اسلام آباد۔1دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ تاریخ نے ثابت کر دیا کہ پی ٹی آئی کا حکومت چھوڑنے کا فیصلہ غلط تھا ، اگر وہ ایوانوں میں ہوتے تو شائد یہ حالات نہ ہوتے ۔ وہ پیر کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کر رہے تھے ۔ وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پارلیمان کی عزت ،تکریم …
پارلیمان کی عزت ،تکریم اور حرمت سب کو عزیز ہے ، اعظم نذیر تارڑ

مزید خبریں
اسلام آباد۔1دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ تاریخ نے ثابت کر دیا کہ پی ٹی آئی کا حکومت چھوڑنے کا فیصلہ غلط تھا ، اگر وہ ایوانوں میں ہوتے تو شائد یہ حالات نہ ہوتے ۔ وہ پیر کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کر رہے تھے ۔ وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پارلیمان کی عزت ،تکریم اور حرمت سب کو عزیز ہے ، کہا گیا کہ ہمیں دیوار کے ساتھ مت لگائیں ، تاریخ بتاتی ہے کہ پی ٹی آئی کا اسمبلی چھوڑ کر جانے کا فیصلہ غلط تھا، یہ ثابت ہو گیا ،اگر سیاسی فیصلے لیتے ،ایوان کے اندر رہتے تو شاید معاملات یہاں تک نہ جاتے، پی ٹی آئی نے سپیس خود چھوڑی ،عوام کا خیر خواہ بننے کی بجائے اقتدار کو ترجیح دی۔
انہوں نے کہا کہ جوغلطیاں جس طرف سے ہوئیں تاریخ انھیں کبھی معاف نہیں کرتی ۔ انہوں نے وزیراعظم کی بات دوہرائی کہ پاکستان رہے گا تو ہم سب رہیں گے اور بانی پی ٹی آئی بھی سیاست کرتے رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کےپھندے تک لے جایا گیا ،بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا ،اجتجاج ہوا لیکن کسی دائرے میں رہتے ہوئے ہوا ، محمد نواز شریف کو دو مرتبہ نااہل کیا گیا لیکن ہم نے حملے نہیں کیے ۔
انہوں نے کہا کہ گورنر راج کوئی مارشل لاء کی شکل نہیں بلکہ آئین میں دیا گیا ہے، آئین کے آرٹیکل 232-234 تک حالات ہوتے ہیں تو گورنر راج آئینی عمل ہوگا، غیر آئینی عمل یہ ہے کہ پولیس کے گاڑیاں ، فائر بریگیڈ کی گاڑیاں ارو سرکاری وسائل استعمال کرتے ہوئے وفاق پر حملہ کرنا غیر آئینی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جیلیں ہم نے بھی کاٹی ہیں ،ہماری قیادت کی بے توقیری کی گئی ،ہسپتالوں سے گرفتاریاں ہوئیں لیکن اس طرح نہیں کیا گیا جو اب ہو رہا ہے ۔








