اسلام آباد۔1دسمبر (اے پی پی):نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے متعلقہ قواعد اور نادرا آرڈیننس کی روشنی میں جامع نوعیت کے نئے ریگولیشنز جاری کر دئیے ہیں۔ نادرا اتھارٹی بورڈ کی منظوری کے بعد یہ ریگولیشنز گزٹ آف پاکستان میں بھی شائع کر دی گئی ہیں۔ اصلاحات میں شناختی دستاویزات کی تصدیق اور منسوخی کے طریقہ کار میں بہتری، قومی شناختی کارڈ فریم ورک میں ترامیم، پاکستان اوریجن …
نادرا کی جانب سے شناختی نظام کو مستحکم بنانے کیلئے ریگولیٹری اصلاحات کا اجراء

مزید خبریں
اسلام آباد۔1دسمبر (اے پی پی):نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے متعلقہ قواعد اور نادرا آرڈیننس کی روشنی میں جامع نوعیت کے نئے ریگولیشنز جاری کر دئیے ہیں۔ نادرا اتھارٹی بورڈ کی منظوری کے بعد یہ ریگولیشنز گزٹ آف پاکستان میں بھی شائع کر دی گئی ہیں۔ اصلاحات میں شناختی دستاویزات کی تصدیق اور منسوخی کے طریقہ کار میں بہتری، قومی شناختی کارڈ فریم ورک میں ترامیم، پاکستان اوریجن کارڈ (پی او سی) کے ریگولیٹری ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ادارے کے پروکیورمنٹ نظام کی منظوری شامل ہیں۔
گز ٹ میں شائع شدہ نوٹیفکیشنز کے مطابق شناختی دستاویزات کی تصدیق کے سلسلے میں مشتبہ شناختی ریکارڈز کے جائزے کے لئے ایک منظم طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے اور ان کی تحقیقات، سماعت اور حتمی فیصلوں کے لئے ویریفکیشن بورڈز قائم کئے گئے ہیں ۔ ان اقدامات کا مقصد قومی شناختی نظام کی سکیورٹی اور درستی کو مزید مستحکم بنانا ہے۔قومی شناختی کارڈ کے قواعد وضوابط میں کی گئی ترامیم کے تحت اہم تعریفوں کو مزید واضح کیا گیا ہے، خدمات کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنایا گیا ہے اور متروک یا ایسے شناختی کارڈز کی محفوظ تلفی کے لئے باضابطہ طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے جو متعلقہ افراد کی طرف سے وصول نہ کئے جائیں۔
ان ترامیم میں ایک سے زیادہ شناختی کارڈز سے متعلق معاملات کو نمٹانے کا واضح طریقہ کار بھی شامل ہے جبکہ یتیم خانوں اور تحفظ اطفال کے اداروں کی رجسٹریشن سے متعلق قواعد بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔پاکستان اوریجن کارڈ کے لئے نادرا کے نئے قواعد میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور پاکستانی نژاد افراد کے لئے اہلیت کا معیار واضح کیا گیا ہے۔ اس فریم ورک میں سلسلہ نسب کی تصدیق کے لئے مطلوبہ دستاویزات اور وہ حقوق بیان کئے گئے ہیں جو پی او سی ہولڈرز کو پاکستان میں قیام کے دوران حاصل ہوں گے۔
گورننس کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت کے تحت اتھارٹی نے نادرا پروکیورمنٹ ریگولیشنز 2025 کی منظوری دے دی ہے جو ادارے کے خریداری کے نظام کو شفافیت اور احتساب کے مطلوبہ قومی معیار سے مزید ہم آہنگ بنانے میں مدد دیں گے۔ ان ریگولیشنز کے تحت بالخصوص آئی سی ٹی اور سکیورٹی سے متعلق حساس نوعیت کی خریداری کے لئے مسابقتی اصول پر مبنی نظام وضع کیا گیا ہے جو شفاف آڈٹ کو یقینی بناتا ہے۔
ترجمان نادرا کے مطابق ان ریگولیشنز کی منظوری ادارے کی انتظامی اور قانونی بنیادوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے جن سے شہریوں کی ضروریات کے مطابق خدمات کی محفوظ فراہمی کے لئے نادرا کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے۔ شہریوں کی معلومات اور رہنمائی کے لئے تمام نئے ریگولیشنز کا مکمل متن نادرا کی ویب سائٹ پر فراہم کر دیا گیا ہے۔








