بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں سائبان پاکستان سیمینار بعنوان "تہذیبوں کے درمیان مکالمے میں مذہب اور قانون کا کردار” کا انعقاد

اسلام آباد۔29نومبر (اے پی پی):بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ادارہ تحقیقات اسلامی ( آئی آر آئی ) کے زیر اہتمام سائبانِ پاکستان بین الاقوامی سیمینار بعنوان ’’تہذیبوں کے درمیان مکالمے میں مذہب اور قانون کا کردار‘‘ جامعہ کے فیصل مسجد کیمپس میں کیا گیا۔ بین الاقوامی سیمینار آئی آر آئی، جمہوریہ آسٹریا کے سفارت خانے ، انٹرنیشنل ریسرچ کونسل فار ریلیجس افیئرز ، جامعہ کے ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹ افیئرز (مرد …

اسلام آباد۔29نومبر (اے پی پی):بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ادارہ تحقیقات اسلامی ( آئی آر آئی ) کے زیر اہتمام سائبانِ پاکستان بین الاقوامی سیمینار بعنوان ’’تہذیبوں کے درمیان مکالمے میں مذہب اور قانون کا کردار‘‘ جامعہ کے فیصل مسجد کیمپس میں کیا گیا۔ بین الاقوامی سیمینار آئی آر آئی، جمہوریہ آسٹریا کے سفارت خانے ، انٹرنیشنل ریسرچ کونسل فار ریلیجس افیئرز ، جامعہ کے ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹ افیئرز (مرد و خواتین) اور فیکلٹی آف شریعہ اینڈ لا کی معاونت کے ساتھ منعقد کیا گیاتھا۔

اس پروگرام میں سفراء، جج صاحبان، سفارت کار، ماہرینِ قانون اور ممتاز علمی شخصیات نے شرکت کی جبکہ اس سیمینار میں ویٹیکن کے سفیر (اپاسٹولک ننسیو) آرچ بشپ جرمینو پینیموٹے نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔سیمینار سے جمہوریہ آسٹریا کے سفیر وولف گینگ اولیور کوچیرا، سینیٹر دنیش کما‌ر، ایشیا ریجن کے صدر برائے چرچ آف جیزس کرائسٹ آف لیٹر ڈے سینٹس کیلی آر جانسن، آسٹریا کی ویانا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر اسٹیفن ہیمر، وفاقی شرعی عدالت کے جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور، آئی آر آئی کے ڈائریکٹر جنرل و جامعہ کے ڈین فیکلٹی آف شریعہ اینڈ لا پروفیسر ڈاکٹر محمد ضیاء الحق اور انٹرنیشنل ریسرچ کونسل فار ریلیجس افیئرز کے صدر اسرار مدنی سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔

اس موقع پر سوئٹزرلینڈ کے سفیر جارج اسٹائنر، جرمنی کے سفارت خانے کے سربراہ برائے ابلاغیات، ثقافتی امور و پروٹوکول جان جیرالڈ کراؤسر اور سجادہ نشین دربار عالیہ موہڑہ شریف پیر مجتبیٰ فاروق گل بادشاہ سمیت دیگر سفارت کار اور نمایاں شخصیات بھی موجود تھیں۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر محمد ضیاء الحق نے ’’سائبانِ پاکستان‘‘ جو کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے قومی بیانیہ ہے، کا تفصیلی تعارف بھی پیش کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد ضیاء الحق نے صدر انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد کی جانب سے معزز مہمانان کو خوش آمدید کہا۔

انہوں نے اپنے خطاب میں تہذیبی مکالمے کے حوالے سے متعدد نظریات پیش کیے اور غیر ملکی مندوبین کو ’’سائبانِ پاکستان‘‘ کے قومی بیانیے سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نےاپنے خطاب میں مذہب اور قانون کے تناظر میں تہذیبی مکالمے کی ضرورت اور اس کی جہتوں کے حوالے سے سیمینار کا بنیادی رخ واضح کیا۔سینیٹر دنیش کمار نے بھی خطاب کرتے ہوئے قومی یکجہتی اور پالیسی سازی میں مکالمے کے اہم کردار پر اپنا نقطۂ نظر پیش کیا۔ ویانا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر اسٹیفن ہیمر نے اپنے کلیدی خطاب میں مذہبی اخلاقیات اور جدید قانونی ڈھانچوں کے درمیان ہم آہنگی کے علمی پہلوؤں پر جامع تجزیہ پیش کیا۔ وفاقی شرعی عدالت کے جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور نے عدالتی نقطۂ نظر سے گفتگو کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ قانون معاشرے میں پرامن بقائے باہمی اور مذہبی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

ایشیا ریجن کے صدر کیلی آر جانسن نے مذہبی نقطۂ نظر سے مکالمے کے دوہرے پہلوؤں کی وضاحت کی اور تہذیبی مکالمے کے امکانات پر روشنی ڈالی۔ جمہوریہ آسٹریا کے سفیر وولف گینگ اولیور کوچیرا، جو اجلاس کی صدارت بھی کر رہے تھے، نے پاکستان اور آسٹریا کے درمیان مضبوط دوطرفہ تعلقات کا ذکر کیا اور سیمینار کو علمی و تہذیبی تعاون کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔ اسرار مدنی نے پاکستان کے لیے تہذیبی مکالمے کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر حافظ غفران احمد، اسٹوڈنٹ ایڈوائزر (طلبا) اور ڈاکٹر رخسانہ طارق، اسٹوڈنٹ ایڈوائزر (خواتین) نے شرکا ء کا شکریہ ادا کیا۔ اجلاس کی نظامت اسلامی تحقیقاتی ادارے کے ڈاکٹر حافظ افتاب احمد نے کی، جنہوں نے سیمینار کے دوران ہونے والی گفتگو سے مرتب کردہ جامع سفارشات بھی پیش کیں، جن میں تہذیبی مکالمے کے فروغ کے لیے قابلِ عمل اقدامات شامل تھے۔ سیمینار میں فیکلٹی آف شریعہ اینڈ لا، فیکلٹی آف مینجمنٹ سائنسز اور دیگر شعبہ جات کے طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

مزید خبریں