اسلام آباد۔28نومبر (اے پی پی):سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او) نے جنوری تا جون 2025 کے دوران ملک بھر میں خواتین کے خلاف تشدد سے متعلق اپنی قومی فیکٹ شیٹ جاری کی ہے جس کے مطابق 6 ماہ میں ملک بھر میں خواتین پر تشدد کے 20,698 واقعات پولیس میں رپورٹ ہوئے۔ یہ اعداد و شمار تمام صوبوں کی پولیس سے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت …
جنوری تا جون 2025کےد وران خواتین پر تشدد کے 20,698 کیسز رپورٹ، سزا کی شرح صفر کے قریب، ایس ایس ڈی او رپورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔28نومبر (اے پی پی):سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او) نے جنوری تا جون 2025 کے دوران ملک بھر میں خواتین کے خلاف تشدد سے متعلق اپنی قومی فیکٹ شیٹ جاری کی ہے جس کے مطابق 6 ماہ میں ملک بھر میں خواتین پر تشدد کے 20,698 واقعات پولیس میں رپورٹ ہوئے۔ یہ اعداد و شمار تمام صوبوں کی پولیس سے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت حاصل کئے گئے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 15,376 کیسز رجسٹرڈ ہوئے۔ پنجاب میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی زیادہ تعداد اس بات کی عکاس ہے کہ صوبے میں رپورٹنگ کا نظام دیگر صوبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ فعال، مربوط اور مضبوط ہے۔
سندھ میں 3,709، خیبر پختونخوا میں 875، اسلام آباد میں 423 جبکہ بلوچستان میں 315 واقعات رپورٹ ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رپورٹنگ کا زیادہ ہونا دراصل انسدادِ تشدد کے نظام پر عوام کے بڑھتے اعتماد اور اداروں کی بہتر رسائی کا ثبوت ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان کیسز میں ریپ، اغوا، غیرت کے نام پر قتل، ہراسگی، سائبر کرائم، گھریلو تشدد اور جسمانی تشدد جیسے سنگین جرائم شامل ہیں۔ایس ایس ڈی او کی رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملک بھر میں سزا کی مجموعی شرح 0.3 فیصد سے بھی کم رہی۔
پنجاب میں سزا کی شرح اگرچہ 0.01 فیصد ریکارڈ ہوئی تاہم پنجاب میں زیادہ کیسز کا رپورٹ ہونا، تفتیش اور پراسیکیوشن کے بوجھ میں اضافے کا سبب بنتا ہے جس کے باعث اس نظام کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ سندھ میں سزا کی شرح 0.5 فیصد جبکہ خیبر پختونخوا اور اسلام آباد میں کسی ایک بھی کیس میں سزا نہیں ہو سکی۔ بلوچستان میں سزا کی شرح 19.30 فیصد ضرور ہے لیکن رپورٹنگ کا حجم بہت کم ہونے کے باعث یہ شرح مجموعی تصویر کی درست ترجمانی نہیں کرتی۔ ایس ایس ڈی او نے کہا کہ صوبہ پنجاب رپورٹنگ، پولیس رسائی اور ادارہ جاتی کوآرڈی نیشن میں ملکی سطح پر سب سے مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔
ایس ایس ڈی او نے قومی سطح پر اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی اداروں کو بروقت تفتیش، جدید تربیت، بہتر شواہد اکٹھا کرنے کے نظام اور متاثرہ خواتین کے لئے محفوظ ماحول کی فراہمی پر توجہ دینا ہوگی۔ تنظیم کے مطابق پنجاب کی مثال یہ واضح کرتی ہے کہ بہتر رپورٹنگ سسٹم ہی مسئلے کو چھپانے کے بجائے سامنے لاتا ہے اور یہ رجحان دیگر صوبوں کے لئے قابلِ تقلید ہے۔قومی فیکٹ شیٹ حکومت، سول سوسائٹی، میڈیا اور پالیسی ساز اداروں کے لئے ایک اہم اور مستند دستاویز ہے جو ملک میں خواتین کے تحفظ، انصاف کی فراہمی اور موثر قانون سازی میں رہنمائی فراہم کرے گی۔








