وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان سے ڈنمارک کے سفیر کی ملاقات ،باہمی تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال

اسلام آباد۔29نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان سے ڈنمارک کے سفیر نے ملاقات کی اور باہمی تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر وفاقی وزیر نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت استحکام کی حکومتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکسوں میں عارضی اضافہ کاروباری طبقے پر دباؤ کا باعث ضرور بنا ہے تاہم …

اسلام آباد۔29نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان سے ڈنمارک کے سفیر نے ملاقات کی اور باہمی تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر وفاقی وزیر نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت استحکام کی حکومتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکسوں میں عارضی اضافہ کاروباری طبقے پر دباؤ کا باعث ضرور بنا ہے تاہم ریونیو اہداف کے حصول کے لیے یہ اقدامات ضروری تھے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت بتدریج ٹیکس بوجھ کم کرنے اور کاروباری ماحول بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے بتایا کہ منافع کی وطن واپسی سے متعلق مسائل بڑی حد تک حل ہو چکے ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہو رہے ہیں جبکہ ترسیلات زر میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ملاقات میں توانائی کے شعبے سے متعلق تفصیلی گفتگو ہوئی، خصوصاً صنعتوں کے شمسی اور قابلِ تجدید ذرائع توانائی کی طرف منتقل ہونے کے رجحان کے باعث قومی گرڈ پر دباؤ میں کمی کا معاملہ زیرِبحث آیا۔ اس موقع پر ڈنمارک کے سفیر نے پاکستانی اداروں کے ساتھ جاری تین سالہ شراکت داری سے متعلق آگاہ کیا جس کا مقصد توانائی منصوبہ بندی، ڈیٹا سسٹمز اور گرڈ کی کارکردگی بہتر بنانا ہے۔فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ صنعتوں کی گرڈ میں واپسی یا صنعتی طلب میں اضافہ طویل المدتی پائیداری کے لیے ناگزیر ہے۔ڈنمارک کے سفیر نے پاکستان کے زرعی اور آئی ٹی شعبوں میں ڈینش کمپنیوں کی دلچسپی کا ذکر کیاتاہم بعض قانونی و سرٹیفکیشن تقاضوں کے باعث محتاط رویہ برقرار رکھنے کی نشاندہی بھی کی۔

وفاقی وزیر نے ڈینش کمپنیوں کو پاکستان کے تیزی سے ابھرتے ہوئے آئی ٹی سیکٹر سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی جو سالانہ 80 ہزار کے قریب گریجویٹس تیار کرتا ہے اور لاگت کے لحاظ سے بھی مسابقتی ہے۔جام کمال خان نے ڈنمارک کو لاہور اور کراچی میں آئندہ ہونے والی تجارتی نمائشوں میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ سفری مشوروں میں بہتری سے مزید شرکت ممکن ہو سکے گی۔ انہوں نے پاکستان کی تیزی سے ترقی کرتی کاسمیٹکس اور پرسنل کیئر انڈسٹری کے بارے میں بھی آگاہ کیا جو مسابقتی قیمتوں اور مصنوعات کی بڑھتی ہوئی ورائٹی کی بدولت افریقی منڈیوں میں نمایاں مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔

دونوں ممالک نے تجارتی تعلقات مزید مضبوط بنانے، کاروباری اداروں کے مابین روابط بڑھانے اور تجارت، قابل تجدید توانائی، آئی ٹی اور نئی مارکیٹوں میں توسیع کے مواقع تلاش کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

 

مزید خبریں