قومی ڈیجیٹل ایسٹ فریم ورک پر عالمی و مقامی مالیاتی رہنماؤں کے ساتھ اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس

اسلام آباد۔5دسمبر (اے پی پی):قومی ڈیجیٹل ایسٹ فریم ورک کی پیشرفت پر اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس جمعہ کو منعقد ہوا جس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور چیئرمین پی وی آرا (PVARA) بلال بن ثاقب نے کی۔اجلاس میں گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان، ملکی بینکوں کے صدور و ایگزیکٹوز اور بائنانس کے عالمی سی ای او رچرڈ ٹینگ سمیت سینئر قیادت نے شرکت کی۔اجلاس میں ملک …

اسلام آباد۔5دسمبر (اے پی پی):قومی ڈیجیٹل ایسٹ فریم ورک کی پیشرفت پر اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس جمعہ کو منعقد ہوا جس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور چیئرمین پی وی آرا (PVARA) بلال بن ثاقب نے کی۔اجلاس میں گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان، ملکی بینکوں کے صدور و ایگزیکٹوز اور بائنانس کے عالمی سی ای او رچرڈ ٹینگ سمیت سینئر قیادت نے شرکت کی۔اجلاس میں ملک میں محفوظ، منظم اور جدت پر مبنی ڈیجیٹل ایسٹ ایکو سسٹم کی تشکیل کے اگلے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ خصوصاً انفراسٹرکچر کی ذمہ دارانہ فعالیت، بہتر کمپلائنس، مارکیٹ میں شفافیت کے فروغ اور باقاعدہ مالیاتی اداروں کے ساتھ بہتر انضمام پر زور دیا گیا۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان ٹیکنالوجی کی جدت کو فروغ دینے کے لئے مضبوط اور مستقبل میں ریگولیٹری ماحول کے قیام کے لئے پرعزم ہے جبکہ قومی اقتصادی مفادات کا تحفظ بھی اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتی اداروں، لائسنس یافتہ عالمی ایکسچینجز اور ملکی بینکوں کے درمیان قریبی تعاون ادائیگیوں کے نظام کو جدید بنانے، مالی شمولیت کو بڑھانے اور بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگی کے لئے بے حد ضروری ہے۔بائنانس کے وفد جس کی قیادت سی ای او رچرڈ ٹینگ کر رہے تھے نے عالمی رجحانات اور پاکستان کے تیزی سے بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل ایسٹ سیکٹر پر تفصیلی گفتگو کی۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل ایسٹس کو تیزی سے اپنانا ایک ناقابلِ واپسی عالمی رجحان کی نشاندہی کرتا ہے اور شہریوں کے زیرِ ملکیت ورچوئل ایسٹس کو باقاعدہ نگرانی کے ڈھانچے میں لانا ایک اہم معاشی موقع ہے جس سے مالی شفافیت بڑھے گی، کریڈٹ ویلیوایشن میں بہتری آئے گی اور قومی اثاثہ جاتی رپورٹنگ مضبوط ہوگی ،بغیر اس کے کہ ڈیجیٹل ایسٹس کو قانونی ٹینڈر کا درجہ دیا جائے۔

اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان کے سالانہ 38 ارب ڈالر کے ترسیلاتِ زر کے اخراجات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اسی طرح مقامی ٹیلنٹ کی تیاری اور بِلڈنگ کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ بڑھتی ہوئی عالمی طلب کو پورا کیا جا سکے اور پاکستانی نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔اجلاس میں خود مختار قرضوں کی ٹوکنائزیشن پر بھی بات چیت ہوئی جس سے لیکویڈیٹی میں اضافہ، سرمایہ کاروں کی رسائی میں توسیع اور پاکستان کو بلاک چین پر مبنی مالیاتی آلات کے شعبے میں ریجنل لیڈر کے طور پر ابھرنے کا موقع ملے گا۔شرکاء نے ٹیکسیشن اور کمپلائنس کے عملی فریم ورک کے اصولوں پر بھی گفتگو کی جن میں لائسنس یافتہ ایکسچینجز کو بنیادی نگرانی دینا، بتدریج کیپیٹل گینز اسٹرکچر تیار کرنا اور محدود مدت کے لئے ایمنسٹی پر غور شامل تھا تاکہ صارفین اپنی ڈیجیٹل سرمایہ کاری باقاعدہ پلیٹ فارمز پر منتقل کر سکیں۔

اس کے ساتھ مضبوط ویریفیکیشن اور رسک مِٹیگیشن سسٹمز کی ضرورت پر زور دیا گیا۔اجلاس میں ورچوئل ایسٹ سروس پرووائیڈرز کے لیے منظم لائسنسنگ نظام کی تیاری کا بھی جائزہ لیا گیا، جس سے شفافیت میں اضافہ، عالمی AML/CFT معیارات کی تکمیل، ادارہ جاتی سرمایہ کاری کے امکانات اور صارفین کے تحفظ کو بہتر بنایا جا سکے گا۔بینکوں کے صدور نے رسک مینجمنٹ، کسٹڈی، کمپلائنس اور ریگولیشن کے حتمی نفاذ کے بعد ممکنہ تعاون پر اپنے نقطہ نظر پیش کئے۔وزیرِ خزانہ نے کہا کہ ایک منظم ماحول مارکیٹ کے استحکام میں مدد دے گا اور صارفین کو لائسنس یافتہ ملکی پلیٹ فارمز کی طرف منتقل ہونے کی ترغیب دے گا جس سے پاکستان میں ایک ذمہ دار، جدید اور عالمی معیار کا ڈیجیٹل ایسٹ ماحول قائم ہو سکے گا جو معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے فروغ میں معاون ہو گا۔

چیئرمین پی وی آرا بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان کے پاس ایک منفرد موقع ہے کہ وہ عالمی اصولوں کو صرف اپنائے نہیں بلکہ ان کی تشکیل میں قائدانہ کردار ادا کرے۔ انہوں نے ریگولیٹرز، بینکوں اور عالمی ایکسچینجز کے باہمی رابطے کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ایسٹس کو ایک اہم مالیاتی انفراسٹرکچر کے طور پر دیکھا جانا چاہئے جو مالی شمولیت، بینکنگ سہولیات تک رسائی اور بینکوں کے لئے نئی مصنوعات، زیادہ ڈپازٹس اور نئے کسٹمر سیگمنٹس کے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔ بلال بن ثاقب نے پاکستان فرسٹ اپروچ کے عزم کا اعادہ کیا جو کثیر سٹیک ہولڈر تعاون، ریگولیٹری ہم آہنگی اور ریگولیٹری سینڈ باکسز کے قیام کے ذریعے ذمہ دار ڈیجیٹل اپنانے کو یقینی بناتا ہے۔انہوں نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور بین الاقوامی بہترین روایات کی روشنی میں مسلسل تعاون، کیپیسٹی بلڈنگ اور نالج شیئرنگ کی ضرورت پر زور دیا۔