اسلام آباد۔30نومبر (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی دعوت پر مصر کے وزیر خارجہ نے پاکستان کے دورے کے دوران سول و عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں، دونوں فریقوں نے سیاسی، اقتصادی، تجارتی اور دفاعی تعلقات، ثقافتی اور تعلیمی تعاون اور صحت کے شعبے میں اشتراک سمیت پاکستان-مصر دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا، فریقین نے علاقائی امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی …
مصر ی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان، سول و عسکری قیادت سے ملاقاتیں ، فریقین کا علاقائی امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے لیے مل کر کام جاری رکھنے کے اپنے عزم کا اعادہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔30نومبر (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی دعوت پر مصر کے وزیر خارجہ نے پاکستان کے دورے کے دوران سول و عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں، دونوں فریقوں نے سیاسی، اقتصادی، تجارتی اور دفاعی تعلقات، ثقافتی اور تعلیمی تعاون اور صحت کے شعبے میں اشتراک سمیت پاکستان-مصر دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا، فریقین نے علاقائی امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے لیے مل کر کام جاری رکھنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے اتوار کو جاری بیان کے مطابق مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر احمد محمد عبدالعاطی نے 29 تا 30 نومبر 2025 تک نائب وزیراعظم اوروزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی دعوت پر پاکستان کا سرکاری دورہ کیا۔
دورے کے دوران مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر احمد محمد عبدالعاطی نے وزارت خارجہ میں نائب وزیراعظم اوروزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ ملاقات کے بعد وفد کی سطح پر بات چیت کی۔ دونوں فریقوں نے سیاسی، اقتصادی، تجارتی اور دفاعی تعلقات، ثقافتی اور تعلیمی تعاون اور صحت کے شعبے میں اشتراک سمیت پاکستان-مصر دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا، جس میں ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کی پاکستان کی قومی کوششوں میں مصر کی معاونت بھی شامل ہے۔کاروباری اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے، دونوں فریقوں نے نجی شعبے کی شراکت داریوں میں سہولت اور تجارتی روابط کو وسعت دینے کے لیے ٹھوس اقدامات پر اتفاق کیا۔
دونوں فریقوں نے ویزہ سہولت کے لیے پہلے مرحلے میں 250 پاکستانی کاروباری گھرانوں کی نشاندہی کرنے کا فیصلہ کیا، جسے دوسرے مرحلے میں 500 تک بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون کو منظم کرنے اور باہمی فائدے والی تجارتی شراکتوں کو فروغ دینے کے لیے پاکستان-مصر بزنس کونسل قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ دونوں فریقوں نے معاشی تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان-مصر بزنس فورم قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ اس کا اجلاس 2026 کی دوسری سہ ماہی میں، دوطرفہ مشترکہ وزارتی کمیشن (جے ایم سی) کے اجلاس کے موقع پر منعقد ہوگا۔ جے ایم سی کی مشترکہ صدارت دونوں وزرائے خارجہ کریں گے۔ دونوں فریقوں نے دوطرفہ ادارہ جاتی طریقہ کار کو فعال کرنے اور 2026 کی پہلی سہ ماہی میں اراکین کی سطح پر ملاقات کے انعقاد کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
مصر کے وزیر خارجہ نے پاکستانی طلبہ کے لیے جامعہ الازہر کے پیش کردہ وظائف کی تعداد دوگنا کرنے کے فیصلے کا اعلان بھی کیا۔نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور مصر کے وزیر خارجہ نے علاقائی اور بین الاقوامی حالات پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا۔ پاکستان نے غزہ میں مصر کے اہم سفارتی اور انسان دوست کردار، بشمول جنگ بندی کے انتظامات اور انسان دوست امداد میں سہولت کاری کی کوششوں کی تعریف کی۔ دونوں فریقوں نے قبل از 1967 کی سرحدوں پر القدس الشریف کو دارالحکومت بناتے ہوئے ایک آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے اپنے اصولی موقف کا اعادہ کیا۔ مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر احمد محمد عبدالعاطی نے صدر مملکت آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کی۔ صدر مملکت نے پاکستان اور مصر کے درمیان تاریخی تعلقات پر زور دیا اور تمام شعبوں میں شراکت کو بلند کرنے کی پاکستان کی خواہش کا اظہار کیا۔
دوطرفہ تعاون، علاقائی استحکام اور غزہ کی انسانی صورت حال کے معاملات پر خیالات کا تبادلہ کیا گیا۔ صدر مملکت نے علاقائی اہمیت کے مسائل پر مصر کی قیادت اور تعمیری سفارتی سرگرمیوں کی تعریف کی۔مصر کے وزیر خارجہ نے جنرل ہیڈ کوارٹرز میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بھی ملاقات کی۔ تبادلہ خیال کا محور دفاعی اور سلامتی تعاون، فوجی تبادلے، تربیتی اشتراک، اور علاقائی امن و استحکام تھا۔ دونوں فریقوں نے دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان اعلیٰ سطحی مصروفیت جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
ڈاکٹر بدر احمد محمد عبدالعاطی نے اسلام آباد میں اپنے پروگراموں کے دوران پاکستان کے کاروباری برادری کے اراکین سے بھی بات چیت کی، جس میں تجارت اور سرمایہ کاری کی شراکت داریوں کو وسعت دینے کے امکانات کو اجاگر کیا گیا۔مصر کے وزیر خارجہ کے دورے نے پاکستان-مصر کے دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کیا۔ دونوں فریقوں نے علاقائی امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے لیے مل کر کام جاری رکھنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔








