اسلام آباد۔4دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی واصلاحات وخصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے جمعرات کے روز وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی کے تیسرے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس کا مقصد گوادر میں پانی اور بجلی کے بار بار پیش آنے والے بحران کا مستقل حل تلاش کرنا اور گلگت بلتستان (جی بی) اور گوادر کے جاری و مجوزہ توانائی منصوبوں کا جائزہ لینا تھا۔ …
احسن اقبال کی زیر صدارت گلگت بلتستان اور گوادر میں توانائی منصوبوں پر اجلاس،24 ارب روپے کا جی بی سولر منصوبہ زیر غور، وفاقی وزیر کی تیز رفتار عملدرآمد کی ہدایت

مزید خبریں
اسلام آباد۔4دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی واصلاحات وخصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے جمعرات کے روز وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی کے تیسرے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس کا مقصد گوادر میں پانی اور بجلی کے بار بار پیش آنے والے بحران کا مستقل حل تلاش کرنا اور گلگت بلتستان (جی بی) اور گوادر کے جاری و مجوزہ توانائی منصوبوں کا جائزہ لینا تھا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری سمیت متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ حکومت جی بی اور گوادر کے عوام کو درپیش دیرینہ بجلی بحران کے حل کے لیے پرعزم ہے، کیونکہ بلا تعطل بجلی نہ صرف معاشی سرگرمیوں کے لیے ضروری ہے بلکہ پائیدار ترقی اور خدمات کی فراہمی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق گلگت بلتستان سے متعلق توانائی منصوبوں کو انتہائی ترجیح دی جا رہی ہے اور انہیں مقررہ وقت کے اندر مکمل کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان کے عوام کو مناسب اور قابلِ اعتبار بجلی فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور اس کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں جی بی کے توانائی منصوبوں کے تیز رفتار عملدرآمد کے لیے ایک جامع ایکشن پلان منظور کر لیا گیا ہے جس کے تحت جون 2026ء تک علاقے کو 100 میگاواٹ اضافی بجلی فراہم کی جائے گی۔اجلاس میں 100 میگاواٹ ڈسٹری بیوٹڈ فوٹو وولٹائیک (ڈی پی وی) سولر منصوبے کی پیشرفت کا جائزہ بھی لیا گیا جو جی بی کے مختلف مقامات پر زیر تعمیر ہے۔
اس منصوبے میں 18 میگاواٹ کا روف ٹاپ سولر سسٹم اور 82 میگاواٹ کا یوٹیلیٹی اسکیل سسٹم شامل ہے جس کی مجموعی لاگت 24 ارب روپے ہے۔وزیر منصوبہ بندی نے ہدایت کی کہ سولرائزیشن پروگرام کے بروقت آغاز کو یقینی بنایا جائے اور اس کے لیے ضروری بجٹ فوری طور پر مختص کیا جائے تاکہ مہنگے اور غیر پائیدار ذرائع پر انحصار کم ہو سکے۔اجلاس میں گوادر کے 1.9 ارب روپے مالیت کے سولرائزیشن منصوبے جس میں پمپنگ سٹیشنز اور ڈیسالینیشن پلانٹ کی سولر توانائی پر منتقلی شامل ہے، کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ اس منصوبے کی سرمایہ واپسی کی مدت صرف 2.7 سال ہے جو اس کی معاشی اور تکنیکی افادیت ثابت کرتا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ گرڈ سٹیبیلٹی سٹڈی مکمل ہو چکی ہے جبکہ پسنی (132 کے وی) پر 50 MVAR سٹیٹ کام کی تنصیب اور گوادر میں مقامی بجلی پیدا کرنے کے پلانٹ (132 کے وی) کی تکمیل اکتوبر تا دسمبر 2026ء کے درمیان متوقع ہے۔پروفیسر احسن اقبال نے ہدایت کی کہ سٹیٹ کام کی مقررہ وقت میں تنصیب یقینی بنائی جائے اور سولرائزیشن کے منصوبوں کو تیز کیا جائے تاکہ گوادر میں پانی کی فراہمی کو دیرپا بنیادوں پر بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہاکہ گوادر میں سستی اور مستحکم بجلی کی فراہمی محض تکنیکی مسئلہ نہیں، یہ شہریوں کی زندگیوں اور ترقیاتی منصوبوں کے مستقبل سے جڑی بنیادی ضرورت ہے۔
اجلاس میں وزیر منصوبہ بندی نے اس بات پر زور دیا کہ گوادر کی توانائی فراہمی کے ساتھ بندرگاہ کی سروسز کے معیار میں بہتری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موثر کارکردگی بھی ضروری ہے تاکہ ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات معاشی سرگرمیوں میں بدل سکیں۔انہوں نے ہدایت کی کہ بلوچستان حکومت اور گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) کے ساتھ مکمل ہم آہنگی قائم رکھی جائے۔ پروفیسر احسن اقبال نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ گلگت بلتستان اور گوادر کے عوام کو قابلِ بھروسہ بجلی کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں تمام منصوبوں کو مقررہ ٹائم لائنز کے مطابق مکمل کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات دونوں خطوں میں نہ صرف معیارِ زندگی کو بہتر بنائیں گے بلکہ پائیدار ترقی کی بنیاد بھی ثابت ہوں گے۔








