کامسٹیک اور تھائی لینڈ کے سفارتخانہ کے اشتراک سے بین الاقوامی سمپوزیم برائے ’’حلال سائنس اینڈ ویلنیس‘‘ کا انعقاد

اسلام آباد۔5دسمبر (اے پی پی):کامسٹیک اور تھائی لینڈ کے سفارتخانہ کے اشتراک سے منعقدہ بین الاقوامی سمپوزیم برائے ’’حلال سائنس اینڈ ویلنیس‘‘ میں ماہرین نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر ہم آہنگ حلال معیارات کے قیام، سائنسی بنیادوں پر تصدیق شدہ ٹیسٹنگ طریقہ کار اور جدید ٹیکنالوجیز جیسے مالیکیولر اینالیسس، بلاک چین ٹریس ایبلٹی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی رسک اسیسمنٹ کے فوری اور وسیع تر نفاذ کی ضرورت …

اسلام آباد۔5دسمبر (اے پی پی):کامسٹیک اور تھائی لینڈ کے سفارتخانہ کے اشتراک سے منعقدہ بین الاقوامی سمپوزیم برائے ’’حلال سائنس اینڈ ویلنیس‘‘ میں ماہرین نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر ہم آہنگ حلال معیارات کے قیام، سائنسی بنیادوں پر تصدیق شدہ ٹیسٹنگ طریقہ کار اور جدید ٹیکنالوجیز جیسے مالیکیولر اینالیسس، بلاک چین ٹریس ایبلٹی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی رسک اسیسمنٹ کے فوری اور وسیع تر نفاذ کی ضرورت ہے۔ سمپوزیم میں مختلف مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے ممتاز سائنسدانوں، سفارتکاروں، پالیسی سازوں اور ریگولیٹری اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ سمپوزیم کا مقصد عالمی حلال ایکو سسٹم کے مضبوط، شفاف اور معتبر مستقبل کے لئے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنا تھا۔کوآرڈینیٹر جنرل کامسٹیک پروفیسر ڈاکٹر ایم اقبال چوہدری نے سمپوزیم کا افتتاح کرتے ہوئے کہا ہے کہ حلال انڈسٹری کی مالیت اس وقت 1.3 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔

انہوں نے عالمی سطح پر یکساں معیارات، لیبارٹری صلاحیتوں میں اضافے اور سائنسی تعاون کے فروغ پر زور دیا۔ انہوں نے پاکستان اور تھائی لینڈ کے درمیان حلال شعبے میں بڑھتے ہوئے اشتراک کو بھی سراہا۔سمپوزیم کے مہمانِ خصوصی تھائی سفیر رونگودھی ویرابوتر نے کہا کہ آلودگی کی نشاندہی کرنے والے جدید آلات، مالیکیولر تجزیہ اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام حلال سرٹیفکیشن کے عمل کی شفافیت اور افادیت میں نمایاں بہتری لا سکتے ہیں۔ایس ایم آئی آئی سی کے سیکرٹری جنرل پروفیسر احسان اووت نے کہا کہ ماہرین کی رہنمائی میں تیار کردہ عالمی سطح پر ہم آہنگ حلال معیارات بین الاقوامی منڈیوں میں اعتماد، یکسانیت اور ساکھ کو یقینی بنانے کے لئے نہایت اہم ہیں۔سمپوزیم میں ایران، صومالیہ، فلسطین، انڈونیشیا، ملائیشیا، تھائی لینڈ، یوگنڈا، بنگلہ دیش، بینن، کیمرون، گیبون، آئیوری کوسٹ اور سینیگال سے 30 سے زائد غیر ملکی مندوبین جبکہ پاکستان سے بھی بڑی تعداد میں نمائندوں نے شرکت کی۔

پروفیسر ڈاکٹر اقبال چوہدری نے بتایا کہ ایس ایم آئی آئی سی حلال معیارات کے قیام میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اور کامسٹیک و ایس ایم آئی آئی سی کے اشتراک سے ازبکستان، یوگنڈا، بنگلہ دیش، مراکش اور پاکستان میں پانچ علاقائی تربیتی پروگرام منعقد کئے جا چکے ہیں جن میں 300 سے زائد لیبارٹری ماہرین کو حلال معیارات اور ٹیسٹنگ کی تربیت دی گئی۔انہوں نے اسلامی ترقیاتی بینک کے تعاون سے یوگنڈا کی اسلامی یونیورسٹی میں حلال اتھنٹیکیشن لیبارٹری کے قیام کے منصوبے کا بھی اعلان کیا جو آئندہ سال کے آغاز میں فعال ہو جائے گی اور مشرقی افریقہ کے کئی ممالک کو خدمات فراہم کرے گی۔

اس موقع پر حلال سائنس میں نئےسکالرشپ پروگراموں کا اعلان بھی کیا گیا۔سمپوزیم کے اہم مقررین میں چولالونگکورن یونیورسٹی تھائی لینڈ کے حلال سائنس سینٹر کی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر پورن پِمول محماد اور پاکستان حلال اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل اختر اے بھگٹو شامل تھے۔ سمپوزیم میں کامسٹیک اور چولالونگکورن یونیورسٹی کے حلال سائنس سینٹر کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کئے گئے جس کا مقصد سائنسی تحقیق، استعداد کار میں اضافے اور حلال سائنس کے فروغ میں باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔سمپوزیم کا اختتام گروپ فوٹو، تکنیکی پریزنٹیشنز اور حلال ٹیسٹنگ، معیارات اور عالمی رجحانات پر ماہرین کی تفصیلی گفتگو کے ساتھ ہوا۔