وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے دوحہ فورم میں پاکستان کی معاشی کامیابیوں کو اجاگر کیا، قطر کا جی سی سی–پاکستان ایف ٹی اے کے نئے دور کا اعلان

اسلام آباد۔6دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے دوحہ فورم کے 23ویں ایڈیشن میں پاکستان کی معاشی استحکام کی کوششوں اور کامیابیوں کو اجاگر کیا جبکہ قطر نے آزادانہ تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کے تحت جی سی سی-پاکستان تجارت کے نئے دور کا اعلان کیا ہے۔ ہفتہ کو وزارت خزانہ سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے دوحہ میں 6 …

اسلام آباد۔6دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے دوحہ فورم کے 23ویں ایڈیشن میں پاکستان کی معاشی استحکام کی کوششوں اور کامیابیوں کو اجاگر کیا جبکہ قطر نے آزادانہ تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کے تحت جی سی سی-پاکستان تجارت کے نئے دور کا اعلان کیا ہے۔ ہفتہ کو وزارت خزانہ سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے دوحہ میں 6 اور 7 دسمبر 2025ء کو شیراٹن گرینڈ میں منعقدہ دوحہ فورم کے 23 ویں ایڈیشن میں ایک اعلیٰ سطحی پینل کے مایہ ناز اسپیکر کی حیثیت سے شرکت کی۔ وزیر خزانہ کو دوحہ فورم، قطر کی وزارت خزانہ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے مشترکہ طور پر "عالمی تجارتی کشیدگی: مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ پر معاشی اثرات اور پالیسی جوابات” کے عنوان سے سیشن میں شراکت کے لیے مدعو کیا گیا۔ اس سیشن میں تجارتی تنازعات، تحفظ پسندانہ پالیسیوں اور عالمی سپلائی چینز میں تبدیلیوں سے مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ کے خطے کی معیشتوں پر پڑنے والے اثرات پر گفتگو ہوئی۔

اپنے خطاب میں سینیٹر محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ کے پروگرام کے بعد پاکستان کی جانب سے میکرو اکنامک استحکام حاصل کرنے میں کی گئی پیش رفت پر روشنی ڈالی اور ٹیکسیشن، توانائی، سرکاری اداروں کی اصلاحات اور پرائیویٹ سیکٹر کی ترقی میں مسلسل ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی اہمیت پر زور دیا۔ عالمی تجارتی ماحول پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے نئی ٹیرف پالیسیوں کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ تعمیری مذاکرات کیے ہیں اور اہم ٹیکسٹائل برآمدات پر 19 فیصد کے نسبتاً بہتر ٹیرف حاصل کیے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بدلتے ہوئے تجارتی حالات نے پاکستان کو مصنوعات میں تنوع، خاص طور پر آئی ٹی سروسز کی برآمدات (جو اس سال تقریباً 4 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے) اور جغرافیائی تنوع، یعنی خلیجی ممالک اور آذربائیجان، ترکمانستان اور قازقستان جیسے وسط ایشیائی ریپبلک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو وسعت دینے پر آمادہ کیا ہے۔

پاکستان کی مالیاتی استحکام اور بیرونی خطرات کو برداشت کرنے کی صلاحیت سے متعلق سوالات کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے مالیاتی بفرز کو دوبارہ تعمیر کیا ہےجس میں بنیادی مالیاتی توازن اور کرنٹ اکاؤنٹ دونوں سرپلس میں ہیں اور اس میں مشرق وسطیٰ اور جی سی سی خطے سے سالانہ 18 سے 20 ارب ڈالر کی مضبوط ترسیلات زر کا اہم کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان جغرافیائی سیاسی عدم یقین کے تناظر میں چوکنا ہے مگر آب و ہوا کی تبدیلی اور آبادیاتی دباؤ زیادہ اہم خطرات ہیں۔سینیٹر اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں نے اس سال جی ڈی پی کی شرح نمو میں کم از کم 0.5 فیصد کی کمی کی ہے، جس کے لیے آب و ہوا کے تحفظ کے لیے فنانسنگ اور مضبوط بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی فوری ضرورت ہے۔

انہوں نے استحکام سے ترقی کی جانب پائیدار منتقلی کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ قطر کے وزیر خزانہ علی بن احمد الکواری نے پاکستان کے ساتھ قطر کے مضبوط اور پھیلتے ہوئے شراکت دار تعلقات پر تفصیل سے بات کرتے ہوئے پاکستان کو برادر ملک قرار دیا اور ایل این جی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ زرعی و ٹیکسٹائل اشیاء کی قطر کی درآمدات سمیت دوطرفہ تجارتی تعلقات کی گہرائی پر زور دیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان اور گلف کوآپریشن کونسل (جی سی سی) کے درمیان حال ہی میں طے پانے والا آزادانہ تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے)، جو کئی سالوں میں جی سی سی کا پہلا ایف ٹی اے ہے، ایک اہم سنگ میل ہے جو پاکستان اور خلیجی معیشتوں کے درمیان تجارتی بہاؤ اور تعاون میں نمایاں اضافہ کرے گا۔انہوں نے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں پاکستان کی صلاحیتوں کو سراہا،

جو عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی دوڑ تیز ہونے کے ساتھ دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔ قطر کے وزیر خزانہ نے مصنوعی ذہانت کی حکمت عملی اور صلاحیتیں بڑھانے کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ تعاون میں قطر کی گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی ہنر مند افرادی قوت اور دونوں معیشتوں کے درمیان ہم آہنگی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ قطر کے پاکستان کے ساتھ تعلقات مضبوط، کثیرالجہتی ہیں اور اب ایف ٹی اے کے نافذ ہونے سے مزید وسعت کے لیے تیار ہیں۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر بو لی نے پاکستان کی اصلاحات اور استحکام کے سفر کی تعریف کرتے ہوئے پاکستان کو "اصلاحات اور استحکام کی صحیح راہ پر گامزن ہونے کی ایک بہترین مثال” قرار دیا۔

انہوں نے بتایا کہ 7 ارب ڈالر کے اسٹیبلائزیشن پروگرام کے علاوہ، آئی ایم ایف پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کے خلاف مالیاتی، مالی اور جسمانی استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے 1.3 ارب ڈالر کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (آر ایس ایف) بھی فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ پروگرام پاکستان کو گرین بجٹنگ، مالیاتی ضابطہ کاری میں موسمیاتی خطرات کے جائزے کو شامل کرنے، موسمیاتی ڈیٹا کی شفافیت بہتر بنانے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے مضبوط بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی میں معاون ثابت ہوگا۔ مسٹر لی نے موسمیاتی خطرات کے انتظام اور طویل المدتی استحکام کی تعمیر میں پاکستان کے اقدامات کی حمایت کے آئی ایم ایف کے مضبوط عزم کا اعادہ کیا۔ بحث میں پاکستان کے چین اور امریکہ دونوں کے ساتھ تعلقات پر بھی بات چیت ہوئی۔

سینیٹر اورنگزیب نے اس بات کی اعادہ کیا کہ پاکستان کا نکتہ نظر عملی اور قومی مفادات پر مرکوز ہے اور پاکستان دونوں بڑی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک دوسرے کے لیے معاون سمجھتا ہے۔ انہوں نے سی پیک کے دوسرے مرحلے کی جانب منتقلی کا ذکر کیا، جو حکومت سے حکومت کے بنیادی ڈھانچے سے کاروبار سے کاروبار کی سرمایہ کاری کی طرف منتقلی ہے اور امریکہ کے ساتھ معدنیات و کان کنی اور مصنوعی ذہانت، بلاک چین اور ویب 3.0 جیسی ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز میں ابھرتے ہوئے تعاون پر روشنی ڈالی۔ ڈیجیٹل محاذ پر وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان نے ایک کرپٹو کونسل قائم کی ہے اور وہ ورچوئل اثاثوں کے لیے ایک ایسا ضابطہ کار مرتب کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو سرمایہ کے فرار جیسے خطرات کو کم کرے اور منی لانڈرنگ کے خلاف تحفظ کو مضبوط بنائے گا۔پاکستان کی نوجوان آبادی اور دنیا میں فری لانسنگ کرنے والے تیسرے سب سے بڑے کمیونٹی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ سینیٹر اورنگزیب نے زور دیا کہ بلاک چین، مصنوعی ذہانت اور جدید ڈیجیٹل مہارتوں میں تربیت پاکستانی نوجوانوں کے لیے مواقع میں تیزی سے اضافہ کر سکتی ہے، جو انہیں بنیادی کوڈنگ میں 10-12 ڈالر فی گھنٹہ سے ماہر شعبوں میں 60-250 ڈالر فی گھنٹہ تک کمانے کے قابل بنا سکتی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ یہ منتقلی پاکستان کی مستقبل کی ترقی کے لیے ایک بڑا معاشی موقع ہے۔بعد ازاں سینیٹر محمد اورنگزیب اور قطر کے وزیر خزانہ علی بن احمد الکواری نے پینل ڈسکشن کے بعد دوطرفہ ملاقات کی جس میں تعاون کے ان شعبوں کو آگے بڑھانے پر بات چیت ہوئی جو مباحثے کے دوران سامنے آئے ۔ دونوں اطراف نے نئے طے پانے والے جی سی سی-پاکستان آزادانہ تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) سے پیدا ہونے والے مواقع کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرتے ہوئے، تجارتی بہاؤ کو وسعت دیتے ہوئے اور طویل المدتی ایل این جی تعاون سمیت توانائی کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانے پر اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

دونوں وزراء نے ابھرتے ہوئے شعبوں، خاص طور پر مصنوعی ذہانت میں شراکت بڑھانے پر بھی اتفاق کیا، جہاں قطر جدید صلاحیتیں تعمیر کرنا چاہتا ہے اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل افرادی قوت کو ایک اہم اثاثہ سمجھتا ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، مہارتوں کی ترقی اور ضابطہ کاری کی اصلاحات پر تعاون پر بات چیت کی اور تجارتی تنوع، ٹیکنالوجی، موسمیاتی استحکام اور سرمایہ کاری میں آسانی کے مشترکہ کام کو آگے بڑھانے کے لیے باقاعدہ میکانزم قائم کرنے پر اتفاق کیا۔ دونوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان-قطر تعلقات اسٹریٹجک ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔