اسلام آباد۔29نومبر (اے پی پی):نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وہ صرف اقوام متحدہ کی درخواست پر افغان عوام کے لیے ضروری خوراک کی اشیاء کی فراہمی کی اجازت دینے پر غور کر رہے ہیں۔ وزارت خارجہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ نے بتایا کہ انہیں افغان عوام کے لیے انسان دوست امداد کی اجازت دینے کے بارے میں نظرثانی …
اقوام متحدہ کی درخواست پر افغان عوام کے لیے ضروری خوراک کی اشیاء کی فراہمی کی اجازت دینے پر غور کر رہے ،نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار

مزید خبریں
اسلام آباد۔29نومبر (اے پی پی):نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وہ صرف اقوام متحدہ کی درخواست پر افغان عوام کے لیے ضروری خوراک کی اشیاء کی فراہمی کی اجازت دینے پر غور کر رہے ہیں۔ وزارت خارجہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ نے بتایا کہ انہیں افغان عوام کے لیے انسان دوست امداد کی اجازت دینے کے بارے میں نظرثانی کی درخواست پر اقوام متحدہ کی طرف سے ایک درخواست موصول ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشیدہ صورت حال اور سرحدوں کے بند ہونے کو مدنظر رکھتے ہوئے اگرچہ نرمی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، تاہم وہ اقوام متحدہ کی درخواست کا معاملہ وزیراعظم اور عسکری قیادت کے سامنے اٹھائیں گے اور انہیں افغان عوام کے لیے صرف اور صرف مثبت کارروائی کی توقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ ضروری خوراک کی اشیاء کی اجازت ایک دن میں دی جا سکتی ہے۔ نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ نے واضح طور پر دلیل دی کہ افغان قوم کی مدد کے لیے پاکستان کی طرف سے اٹھائے گئے تمام مثبت اقدامات کے باوجود، افغان سرزمین پر دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات نہیں اٹھائے گئے،انہوں نے طالبان کی حکومت سے اپنی کمزوریوں پر غور کرنے اور دنیا سے کیے گئے اپنے وعدے کو پورا کرنے کی اپیل کی۔انہوں نے کہا کہ طالبان کےڈی فیکٹو حکمرانوں نے ان کے فراخدلانہ اقدامات کا جواب نہیں دیا، کیونکہ افغان سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی کے نتیجے میں 2021ء سے اب تک پاکستان کے تقریباً 4,000 سیکورٹی فورسز کے اہلکار شہید اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔ نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ نے انتہائی سخت لہجے میں دہرایا کہ یہ طالبان حکومت کا وہم ہے کہ پاکستان بار بار دہشت گردانہ حملوں کے باوجود کچھ نہیں کر سکتا، پاکستان کے پاس حرکیاتی کارروائیوں (کائنٹک ایکشنز) کے لیے طاقت اور وسائل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معاملہ اسی سمت جا رہا تھا، انہیں قطر کی قیادت کی طرف سے ثالثی کی درخواست موصول ہوئی کیونکہ وہ پاکستان کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے، ‘اس لیے آپریشن کلین اپ روک دیا گیا’۔ ترکی نے بھی اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی۔تاہم، انہوں نے مزید کہا کہ بھائیوں کے گھر کے اندر اس طرح کے آپریشن کرنا مطلوب نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہائیوں تک اپنی سرزمین پر 40 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر سرحدیں بند ہونے کے بعد طالبان حکومت تجارت کے لیے متبادل راستے تلاش کر رہی ہے تو اس سے پاکستان کو کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ "عزت کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ خود احترام انمول ہے جس پر ہم سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ نے زور دیا کہ آگے بڑھنے کا واحد راستہ مکالمہ اور سفارت کاری ہے، لیکن طالبان حکومت کو اپنی کمزوریوں کو دور کرنا چاہیے اور اپنے وعدے کو پورا کرنا چاہیے۔
غزہ میں تجویز کردہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) میں پاکستانی فوجی دستوں کے حوالے سے، انہوں نے کہا کہ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ اس تجویز کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی طرف سے تسلیم شدہ ہونا چاہیے۔ پاکستان نے آٹھ دیگر اہم ممالک کے ساتھ مشاورت سے سلامتی کونسل میں امریکہ کی تیار کردہ قرارداد میں ترمیم تجویز کی تھی اور بالآخر اسے منظور کر لیا گیا۔ تاہم، آئی ایس ایف کی طرف سے حماس کو غیر مسلح کرنے کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان دیگر اہم ممالک کی طرح اس بات کے لیے تیار نہیں ہے کیونکہ یہ فلسطینی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ پاکستان آئی ایس ایف کے لیے شراکت کے لیے تیار ہے لیکن پہلے اس کے ٹی او آر، مینڈیٹ اور کردار کو واضح طور پر طے کیا جائے۔
اس وقت تک وہ حتمی فیصلہ نہیں کر سکتے۔ ملائیشیا کو بھی حماس کو غیر مسلح کرنے کے تجویز کردہ آئی ایس ایف کے کردار پر اعتراضات تھے پاکستان کے سفارتی رابطوں اور عالمی فورمز میں اس کی شرکت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ ملک کی خارجہ پالیسی کے خدوخال واضح طور پر بلاک پالیسی کی مخالفت کرتے ہیں اور تنازعات کے پرامن اور کثیرالجہتی حل پر زور دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 57 رکنی اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) کو مضبوط بنانے کی کوشش کی اور سلامتی کونسل کے اجلاسوں کی صدارت کی، اس کے اہم عالمی مسائل کے حوالے سے قراردادیں منظور اور اپنا لی گئیں جو پاکستان کے لیے فخر کی بات ہے۔
نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کے حالیہ دوروں کا بنیادی مقصد یورپی یونین اور نیٹو کے ساتھ دوبارہ مشغول ہونا تھا، اور اعلیٰ سطح پر ان سفارتی مصروفیات کی وجہ سے، پاکستان کو اب پوری دنیا میں ایک مختلف نظرئیے سے دیکھا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسی عالمی پذیرائیوں کا سہرا موجودہ حکومت کی کوششوں اور عسکری قیادت کی بھارتی مسلح افواج کے ساتھ حالیہ جنگ میں کارکردگی کو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ سے زیادہ اہمیت اختیار کر رہا ہے۔نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ماسکو میں ہونے والی سربراہان حکومت کے اجلاس کے دوران شنگھائی تعاون کی تنظیم (ایس سی او) کے اراکین کے ساتھ ان کی ملاقاتیں بہت کارآمد اور ثمر آور رہیں۔
انہوں نے فعال اقتصادی اہداف، اقتصادی انضمام، علاقائی رابطہ، غربت میں کمی، دہشت گردی، نوجوانوں کے روزگار، تجارت، معیشت، توانائی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور رکن ممالک کی طرف سے قومی کرنسی کے استعمال کے بارے میں پاکستان کا نکتہ نظر پیش کیا۔اس کے علاوہ، انہوں نے زور دیا کہ خطے کی امن و استحکام کے لیے افغانستان میں استحکام ناگزیر ہے۔ایس سی او کے اجلاس میں ایک مشترکہ بیانیہ اپنایا گیا اور مشترکہ فیصلے کیے گئے۔ صدر پیوٹن نے بھی تمام وفود کے سربراہوں بشمول رکن ممالک کے مختلف وزرائے اعظم اور وزرائے خارجہ کو ملاقات کے لیے مدعو کیا۔اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ انہوں نے صدر پیوٹن کو پاکستان کے دورے کی دعوت کا اعادہ کیا اور کہا کہ اپنے قیام کے دوران انہوں نے وزرائے اعظم اور اپنے ہم منصبوں کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور علاقائی اور عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے روسی قیادت کے ساتھ اپنی دو طرفہ ملاقات کو بھی بہت کارآمد قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ماسکو کا میرا دورہ اور ایس سی او سربراہان حکومت کی میٹنگ میں شرکت، یوریشیائی اور علاقائی ممالک کے ساتھ پاکستان کے قریبی تعلقات اور انہیں مزید مضبوط بنانے کی اس کی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔ ہمیں گرمجوشی بھرے جوابات ملے۔نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ نے برسلز میں یورپی یونین کونسل کے رکن، یورپی یونین کے ہائی ریپریزنٹیٹو، نیٹو کے سیکرٹری جنرل اور دیگر حکام کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کو حوصلہ افزا قرار دیا، اور کہا کہ ان ملاقاتوں کے دوران ‘انہوں نے ہر ممکن موضوع پر تبادلہ خیال کیا’۔ان کی گفتگو میں جی ایس پی پلس، افغانستان، آبی معاہدہ، بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر، موسمیاتی چیلنجز، دہشت گردی اور نقل مکانی کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے پاکستان کے مستقل موقف کا اعادہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں امن اور خوشحالی چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے بہت بڑی کوششیں اور قربانیاں دی ہیں۔ انہیں بتایا کہ میں نے افغانستان کا دورہ کیا اور طالبان حکومت کی قیادت سے ملاقات کی، ان سے ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی درخواست کی۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ان کے وعدوں کا نتیجہ بہت مایوس کن تھا۔ سال 2021 کے بعد دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے پاکستان کے تقریباً 4,000 افسر اور جوان شہید اور 20,000 زخمی ہوئے ہیں۔نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ نے افغانستان میں امن اور استحکام کے لیے چین کی کوششوں کو بھی سراہا۔








