اسلام آباد۔30نومبر (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر کے بے بنیاد بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پارلیمان کی دو تہائی اکثریت سے منظور کی گئی 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے بے بنیاد خدشات پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔اتوار کو دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا …
پاکستان کا پارلیمان کی دو تہائی اکثریت سے منظور 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے بے بنیاد خدشات پر اظہار تشویش

مزید خبریں
اسلام آباد۔30نومبر (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر کے بے بنیاد بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پارلیمان کی دو تہائی اکثریت سے منظور کی گئی 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے بے بنیاد خدشات پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔اتوار کو دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دُنیا کی تمام پارلیمانی جمہوریتوں کی طرح قانون سازی اور آئین میں کسی بھی قسم کی ترمیم کا اختیار صرف اور صرف پاکستان کے عوام کے منتخب نمائندوں کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
جمہوریت اور جمہوری طریقہ کار ہی شہری و سیاسی حقوق کی بنیاد ہیں، جن کا احترام ضروری ہے۔پاکستان کی پارلیمان کی جانب سے منظور کی گئی آئینی ترمیم مکمل طور پر آئینِ پاکستان میں درج طریقہ کار کے مطابق کی گئی۔پاکستان انسانی حقوق، انسانی وقار، بنیادی آزادیوں اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ، فروغ اور پاسداری کے لیے پُرعزم ہے، جیسا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں واضح ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے کام کو اہمیت دیتا ہے تاہم یہ امر افسوسناک ہے کہ جاری کردہ بیان میں پاکستان کے مؤقف اور زمینی حقائق کی عکاسی نہیں ہے ۔ بیان میں ہائی کمشنر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ پاکستان کی پارلیمان کے خودمختار فیصلوں کا احترام کریں اور ایسے بیانات سے گریز کریں جو سیاسی جانب داری اور غلط معلومات کی عکاسی کرتے ہوں۔








