وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کی ایف اے او کونسل اجلاس میں شرکت،غزہ میں انسانی اور غذائی بحران کو اجاگر کیا

روم۔2دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کی کونسل کے 179ویں اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں جو یکم سے 5 دسمبر 2025ء تک روم میں منعقد ہو رہا ہے۔ وفاقی وزیر کی شرکت عالمی غذائی تحفظ، زرعی لچک اور تعمیری کثیرالجہتی تعاون کے لیے پاکستان کے مضبوط عزم کی غماز …

روم۔2دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کی کونسل کے 179ویں اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں جو یکم سے 5 دسمبر 2025ء تک روم میں منعقد ہو رہا ہے۔ وفاقی وزیر کی شرکت عالمی غذائی تحفظ، زرعی لچک اور تعمیری کثیرالجہتی تعاون کے لیے پاکستان کے مضبوط عزم کی غماز ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب دنیا متعدد بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔

کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کی سخت مذمت کی اور غزہ میں پیدا ہونے والے تباہ کن انسانی اور غذائی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال نہایت سنجیدہ ہو چکی ہے جہاں بے گناہ شہری شدید محرومی، بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور سنگین خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری غزہ میں بڑھتے ہوئے انسانی المیے اور تیزی سے بگڑتی ہوئی غذائی سلامتی سے لاتعلق نہیں رہ سکتی۔

وفاقی وزیر نے انتہائی خطرناک اور جان لیوا حالات کے باوجود غزہ میں ایف اے او کی جاری کارروائیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ شدید خطرات کے باوجود ایف اے او کی موجودگی اس کے انسانیت دوست عزم کا ثبوت ہے اور فوری طور پر مضبوط بین الاقوامی حمایت کی متقاضی ہے۔ فیصلہ کن عالمی اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے فوری جنگ بندی، انسانی امداد کے بلا تعطل اور غیر مشروط داخلے اور مزید جانی نقصان کو روکنے اور مکمل قحط کے خطرے سے بچنے کے لیے عالمی برادری سے موثر کارروائی کی اپیل کی۔

پاکستان ایف اے او کا بانی رکن ہونے کے ناطے اس وقت 2024–2026 کی مدت کے لیے ایف اے او کونسل میں خدمات انجام دے رہا ہے۔ وفاقی وزیر نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان کو اتفاق رائے سے 2027–2029 کی مدت کے لیے بھی کونسل میں بلا مقابلہ منتخب کیا گیا ہے۔ انہوں نے اسے عالمی برادری کے پاکستان پر اعتماد، اس کے اصولی کردار، وسیع تجربے اور ایف اے او کے عالمی مشن کے لیے اس کی نمایاں خدمات کا اعتراف قرار دیا۔

انہوں نے اس بات کی جانب بھی توجہ دلائی کہ یہ دور ایف اے او کی آئندہ اہم اندرونی اصلاحات کے حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل ہے جو ادارے کی حکمرانی، کارکردگی اور مستقبل کی حکمت عملی پر دیرپا اثرات مرتب کریں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ایف اے او کی فنانس کمیٹی میں پاکستان کی موجودگی تنظیم کی بجٹ سازی اور انتظامی پالیسیوں کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ایف اے او کے کام کو مزید موثر وسائل کے انتظام، بہتر ادارہ جاتی احتساب اور کمزور غذائی نظاموں کی مضبوطی کے لیے بھرپور تعاون فراہم کرتا رہے گا۔کونسل اجلاس کے موقع پر وفاقی وزیر اہم دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے جن میں ڈی جی ایف اے او اور اطالوی وزیر زراعت کے ساتھ ملاقاتیں شامل ہیں جن کا مقصد زراعت، غذائی تحفظ اور صلاحیت سازی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینا ہے۔پاکستان ایف اے او کے سٹریٹجک فریم ورک کی مکمل حمایت جاری رکھتے ہوئے فعال، مثبت اور مسلسل شمولیت کے ذریعے بھوک کے خاتمے، زرعی لچک کے فروغ اور پائیدار غذائی نظام کے قیام کے عالمی اقدامات میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔