اسلام آباد۔30نومبر (اے پی پی):پاکستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی اسلام آباد (پاک ای پی اے اسلام آباد) وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی نے وفاقی دارالحکومت میں دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے مالکان کو سخت کارروائی کی تنبیہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دھوئیں کا زیادہ اخراج کرنے والی گاڑیوں کے خلاف فوری اور سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ اتوار کو جاری اپنے بیان میں پاک ای پی …
دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو جرمانے، پاک ای پی اے نے اسلام آباد میں نگرانی مزید سخت کردی

مزید خبریں
اسلام آباد۔30نومبر (اے پی پی):پاکستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی اسلام آباد (پاک ای پی اے اسلام آباد) وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی نے وفاقی دارالحکومت میں دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے مالکان کو سخت کارروائی کی تنبیہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دھوئیں کا زیادہ اخراج کرنے والی گاڑیوں کے خلاف فوری اور سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
اتوار کو جاری اپنے بیان میں پاک ای پی اے کی ڈائریکٹر جنرل نازیہ ذیب علی نے کہا کہ ایجنسی نے گاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں کے تدارک کے لئے اپنے انفورسمنٹ آپریشنز میں تیزی پیدا کر دی ہے جو اسلام آباد میں بگڑتی فضائی صورتحال اور بار بار پیدا ہونے والے اسموگ کے بڑے اسباب میں شمار ہوتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ نفاذِ قانون کی ٹیمیں شہر کی بڑی شاہراہوں، چوراہوں اور زیادہ ٹریفک والے مقامات پر باقاعدہ معائنہ کر رہی ہیں تاکہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی نشاندہی کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ خلاف ورزی کی نوعیت کے مطابق موقع پر ہی جرمانہ، گاڑی کی ضبطی یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔نازیہ ذیب علی نے کہا کہ حد سے زیادہ دھواں چھوڑنے والی گاڑی چلاناخصوصاً بوسیدہ اور ناقص انجنوں سے نکلنے والا کالا دھواںوفاقی ماحولیاتی قوانین کے تحت ماحولیاتی جرم ہے۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہاکہ میں بالکل واضح کرنا چاہتی ہوں کہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو کسی صورت اسلام آباد میں چلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ صرف ریگولیٹری معاملہ نہیں بلکہ یہ عوامی صحت کا بحران ہے۔ گاڑیوں کا دھواں ہمارے بچوں کی سانسوں میں زہر بھر رہا ہے۔
ہم اس ماحولیاتی جرم کو روکنے کے لیے بھاری جرمانوں اور ضبطی سمیت ہر قانونی اقدام لیں گے۔انہوں نے کہا کہ غیرمناسب دیکھ بھال کے باعث ڈیزل بسیں، ٹرک، ویگنیں، چنگچی رکشے اور موٹر سائیکلز بڑی تعداد میں خطرناک دھواں چھوڑ رہے ہیں، جو ماحول اور انسانی صحت دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں شہری علاقوں میں فضائی آلودگی اور کاربن گیسوں کا بڑا ذریعہ ہے، جس میں پی ایم 2.5، پی ایم 10، نائٹروجن آکسائیڈز، سلفر ڈائی آکسائیڈ، کاربن مونو آکسائیڈ اور ہائیڈرو کاربن شامل ہیں۔
وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے ترجمان محمد سلیم شیخ نے کہا کہ لوگ اکثر سمجھ نہیں پاتے کہ ایک گاڑی کا دھواں اپنے اردگرد سینکڑوں افراد کو متاثر کرتا ہے۔ کالا دھواں دراصل بیماریوں سے بھرا ہوا زہریلا بادل ہوتا ہے۔ اسی لیے ہم عوام سے تعاون کی اپیل کر رہے ہیں، کیونکہ فضائی معیار کا تحفظ دراصل زندگیوں کا تحفظ ہے۔انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنی گاڑیوں کا معائنہ پاک ای پی اے سے منظور شدہ لیبارٹریوں سے کروائیں۔ بغیر سرٹیفیکیٹ گاڑی چلانے والوں کو جرمانہ یا ضبطی کا سامنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ باقاعدہ انجن ٹیوننگ، بروقت آئل تبدیلی اور معیاری ایندھن کا استعمال نہ صرف اخراج کم کرتا ہے بلکہ ایندھن کی بچت اور گاڑی کی کارکردگی میں اضافہ بھی کرتا ہے۔مزید معلومات کے لیے شہریوں کو 051-9250713 پر پاک ای پی اے سے رابطہ یا ایجنسی کے دفتر (پلاٹ نمبر 42، گلی نمبر 8، سیکٹر H-8/2 اسلام آباد) آمد کی ہدایت کی گئی ہے۔نازیہ ذیب علی نے کہا کہ فضائی آلودگی کے مسئلے کا حل صرف نفاذ سے ممکن نہیں عوامی تعاون بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ صاف ہوا ہماری مشترکہ قومی ذمہ داری ہے۔ عوام تعاون کریں تو ہم آلودگی میں نمایاں کمی لا سکتے ہیں اور لاکھوں زندگیوں کی حفاظت ممکن ہے۔اسی حوالے سے محمد سلیم شیخ نے کہا کہ اجتماعی کوشش ہی اسلام آباد کو صحت مند اور محفوظ بنا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ اپنی گاڑیاں ٹھیک رکھتے اور قوانین پر عمل کرتے ہیں، وہ صرف اپنے خاندان نہیں بلکہ پوری کمیونٹی کی حفاظت کرتے ہیں۔








