ایوان بالا کے اجلاس میں جمعہ کو بلوچستان اور کراچی میں بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس اور عوامی اہمیت کے معاملات پر تفصیلی بحث

اسلام آباد۔5دسمبر (اے پی پی):ایوان بالا کے اجلاس میں جمعہ کو بلوچستان اور کراچی میں بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس اور عوامی اہمیت کے معاملات پر تفصیلی بحث کی گئی۔ مختلف سینیٹرز نے ملک بھر خصوصاً کراچی اور بلوچستان میں بجلی و گیس کی فراہمی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے ایوان کو جواب دیتے ہوئے کہا …

اسلام آباد۔5دسمبر (اے پی پی):ایوان بالا کے اجلاس میں جمعہ کو بلوچستان اور کراچی میں بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس اور عوامی اہمیت کے معاملات پر تفصیلی بحث کی گئی۔ مختلف سینیٹرز نے ملک بھر خصوصاً کراچی اور بلوچستان میں بجلی و گیس کی فراہمی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔

وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے ایوان کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وسائل تمام صوبوں کے لیے برابر ہیں اور کسی صوبے کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جا رہا۔ملک کے کسی حصے میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نہیں ہو رہی جبکہ اعلانیہ لوڈشیڈنگ ایک واضح طریقہ کار کے تحت کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کا براہِ راست تعلق لائن لاسز سے ہے، جہاں لائن لاسز زیادہ ہوں گے وہاں لوڈ مینجمنٹ میں مسائل پیدا ہوں گے۔ایرانی سرحد سے تیل کی سمگلنگ روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔یہ تاثر درست نہیں کہ پاک ایران سرحد کو بند کر دیا گیا ہے،سرحد کھلی ہے اور معمول کے مطابق آپریشنل ہے۔

سینیٹر سید وقار مہدی نے مختلف علاقوں میں بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ کے الیکٹرک پاکستان میں بجلی فراہم کرنے والی واحد نجی کمپنی ہے۔کراچی کے مختلف علاقوں میں ہفتے میں تین سے چار دن طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے۔مسئلہ چند علاقوں تک محدود نہیں بلکہ پورا کراچی متاثر ہے۔گیس کی لوڈشیڈنگ بھی مسلسل جاری ہے جس سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔سینیٹر مسرور احسن نے کہا کہ عوام کے دس ہزار روپے کے بقایا پر بھی میٹر منقطع کر دیا جاتا ہے۔

رمضان قریب ہے، اور ہر سال کی طرح اس بار بھی سحری و افطار میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کے اعلانات ہوں گے، مگر عملی طور پر مسائل برقرار رہتے ہیں۔حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ ہے کہ اس مسئلے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جائے اور مستقل حل فراہم کیا جائے۔اراکین سینیٹ نے اس معاملے کو عوامی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام سے بجلی و گیس کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کی سفارش کی۔