وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ کا خواتین اور بچیوں کے خلاف ہر قسم کے تشدد کے خاتمے کے لیے حکومت کے پختہ عزم کا اعادہ

اسلام آباد۔2دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے خواتین اور بچیوں کے خلاف ہر قسم کے تشدد، بالخصوص تیزی سے بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل تشدد کے خاتمے کے لیے حکومتِ پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے رواں سال کے عالمی موضوع ’’ خواتین اور بچیوں کے خلاف ڈیجیٹل تشدد کے خاتمے کے لیے متحد ہوں‘‘ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے …

اسلام آباد۔2دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے خواتین اور بچیوں کے خلاف ہر قسم کے تشدد، بالخصوص تیزی سے بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل تشدد کے خاتمے کے لیے حکومتِ پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے رواں سال کے عالمی موضوع ’’ خواتین اور بچیوں کے خلاف ڈیجیٹل تشدد کے خاتمے کے لیے متحد ہوں‘‘ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تیزی سے پھیلتی ہوئی ڈیجیٹل ترقی نے تعلیم، جدت، روزگار اور عوامی شرکت کے نئے مواقع فراہم کیے ہیں تاہم ان کے ساتھ آن لائن ہراسگی، سائبر اسٹاکنگ، جعلی پروفائلز، ڈیپ فیک کے غلط استعمال، بلیک میلنگ اور نفرت انگیز مواد جیسے سنجیدہ خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے منگل کو یہاں وزارتِ انسانی حقوق کی جانب سے اقوامِ متحدہ پاکستان اور اس کی رکن ایجنسیوں یو این ویمن، یو این ڈی پی، یونیسف، یو این ایف پی اے، آئی او ایم اور دیگر اداروں کے تعاون سے صنفی تشدد کے خلاف 16 روزہ مہم کے سلسلے میں پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) میں منعقدہ  قومی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں وفاقی و صوبائی نمائندگان، اقوامِ متحدہ کے عہدیداران، ترقیاتی شراکت دار، سول سوسائٹی کی تنظیمیں، نوجوان، میڈیا، فنکار اور ڈیجیٹل حقوق کے ماہرین شریک ہوئے۔

وفاقی وزیر سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ڈیجیٹل تشدد ایک حقیقت ہے اور اس کے اثرات دور رس ہیں۔ خواتین اور بچیاں جامعات، دفاتر، میڈیا، سیاست اور زندگی کے دیگر شعبوں میں روزانہ آن لائن بدسلوکی کا سامنا کرتی ہیں۔ خوف، سماجی دباؤ اور پیچیدہ شکایتی نظام کی وجہ سے بہت سی خواتین اپنی آواز بلند نہیں کر پاتیں۔ یہ صورتحال تبدیل ہونی چاہیے اور ہم اسے تبدیل کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔

وفاقی وزیر نے خواتین کے خلاف تشدد پر حکومت کے زیرو ٹالرنس مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے پاکستان کی بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں اور ملکی سطح پر جاری قانونی و ادارہ جاتی اقدامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے تحفظِ ہراسگی برائے خواتین درِ کار (ترمیمی) ایکٹ 2022، انسدادِ ریپ (تحقیق و ٹرائل) ایکٹ 2021، خواتین کے جائیداد کے حقوق کے نفاذ کا ایکٹ 2020 اور انسدادِ اسمگلنگِ انسان ایکٹ 2018 جیسے قوانین کا حوالہ دیا جبکہ نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن، فیملی پروٹیکشن سینٹر، اور 1099 ہیلپ لائن کے ذریعے فراہم کی جانے والی قانونی رہنمائی اور معاونت کو بھی سراہا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وزارتِ انسانی حقوق ٹیکنالوجی کے ذریعے کیے جانے والے صنفی بنیاد پر تشدد سے نمٹنے کے لیے قومی حکمتِ عملی تشکیل دے رہی ہے جبکہ خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کی قومی پالیسی کو بھی آخری مراحل تک پہنچایا جا رہا ہے، جو متاثرہ افراد کے حقوق پر مبنی جامع فریم ورک فراہم کرے گی۔

وفاقی وزیر نے میٹا سمیت تکنیکی اداروں کے ساتھ جاری تعاون کو بھی اہم قرار دیا، جس کے تحت آن لائن سیفٹی ٹولز، رپورٹنگ میکانزم اور متضررین کے تحفظ کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ روک تھام اور آگاہی دیرپا تبدیلی کا بنیادی ستون ہیں، اور حکومت تعلیمی اداروں، نوجوانوں کے نیٹ ورکس اور  کمیونٹی تنظیموں کے ساتھ مل کر ڈیجیٹل خواندگی، ذمہ دارانہ آن لائن سرگرمیوں اور محفوظ ڈیجیٹل ماحول کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہے۔