کسی قیدی سے سیاسی گفتگو کی اجازت نہیں ہوتی، بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں میں سیاسی معاملات پر گفتگو، ریاست کے خلاف لوگوں کو اکسانے جیسی سرگرمیاں رپورٹ ہو چکی ہیں، قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کی ملاقات بند کر دی جائے گی، عطاء اللہ تارڑ

اسلام آباد۔4دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ کسی قیدی سے سیاسی گفتگو کی اجازت نہیں ہوتی، بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کے دوران سیاسی معاملات پر گفتگو کرنا، ریاست کے خلاف لوگوں کو اکسانے سمیت دیگر سرگرمیاں رپورٹ ہو چکی ہیں۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کی ملاقات بند کر دی جائے گی، اگر جیل کے باہر امن و …

اسلام آباد۔4دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ کسی قیدی سے سیاسی گفتگو کی اجازت نہیں ہوتی، بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کے دوران سیاسی معاملات پر گفتگو کرنا، ریاست کے خلاف لوگوں کو اکسانے سمیت دیگر سرگرمیاں رپورٹ ہو چکی ہیں۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کی ملاقات بند کر دی جائے گی، اگر جیل کے باہر امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کا سختی سے نوٹس لیا جائے گا۔ جمعرات کو یہاں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹرز میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی 190 ملین پائونڈ کے میگا کرپشن کیس میں سزا یافتہ قیدی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی ایک خاتون رہنما نے بھارتی اور افغان میڈیا پر یہ تاثر دیا کہ بانی پی ٹی آئی کی جان کو خطرہ ہے حالانکہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں وہ سہولیات میسر ہیں جو کسی عام قیدی کو دستیاب نہیں، کسی قیدی کو ٹریڈ مل اور سائیکل جیسی سہولیات کبھی فراہم نہیں کی گئیں۔ بانی پی ٹی آئی روزانہ ڈیڑھ گھنٹہ ٹریڈ مل استعمال کرتے ہیں جبکہ ایک طرف عالمی میڈیا پر یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے، اس کا مقصد پاکستان کی حکومت اور اداروں کو بدنام کرنا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا صبح کا ناشتہ ایک غریب آدمی کی ہفتہ بھر کی خوراک کے برابر ہے جبکہ ملکی تاریخ میں کبھی کسی قیدی کو اس نوعیت کی سہولیات نہیں ملیں۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے اپنے دور میں منہ پر ہاتھ پھیر کر یہ کہا تھا کہ ”میں ان کے اے سی اتروائوں گا“ بانی پی ٹی آئی اس حد تک گئے کہ اپنی سیاسی مخالفت میں یہ تک کہا کہ مخالف کی بیٹی کو اس کے سامنے گرفتار کرو تاکہ اسے تکلیف پہنچے۔ یہ تمام باتیں جس لہجے، انداز اور غرور و تکبر کے ساتھ کہی گئیں، ان پر انہیں اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنی چاہئے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنیں نو مئی کو کور کمانڈر ہائوس کے باہر موجود تھیں اور ان کی موجودگی کے شواہد بھی موجود ہیں۔ اب یہ مسلسل اڈیالہ جیل میں امن و امان خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قواعد کے مطابق کسی قیدی سے سیاسی نوعیت کی گفتگو کی اجازت نہیں ہوتی اور یہ رپورٹ کیا گیا کہ ملاقات کے دوران سیاسی گفتگو ہوئی، اس لئے آج کے بعد عظمیٰ خان کی ملاقات پر بھی پابندی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات پر گفتگو کرنا، ریاست کے خلاف لوگوں کو اکسانے سمیت دیگر سرگرمیاں رپورٹ ہو چکی ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کی موجودگی میں ملاقاتیں ہوتی ہیں اور جو بھی قاعدے قانون کی خلاف ورزی کرے گا اس کی ملاقات بند کر دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر جیل کے باہر امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کا سختی سے نوٹس لیا جائے گا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ کوئی شخص جیل کے اندر بیٹھ کر بھارت اور افغانستان کا بیانیہ آگے بڑھائے اور باہر آ کر فوج اور اس کے سربراہ کے خلاف ٹویٹس کرے اور پورے نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے اور پھر بھارت اور افغانستان کے میڈیا کو انٹرویوز دیں۔

انہوں نے کہا کہ قواعد کی خلاف ورزی ہو تو قانون کسی صورت ملاقات کی اجازت نہیں دیتا، انہیں ایک موقع فراہم کیا گیا تھا مگر جس جس نے خلاف ورزی کی ہے ان کی ملاقاتیں بند کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے جیل کے اندر سے پیغامات آتے ہیں کہ اداروں کے خلاف ٹویٹ کیا جائے وہ صرف مایوسی کا اظہار ہے۔ عظمیٰ خان نے درست کہا کہ بانی پی ٹی آئی غصے اور فرسٹریشن میں تھے۔ انہیں سوچنا چاہیے تھا کہ میگا کرپشن کرنے جا رہے ہیں تو ان کی بھی باری آ سکتی ہے لیکن اس وقت یہ کہا کرتے تھے کہ ”میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا“ اس قسم کی گفتگو ان کی سیاست کا محور تھی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور میں مائوں، بہنوں اور بیٹیوں کو گرفتار کیا گیا۔

ان کے اپنے کرتوت یہ ہیں کہ 190 ملین پائونڈ کا میگا کرپشن سکینڈل کیا جس کا ان کے پاس آج تک کوئی قانونی جواب نہیں ہے۔ جب ان سے پوچھا جائے تو وہ جواب میں کہتے ہیں کہ ہم ریاست مدینہ کا نام لیتے تھے اس لئے سزا دی گئی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف کا کوئی رہنما اس کیس کا قانونی دفاع پیش نہیں کر سکا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ریاست نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اگر جیل کے باہر امن و امان کی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تو آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور اس حوالے سے زیرو ٹالرنس کی پالیسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ روز جیل کے باہر تماشا لگاتے ہیں، پولیس اہلکاروں کو دھکے دیتے ہیں جبکہ ہم خود بھی وکیل کے طور پر جیلوں میں جاتے رہے ہیں لیکن نہ کبھی سڑک بلاک کی اور نہ ہی امن و امان کی صورتحال پیدا کی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی جیل سے باہر آ کر ریاستی اداروں یا ملکی دفاع کے خلاف بات نہیں کی۔ ماضی میں جب میاں نواز شریف کی صحت خراب تھی اور ڈاکٹر عدنان تک رسائی نہیں ملتی تھی، تب بھی ہم نے اس طرح کا طرز عمل اختیار نہیں کیا۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی شخص کو ملاقات کی اجازت نہیں ملے گی۔ اگر لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا کی گئی تو ریاست اپنی رٹ یقینی بنائے گی۔ اس میں کوئی ابہام نہ رہے، اس حوالے سے ہدایات دی جا چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو قانون کے مطابق ہی جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملاقاتوں کا مقصد قانونی مشاورت اور خیریت دریافت کرنا ہوتا ہے لیکن جیل میں بیٹھ کر یہ ریاست کو کمزور کرنے کی بات کرتے ہیں، اس ریاست کو جس نے بھارت کو شکست دی اور اپنے مشرقی و مغربی سرحدی دفاع کو مضبوط بنایا۔

انہوں نے کہا کہ آج دنیا پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تعریف کر رہی ہے مگر یہ اپنی روش سے باز نہیں آ رہے۔ یہ چاہتے ہیں کہ ملک کا دفاع کمزور ہو اور ریاست کی سالمیت متاثر ہو۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ انہوں نے ملک کے ڈیفالٹ کی دعائیں کیں لیکن اللہ کے کرم سے معیشت نے ٹیک آف کیا، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھے، مہنگائی میں کمی آئی اور آج بھی ملکی معیشت کا موازنہ کیا جائے تووہ اس سے کہیں بہتر ہے جو پی ٹی آئی چھوڑ کر گئی۔ انہوں نے کہا کہ ”اڑان پاکستان“ کے تحت معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا مقصد صرف ”میں، میں اور میں ہے“ مکمل انا پرستی اور ذاتی مفاد کے لئے قومی مفاد کو قربان کرنا ہی ان کا طرز عمل رہا ہے، ملک و قوم ان کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتے، کبھی یہ غلامی کا نعرہ لگاتے ہیں اور کبھی اسے تسلیم کرتے ہیں۔ ہر معاملے پر یوٹرن لیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہداء کی یادگاروں کی بے حرمتی پہلے کبھی نہیں ہوئی لیکن پی ٹی آئی نے شہداء کا مذاق تک اڑایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کی انا کے سامنے قومی مفاد کو سرنڈر کر دیا جائے جو کسی صورت قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے پاکستان ہے اور پاکستان ہمیشہ زندہ باد رہے گا، یہ اپنے ذاتی مقاصد میں ناکام ہی رہیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا این ایف سی اجلاس میں شرکت کرنا خوش آئند امر ہے، یہی ان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اب سڑکوں کی سیاست سے ہٹ کر اجلاسوں میں شریک ہو رہے ہیں۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ انہیں ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں بھی شریک ہونا چاہئے اور اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم متعدد بار یہ پیشکش دوہرا چکے ہیں کہ صوبے کی بہتری اور عوام کی بھلائی کے لئے مل کر کام کرنے کو تیار ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سماجی رابطے کے پلیٹ فارم”ایکس“ پر ایک فیچر متعارف ہو گیا ہے جس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ ایکس اکائونٹ کس ملک سے آپریٹ ہو رہا ہے، پی ٹی آئی کے آدھے اکائونٹ انڈیا اور آدھے افغانستان سے چل رہے ہیں، اب اس میں کوئی ابہام نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں قانون اور آئین موجود ہے، ایک سزا یافتہ مجرم جو کرپشن کے کیس میں قید ہے، اسے یہ اجازت نہیں کہ وہ اس طرح کا بیانیہ پھیلا سکے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں لاہور سے تحریک انصاف کے چار چار امیدوار کھڑے تھے، ہری پور میں صوبائی مشینری کے باوجود یہ الیکشن ہار گئے، تحریک انصاف کی ایڈمنسٹریشن، پولیس اور عملہ ان کا اپنا تھا اور وہاں سے مسلم لیگ (ن) کا سیاسی ورکر بابر نواز جیت کر آیا، پی ٹی آئی کے جھوٹ، مکر اور فریب پر کسی کو دھیان نہیں دینا چاہئے۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کو سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے درخواست موصول ہوئی ہے کہ معمول کی ملاقاتوں میں مشکلات کا سامنا ہے اور صورتحال پریشانی کا باعث بن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب لاء اینڈ آرڈر خراب نہیں ہونے دیا جائے گا اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔