اسلام آباد۔2دسمبر (اے پی پی):گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پائیدار اور جدید شہری نظام ترقی یافتہ معاشروں کی بنیاد ہیں، جدید، ماحول دوست اور منظم شہر نہ صرف معاشی ترقی کو تیز کرتے ہیں بلکہ سرمایہ کاری، روزگار اور معیارِ زندگی میں بھی نمایاں بہتری لاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) میں ’’پائیدار شہروں …
پائیدار اور جدید شہری نظام ترقی یافتہ معاشروں کی بنیاد ہیں،گورنر فیصل کریم کنڈی

مزید خبریں
اسلام آباد۔2دسمبر (اے پی پی):گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پائیدار اور جدید شہری نظام ترقی یافتہ معاشروں کی بنیاد ہیں، جدید، ماحول دوست اور منظم شہر نہ صرف معاشی ترقی کو تیز کرتے ہیں بلکہ سرمایہ کاری، روزگار اور معیارِ زندگی میں بھی نمایاں بہتری لاتے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) میں ’’پائیدار شہروں کی اہمیت اور ان کا سماجی و اقتصادی ترقی میں کردار‘‘ کے موضوع پر منعقدہ عالمی کانفرنس سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔
گورنر خیبرپختونخوا نے عالمی کانفرنس کے انعقاد پر منتظمین، ملکی و غیر ملکی محققین اور طلباء کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے علمی پروگرام جدید تحقیق، پالیسی سازی اور باہمی تعاون کے حوالے سے نئی راہیں کھولتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا تیز رفتار معاشی و تکنیکی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے اور ان چیلنجز سے نمٹنے کے لئے سمارٹ پلاننگ، مالی نظم و ضبط اور جدید مہارتوں سے لیس نوجوانوں کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا ایک ابھرتی ہوئی معیشت ہے جو توانائی، صنعت، آئی ٹی، سیاحت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے بہترین مواقع رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں جدید، محفوظ، ماحول دوست اور معاشی سرگرمیوں کے مراکز کے طور پر نئے شہروں کی تعمیر کے وسیع مواقع موجود ہیں، موسمیاتی و جغرافیائی طور پر خیبر پختونخوا ایسے منصوبوں کے لئے بہترین صلاحیت رکھتا ہے.
جو ملک کی مجموعی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ پشاور سمیت صوبے کے تمام شہروں کو ڈیجیٹل گورننس، جدید ٹرانسپورٹ، قابلِ تجدید توانائی اور بہتر شہری سہولیات کے ذریعے پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام ترقی پسند ہیں اور انہیں جدید شہری سہولیات پر مبنی معاشرتی نظام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ کانفرنس میں پیش کی جانے والی تجاویز اور تحقیق مستقبل کی معاشی و سماجی پالیسیوں کے لئے معاون ثابت ہوں گی۔








