اسلام آباد۔5دسمبر (اے پی پی):پاکستان نے خودمختاری سے متعلق امور پر چین کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے، سعودی عرب میں افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا اور سری لنکا کو بھیجے جانے والے اپنے انسانی امداد کے سامان کے لئے پرواز کی اجازت میں بھارت کی جانب سے تاخیر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بھارت کے اس اقدام کو غیر …
خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے معاملہ میں چین کی مکمل حمایت کرتے ہیں، افغان طالبان حکومت سے مذاکرات کی کوئی مصدقہ اطلاع نہیں، سری لنکا کیلئے امدادی پرواز میں بھارتی تاخیرہنگامی حالات کے تقاضوں کے منافی ہے، ترجمان دفتر خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد۔5دسمبر (اے پی پی):پاکستان نے خودمختاری سے متعلق امور پر چین کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے، سعودی عرب میں افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا اور سری لنکا کو بھیجے جانے والے اپنے انسانی امداد کے سامان کے لئے پرواز کی اجازت میں بھارت کی جانب سے تاخیر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بھارت کے اس اقدام کو غیر معمولی آفت سے نمٹنے کی فوری ضرورت کے منافی قرار دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ سفیر طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران صحافیوں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے متعدد علاقائی اور دو طرفہ مسائل کا احاطہ کیا۔ بھارت میں اروناچل پردیش کے نام سے جانی جانے والی زانگنان کے حوالے سے چینی بیانات پر سوالات کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان خودمختاری اور علاقائی سالمیت سے متعلق معاملات میں چین کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
افغان اور پاکستانی میڈیا میں اسلام آباد اور افغان طالبان حکومت کے درمیان سعودی عرب میں مذاکرات کی خبروں کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ ایسی ملاقاتوں کی تصدیق کے لیے کوئی معلومات موجود نہیں ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ جب کوئی قابل اعتبار معلومات دستیاب ہوں گی تو پاکستان تفصیلات شیئر کرے گا۔ ترجمان سفیر طاہر حسین اندرابی نے بابری مسجد کے انہدام کے 33 سال مکمل ہونے کے حوالے سے اسے ایک ایسا واقعہ قرار دیا جو اب بھی گہرے غم اور تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ بھارتی مسلمانوں کی حمیت کی علامت ہے اور بین الاقوامی برادری سے مسلم مذہبی ورثے کے تحفظ کو یقینی بنانے کا متقاضی ہے۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ تمام مذہبی اقلیتوں کے برداشت، شمولیت اور مساوی شہریت کے حق کو برقرار رکھے۔
افغانستان کو انسانی امداد کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی انسانی ہمدردی کے سامان کی رہائی کی منظوری دی ہے جو اقوام متحدہ کی ایجنسیوں بشمول عالمی ادارہ خوراک، یونیسف اور یو این ایف پی کی درخواست پر دی گئی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ امداد افغانستان میں تین مراحل میں منتقل ہوگی، ابتدا میں غذائی اشیاء، پھر دواسازی اور طبی آلات اور آخر میں تعلیم و صحت سے متعلق کھیپ پر مشتمل ہوگی۔ تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ اس فیصلے کا مقصد سرحدی راستوں کو باقاعدہ تجارت کے لیے دوبارہ کھولنا نہیں ہے جو اس وقت تک بند رہیں گے جب تک افغان طالبان حکومت پاکستان کے دہشت گردی کے حوالے سے سکیورٹی خدشات دور کرنے کو یقینی نہ بنا لے۔
اقوام متحدہ کی ایک جاری کردہ رپورٹ پر ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ افغان طالبان اور بھارت کے درمیان بڑھتا ہوا رابطہ علاقائی استحکام کے لیے نقصان دہ ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ایسے روابط تاریخی طور پر موجود تھے لیکن صرف اس وقت تشویش کا باعث بنتے ہیں جب وہ پاکستان کے خلاف ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کو کسی بھی دو ممالک کے درمیان معمول کے بین الریاستی تعاون پر کوئی اعتراض نہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے پاکستان کی جانب سے اسرائیلی جاسوسی نظام کے مبینہ استعمال کے الزامات کے جواب میں ترجمان نے ان دعوئوں کو ’’افواہ پھیلانے والی غلط معلومات‘‘ قرار دیا اور پاکستان اور اسرائیل کے درمیان ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کی کسی بھی تجویز کو سختی سے مسترد کر دیا۔میانمار سے 38 پاکستانیوں کی رہائی کے بارے میں ترجمان نے تصدیق کی کہ میانمار اور تھائی لینڈ میں پاکستان کے دونوں مشن ان کی محفوظ واپسی کے لیے کوششوں کو مربوط بنا رہے ہیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے دونوں ممالک کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
سعودی عرب، ترکیہ اور قطر کی پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان ممکنہ ثالثی کی کوششوں پر بار بار سوالات کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ سعودی عرب میں ایسی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کے ترک ثالثی کے حوالے سے پہلے اعلان کا خیرمقدم کرتا ہے اور جب بھی مقرر ہو، ترک وفد کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار رہا ہے، لیکن یہ وفد افغان فریق سے منسلک وجوہات کی بناء پر نہیں پہنچا۔ ترجمان نے افغان طالبان کے ترجمان کے سرحدی ضمانتوں کے بارے میں بیان کو پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کی انسانی امداد کے لیے محدود سرحد کھولنے کی غلط فہمی قرار دیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرحد بند کرنا بار بار سرحد پار حملوں کے بعد ازخود دفاع کا قانونی عمل ہے اور یہ اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک افغان فریق پاکستان کو یقین نہیں دلاتا کہ اس کی سرزمین سے کوئی دہشت گرد عنصر کارروائی نہیں کرے گا۔افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی کے بیانات کے بارے میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے کبھی بھی افغانستان کے کسی ریاست کے ساتھ دو طرفہ تعلقات پر اعتراض نہیں کیا۔انہوں نے پاکستان کی جانب سے مبینہ طور پر مطلوب اور برطانیہ میں موجود افراد کے بارے میں سوالات وزارت داخلہ کو بھی بھیجے اور کہا کہ پاکستانی اور برطانوی حکام کے حالیہ اجلاس وزارت داخلہ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ بھارت کے اس دعوے پر سوالات کے جواب میں کہ پاکستان کی سری لنکا ریلیف کے لیے پرواز کی منظوری میں تاخیر پر تنقید "بھارت مخالف” ہے، ترجمان نے کہا کہ اسلام آباد کے پاس دستاویزی ثبوت موجود ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت نے پاکستان کی درخواست جمع کرانے کے تقریبا دو دن بعد پرواز کے لئے غیر معمولی چھ گھنٹے کی مدت دی تھی۔
انہوں نے کہا کہ انسانی امداد میں اگر حد سے زیادہ تاخیر کی جائے تو موثر طور پر ضائع ہو جاتی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ برطانیہ کی یونیورسٹیوں کی جانب سے پاکستانی طلبہ کے داخلے روکنے کی رپورٹس پر اٹھائے گئے خدشات کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی اور پاکستان کا لندن میں ہائی کمیشن ان اداروں سے وضاحت کے لیے رابطہ کر رہا ہے۔ انہوں نے افغانستان میں دکھائے گئے نقشوں کی رپورٹس پر بھی جواب دیا جن میں ’’گریٹر پشتونستان‘‘ دکھائے گئے ہے اور اس عمل کو بے معنی ’’ڈرامائی اشارہ‘‘ قرار دیا اور یاد دلایا کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحدیں طے شدہ اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ہیں۔
ترجمان نے مزید وضاحت کی کہ پاکستان پہلے ہی امریکہ میں ایک افغان نژاد فرد کی گرفتاری کے حوالے سے بیان جاری کر چکا ہے اور کہا کہ اسلام آباد واشنگٹن کے ساتھ طلبہ اور کاروباری افراد کے لیے ویزا رسائی پر بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔ روس کے صدر پیوٹن کے بھارت کے دورے اور ایک بڑے دفاعی معاہدے کی قیاس آرائیوں کے بارے میں ترجمان نے کہا کہ دونوں ممالک خودمختار ممالک ہیں جو دو طرفہ تعلقات جاری رکھنے کے لیے آزاد ہیں اور پاکستان کا دورہ مکمل ہونے تک کوئی مخصوص موقف نہیں ہے۔بریفنگ کے اختتام پر ترجمان نے پاکستان کے علاقائی امن، انسانی امداد، انسداد دہشت گردی کے خدشات اور پڑوسی ممالک کے ذمہ دارانہ رویے کی ضرورت پر موقف کا اعادہ کیا۔








