی سطح تک محدود نہیں رہے بلکہ یہ ایک جامع شراکت داری کی صورت اختیار کر چکے ہیں جس کی بنیاد باہمی اعتماد، ثقافتی ہم آہنگی، تعلیمی تعاون، تجارتی ترقی اور دفاعی روابط پر استوار ہے، یکم دسمبر رومانیہ کے لیے صرف ایک قومی دن نہیں بلکہ ایک …

اسلام آباد۔28نومبر (اے پی پی):پاکستان میں رومانیہ کے سفیر ڈین سٹوئینسکو نے کہا ہے کہ پاکستان اور رومانیہ کے درمیان تعلقات محض سفارتی سطح تک محدود نہیں رہے بلکہ یہ ایک جامع شراکت داری کی صورت اختیار کر چکے ہیں جس کی بنیاد باہمی اعتماد، ثقافتی ہم آہنگی، تعلیمی تعاون، تجارتی ترقی اور دفاعی روابط پر استوار ہے، یکم دسمبر رومانیہ کے لیے صرف ایک قومی دن نہیں بلکہ ایک تاریخی سنگ میل ہے جو عظیم اتحاد، قومی سلامتی اور اجتماعی یکجہتی کی علامت ہے اور اسی جذبے کے تحت رومانیہ خطے اور دنیا میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

رومانیہ کے قومی دن اور پاکستان کے ساتھ 61 سالہ سفارتی تعلقات کی تکمیل کے موقع پر اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں رومانیہ کے سفیر نے کہا کہ پاکستان اور رومانیہ کے تعلقات صرف سفارتی روابط تک محدود نہیں بلکہ یہ باہمی احترام، دوستی، ثقافت، تعلیم، تجارت اور دفاعی تعاون پر مبنی ایک مضبوط شراکت داری بن چکے ہیں جو وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہو رہی ہے۔ تقریب میں سفارتی شخصیات، اعلیٰ سرکاری حکام، عسکری نمائندوں، کاروباری برادری، میڈیا اور تعلیمی اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ رومانیہ کے سفیر نے کہا یکم دسمبر رومانیہ کی تاریخ میں عظیم اتحاد کا دن ہے جو قومی یکجہتی اور آزادی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال پاکستان اور رومانیہ کے سفارتی تعلقات کے 61 برس مکمل ہو رہے ہیں اور یہ عرصہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی، باہمی احترام اور تعاون کی روشن مثال ہے۔

انہوں نے بتایا کہ رواں برس پشاور میں رومانیہ کا اعزازی قونصلیٹ کھولا گیا ہے جبکہ کراچی اور لاہور میں بھی جلد نئے اعزازی قونصلیٹ قائم کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران انہوں نے کراچی، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، راولپنڈی، پشاور اور دیگر شہروں کے دورے کیے تاکہ اقتصادی مفادات کو فروغ دیا جا سکے جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان پہلا رومانیہ-پاکستان آئی ٹی فورم منعقد کیا گیا جس میں 100 سے زائد کمپنیوں نے شرکت کی اور ٹیکنالوجی، جدت اور ڈیجیٹل تبدیلی کے میدان میں نئی راہیں کھلیں۔سفیر نے دفاعی تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی عسکری روابط میں مزید اضافہ ہوا ہے جو باہمی اعتماد اور مضبوط شراکت داری کا عکاس ہے، ساتھ ہی ساتھ ثقافت، میڈیا، تعلیم اور عوامی روابط کے شعبوں میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نومبر میں پاکستان میں رومانیہ کے پہلے کلچرل ڈیز منائے گئے جن میں کراچی اور اسلام آباد میں فلم شوز، آرٹ نمائشیں اور موسیقی کے پروگرام منعقد ہوئے۔ اس کے علاوہ نمل (NUML) میں رومانی زبان کا پہلا لیکچریٹ قائم کیا گیا ہے جبکہ رومانی جامعات اور پاکستانی اداروں بالخصوص نسٹ، جی آئی ایف ٹی اور نیوٹیک کے درمیان تعلیمی تعاون بھی وسعت اختیار کر رہا ہے۔علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سفیر نے کہا کہ رومانیہ اپنی خودمختاری، سلامتی اور جمہوری اقدار کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔

بطور نیٹو اور یورپی یونین کے رکن، رومانیہ خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا اور یوکرین کو منصفانہ اور پائیدار امن تک پہنچانے کے لیے حمایت جاری رکھے گا۔اختتام پر سفیر نے کہا کہ پاکستان اور رومانیہ کی دوستی آنے والے برسوں میں مزید مضبوط ہوگی اور دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع تلاش کرتے رہیں گے۔

مزید خبریں