اسلام آباد۔3دسمبر (اے پی پی):نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹرمحمد اسحاق ڈار سے کرغزستان کے وزیرِ خارجہ زین بیک کلولو بائیوو نے وزارت خارجہ میں ملاقات کی۔ بدھ کو دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق ملاقات کے دوران فریقین نے پاک–کرغزستان دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جن میں سیاسی، معاشی، توانائی، رابطہ، ثقافتی اور تعلیمی تعاون شامل ہیں جو صدرِ کرغزستان صادر ژپاروف کے دورہ …
نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار سے کرغزستان کے وزیرِ خارجہ کی ملاقات،باہمی دلچسپی کے امورسمیت علاقائی اور عالمی پیشرفت پر تبادلہ خیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔3دسمبر (اے پی پی):نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹرمحمد اسحاق ڈار سے کرغزستان کے وزیرِ خارجہ زین بیک کلولو بائیوو نے وزارت خارجہ میں ملاقات کی۔ بدھ کو دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق ملاقات کے دوران فریقین نے پاک–کرغزستان دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جن میں سیاسی، معاشی، توانائی، رابطہ، ثقافتی اور تعلیمی تعاون شامل ہیں جو صدرِ کرغزستان صادر ژپاروف کے دورہ پاکستان سے متعلق ہیں۔ دونوں اطراف نے ان مختلف دوطرفہ معاہدوں کا بھی جائزہ لیا جو اس دورے کے دوران دستخط کیے جائیں گے۔
فریقین نے پاکستان–کرغزستان دوطرفہ سیاسی مشاورت اور بین الحکومتی کمیشن کے باقاعدہ اجلاس منعقد کرنے پر اتفاق کیا تاکہ دوطرفہ تعلقات کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ اقتصادی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا اور اس بات پر اطمینان ظاہر کیا کہ دورے کے موقع پر بزنس فورم کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ دونوں وزرائے خارجہ نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کی جلد تکمیل سے 100 ملین امریکی ڈالر کی دوطرفہ تجارت کے ہدف کے حصول میں مدد ملے گی۔ دونوں اطراف نے CASA-1000 منصوبے کے بروقت اور مؤثر نفاذ کے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے پاکستان اور کرغزستان کے درمیان محفوظ، پائیدار اور متنوع رابطوں کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ دوطرفہ ہی نہیں بلکہ علاقائی تجارت کو بھی مزید فروغ دیا جا سکے۔نائب وزیرِ اعظم ووزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستانی طلبہ اور کارکنوں کی میزبانی پر کرغزستان حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا اور عوامی روابط کے فروغ کے لیے تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے اور بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اسحاق ڈار نے جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کو درپیش خطرات کو اجاگر کرتے ہوئے علاقائی ممالک کی جانب سے تحمل اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اپنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات کو بھی نمایاں کیا کہ جموں و کشمیر کے تنازعے کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق پرامن حل جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کے لیے ناگزیر ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے اور افغانستان کی سرزمین کو پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ افغانستان ایک مستحکم، علاقائی طور پر منسلک ملک ہو جو اپنے عوام اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن میں رہے۔ دونوں وزرائے خارجہ نے اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم (SCO)، او آئی سی اور ای سی او سمیت تمام فورمز پر قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا تاکہ خطے میں امن و سلامتی کے ساتھ ساتھ ترقی اور خوشحالی کو فروغ دیا جا سکے۔








