اسلام آباد۔3دسمبر (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان/چیئرمین نیشنل جوڈیشل (پالیسی میکنگ) کمیٹی (این جے پی ایم سی )جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ شہری مرکزیت، شفافیت اور برابری پر مبنی انصاف کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے اور مؤثر عدالتی نظام کی تعمیر کے لئے ڈیجیٹل اصلاحات کلیدی اہمیت رکھتی ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی جوڈیشل اکیڈمی اسلام آباد میں منعقدہ مشاورتی …
مؤثر عدالتی نظام کی تعمیر کے لئے ڈیجیٹل اصلاحات کلیدی اہمیت رکھتی ہیں، چیف جسٹس سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔3دسمبر (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان/چیئرمین نیشنل جوڈیشل (پالیسی میکنگ) کمیٹی (این جے پی ایم سی )جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ شہری مرکزیت، شفافیت اور برابری پر مبنی انصاف کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے اور مؤثر عدالتی نظام کی تعمیر کے لئے ڈیجیٹل اصلاحات کلیدی اہمیت رکھتی ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی جوڈیشل اکیڈمی اسلام آباد میں منعقدہ مشاورتی ورکشاپ ’’نیشنل ای-کورٹ ریفارم ایجنڈا ضروریات اور چیلنجز‘‘سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ورکشاپ میں سپریم کورٹ کے معزز جج جسٹس محمد علی مظہر، سیکرٹری وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن، چیئرمین پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی، سیکرٹری نیشنل کمیشن آن سٹیٹس آف ویمن، سیکرٹری لاء اینڈ جسٹس کمیشن، سپریم کورٹ و تمام ہائی کورٹس کے رجسٹرارز، آئی ٹی ماہرین اور ملک بھر کے سینئر عدالتی افسران نے شرکت کی۔
چیف جسٹس نے اس موقع پر نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی (این جے اے سی ) کے کردار کو سنگِ میل قرار دیا جس کی سربراہی سپریم کورٹ کے جج جسٹس محمد علی مظہر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این جے اے سی ، این جے پی ایم سی کے تحت ملک بھر کی عدالتوں میں ڈیجیٹل اقدامات کو ہم آہنگ کرنے اور ایک جدید، مؤثر اور قابلِ رسائی عدالتی ڈھانچے کی تشکیل کے لئے ادارہ جاتی بنیاد فراہم کر رہی ہے۔ورکشاپ کے دوران ہائی کورٹس کے رجسٹرارز اور پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے نمائندگان نے موجودہ ٹیکنالوجی ڈھانچے، ڈیجیٹلائزیشن میں پیشرفت اور نچلی عدالتوں کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ دی۔
شرکاء نے ایک مربوط قومی ای-کورٹ نظام، مشترکہ ڈیجیٹل ماسٹر پلان اور عدالتی اداروں کے مابین مؤثر روابط (Interoperability) کے قیام پر زور دیا۔ورکشاپ کا اختتام آئندہ لائحہ عمل کی منظوری پر ہوا جس میں سسٹمز کی تکنیکی ضروریات کی نشاندہی، صارف کے لئے آسان ڈیزائن پر مبنی سیشنز اور این جے پی ایم سی و این جے اے سی کی رہنمائی میں قومی ڈیجیٹل جسٹس فریم ورک کی تیاری شامل ہے۔








