اسلام آباد۔2دسمبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت خدمات، ضوابط اور ہم آہنگی کا اجلاس سینیٹر عامر ولی الدین چشتی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ چیئرمین نے مرحوم سینیٹر عرفان الحق صدیقی کو پارلیمنٹ کے لئے ان کی وقف خدمات اور قانون سازی کے عمل میں قیمتی خدمات پر خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کے لئے بھی دعا کی۔ کمیٹی …
سینیٹر عامر ولی الدین چشتی کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت خدمات، ضوابط اور ہم آہنگی کے اجلاس کا انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔2دسمبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت خدمات، ضوابط اور ہم آہنگی کا اجلاس سینیٹر عامر ولی الدین چشتی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ چیئرمین نے مرحوم سینیٹر عرفان الحق صدیقی کو پارلیمنٹ کے لئے ان کی وقف خدمات اور قانون سازی کے عمل میں قیمتی خدمات پر خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کے لئے بھی دعا کی۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر دو نجی اراکین کے بلوں ’’ذہنی صحت (ترمیمی) بل 2025‘‘ اور ’’ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ترمیمی) بل 2025‘‘ پر غور مؤخر کر دیا۔
اجلاس کے دوران کمیٹی کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اور سکول آف ڈینٹسٹری (ایس او ڈی )، شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی (ایس زیڈ اے بی ایم یو)کے درمیان انتظامی مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے کمیٹی کو مطلع کیا کہ پمز وزارت قومی صحت خدمات، ضوابط اور ہم آہنگی کے تحت کام کرتا ہے جبکہ ایس زیڈ اے بی ایم یو ایک خود مختار ادارہ ہے۔ یہ نوٹ کیا گیا کہ پمز ایکٹ 2023 کے تحت پمز کے احاطے میں کام کرنے والے کسی بھی محکمہ یا ادارے کو پمز انتظامیہ کے تحت کام کرنا ہوگا تاہم ایس زیڈ اے بی ایم یو کا موقف ہے کہ وہ ایک علیحدہ ادارے کے طور پر آزادانہ طور پر کام کرتا ہے۔
سینیٹر انوشہ رحمان احمد خان کی سفارش پر کمیٹی نے یہ معاملہ لا ء ڈویژن کو بھیجا اور ہدایت کی کہ پمز ایکٹ 2023 کے سیکشن 6، ذیلی شق 3 پر وضاحت فراہم کی جائے۔ انہوں نے مزید اس بات پر زور دیا کہ تمام متعلقہ قانونی دفعات کو ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں اداروں کے لئے ایک باہمی اتفاق کے قابل پالیسی فریم ورک تیار کیا جا سکے۔ چیئرمین نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ قابل عمل انتظامی حل پر اپنی رائے شیئر کریں۔ ایجنڈا آئٹم کو اگلی میٹنگ میں مزید غور و خوض کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔
سینیٹر انوشہ رحمان احمد خان نے پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں کے خدشات بھی اٹھائے جو اپنے تعلیمی سرٹیفکیٹس اور مساوی دستاویزات کی تصدیق میں نمایاں چیلنجز کا سامنا کرتے ہیں۔ انہوں نے امیدواروں کی غیر متعلقہ امتحانات میں شرکت کی رپورٹس کو اجاگر کیا۔ سینیٹر نے مزید بتایا کہ انٹر بورڈ کوآرڈینیشن کمیشن (آئی بی سی سی ) نے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے بعد اس کی تصدیق کے لئے 10,000 روپے وصول کئے۔
آئی بی سی سی کے دفتر کا ذاتی دورہ کرنے کے بعد انہوں نے پوسٹ گریجویٹ امیدواروں کی طویل قطاروں پر تشویش کا اظہار کیا جو پراسیسنگ کے منتظر ہیں۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ متعلقہ حکام کو اس معاملے پر کمیٹی کو بریفنگ دینے کے لئے طلب کیا جائے۔کمیٹی نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کی جانب سے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر معلومات کی رسائی کو بہتر بنانے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا۔ اطلاع دی گئی کہ مصنوعات اور سہولیات سے متعلق جامع تفصیلات آن لائن اپ لوڈ کی گئی ہیں۔
ڈریپ نے ایک نیا میڈیسن ایویلیبیلٹی ٹیب اور QR کوڈ پر مبنی شکایت کا نظام بھی متعارف کرایا ہے۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ 51 شکایات موصول ہوئی ہیں، جن میں سے 40 حل ہو چکی ہیں۔اجلاس میں سینیٹرز سید مسرور احسن اور انوشہ رحمان احمد خان نے شرکت کی۔
قومی صحت خدمات، ضوابط اور ہم آہنگی کے وزیر مملکت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھراتھ نے بھی کارروائی میں شرکت کی۔وزیر مملکت برائے قومی صحت خدمات، ضوابط اور ہم آہنگی نے کمیٹی کو پاکستان میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز پر بریفنگ دی۔ انہوں نے اراکین کو مطلع کیا کہ ایچ آئی وی کیسز میں اضافے کا جائزہ لینے کے لئے ملک گیر سروے جاری ہے اور دسمبر 2025 کے وسط تک مکمل ہو جائے گا۔ سروے کا ہدف نمونہ ٹرانسجینڈر افراد، منشیات استعمال کرنے والے، ہسپتال اور دیگر ہائی رسک گروپس پر مشتمل ہے۔








