وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف رپورٹ کی اشاعت کو روکنے کے تاثر کو مسترد کر دیا

اسلام آباد۔1دسمبر (اے پی پی):وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے سینیٹ میں اس تاثر کو سختی سے مسترد کر دیا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کی گورننس اور کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ رپورٹ کی اشاعت میں تاخیر کی یا اسے روکنے کی کوشش کی۔ انہوں نےکہا کہ رپورٹ کے اجرا ءسے قبل اس کا جامع جائزہ لیا گیا جس میں وسیع مشاورت شامل تھی۔ پیر کو ایوان بالا کے …

اسلام آباد۔1دسمبر (اے پی پی):وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے سینیٹ میں اس تاثر کو سختی سے مسترد کر دیا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کی گورننس اور کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ رپورٹ کی اشاعت میں تاخیر کی یا اسے روکنے کی کوشش کی۔ انہوں نےکہا کہ رپورٹ کے اجرا ءسے قبل اس کا جامع جائزہ لیا گیا جس میں وسیع مشاورت شامل تھی۔ پیر کو ایوان بالا کے اجلاس میں سینیٹر کامران مرتضیٰ کی جانب سے پیش کردہ تحریک پر بحث سمیٹتے ہوئے وزیر خزانہ نے ایوان کو بتایا کہ آئی ایم ایف کی رپورٹ میں کرپشن کو ترقی کی راہ میں سنگین رکاوٹ قرار دیا گیا ہے تاہم اشاعت میں تاخیر کے دعوے غیر منطقی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نجی شعبے سے آیا ہوں، جب کوئی رپورٹ جاری ہوتی ہے تو اسے متعلقہ اداروں کو بھجوایا جاتا ہے، فیڈبیک لیا جاتا ہے، کچھ نکات شامل ہوتے ہیں اور کچھ نکات کو رد کر دیا جاتا ہے، یہ عمل دو سے اڑھائی ماہ بھی لے لیتا ہے، یہاں بھی یہی طریقہ کار اختیار کیا گیا، تقریباً 100 اجلاس ہوئے، 30 ادارے شامل تھے اور تفصیلی مشاورت کے بعد رپورٹ جاری کی گئی۔انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے پورے عمل میں مکمل سہولت فراہم کی اور رپورٹ نہ شائع کرنے کی کوئی وجہ موجود ہی نہیں تھی۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت مختلف نظاموں کی ڈیجیٹلائزیشن پر کام کر رہی ہے تاکہ لیکیج کو کم کیا جا سکے اور انسانی مداخلت ہٹاکر کرپشن پر قابو پایا جائے، جیسے جیسے انسانی عمل کم ہوتا ہے، کرپشن بھی کم ہوتی ہے۔انہوں نے گورننس میں بہتری، تکنیکی وزارتوں کی استعداد کار اور افسران کی تنخواہوں کے ڈھانچے سے متعلق نکات کی تائید کی اور کہا کہ یہ امور سول سروس ریفارمز کمیٹی کے زیر غور ہیں جس کی سربراہی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کر رہے ہیں جبکہ وہ خود بھی اس کے رکن ہیں۔

وزیر خزانہ نے ٹیکس اصلاحات پر بریفنگ کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایوان کی خواہش پر چیئرمین ایف بی آر افراد، طریقہ کار، ٹیکنالوجی اور تبدیلی سے متعلق ایک جامع پریزنٹیشن دے سکتے ہیں جو پہلے ہی سفارتخانوں، پاکستان بزنس کونسل، اوورسیز پاکستانیوں اور ترقیاتی شراکت داروں کو دی جا چکی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف ذاتی طور پر ’’کیش لیس اور ڈیجیٹل پاکستان‘‘ کے وژن کی نگرانی کر رہے ہیں جس کے لئے دسمبر 2025، جون 2026 اور دسمبر 2026 کی واضح ٹائم لائنز مقرر ہیں اور حکومت ایوان کی خواہش پر پیشرفت سے آگاہ کرے گی۔

بحث میں سینیٹرز جام صفی اللہ خان اور محمد عبدالقدیر نے بھی حصہ لیا اور گورننس کی خامیوں، ٹیکس انتظامیہ کی کمزوریوں اور ادارہ جاتی اصلاحات کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ارکانِ پارلیمنٹ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کرپشن کا خاتمہ اور گورننس کو مضبوط بنانا عوامی اعتماد کی بحالی اور پاکستان کی معاشی سمت کو مستحکم کرنے کے لئے ناگزیر ہے۔