مسلم ممالک کو خطابات اور نعروں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات، مضبوط تجارتی نیٹ ورکس، موثر سرمایہ کاری نظام اور اختراعی شراکت داری کی بنیاد رکھنی چاہیے ، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا کوالالمپور میں تیسرے گلوبل مسلم بزنس فورم 2025 سے خطاب

کوالالمپور۔8دسمبر (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کوالالمپور میں منعقدہ تیسرے گلوبل مسلم بزنس فورم 2025 سے خطاب کرتے ہوئے مسلم دنیا کے درمیان اقتصادی تعاون، اختراع اور مشترکہ ترقی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔چیئرمین سینیٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسلم ممالک کو محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی اور مربوط معاشی حکمت عملی اپنانی چاہیے تاکہ تجارت، سرمایہ کاری اور …

کوالالمپور۔8دسمبر (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کوالالمپور میں منعقدہ تیسرے گلوبل مسلم بزنس فورم 2025 سے خطاب کرتے ہوئے مسلم دنیا کے درمیان اقتصادی تعاون، اختراع اور مشترکہ ترقی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔چیئرمین سینیٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسلم ممالک کو محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی اور مربوط معاشی حکمت عملی اپنانی چاہیے تاکہ تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کے نئے راستے کھولے جا سکیں۔

انہوں نے زور دیا کہ مشترکہ منصوبوں ، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور کاروباری تعاون کے ذریعے مسلم ممالک اپنی اجتماعی معاشی صلاحیت کو بھرپور انداز میں بروئے کار لا سکتے ہیں۔اس موقع پر فورم میں انڈونیشیا سے پروفیسر دین شام الدین، برطانیہ سے سر اقبال سکرینی، اسلامی چیمبر آف کامرس، انڈسٹری اینڈ ٹیکنالوجی کے ڈاکٹر وائل، مائیکل ڈاتو اقبال اور سرواک کے ڈپٹی پریمیئر داتو امات حاجی اوانگ سمیت عالمی سطح کی اہم شخصیات نے شرکت کی۔سید یوسف رضا گیلانی نے اسلامی مالیاتی نظام ، فِن ٹیک اور پائیدار سرمایہ کاری کو مسلم دنیا میں معاشی استحکام اور ترقی کا اہم ذریعہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور اختراعات کے بغیر پائیدار معاشی ترقی ممکن نہیں، اس لیے مسلم ممالک کو تحقیق و ترقی پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے پاکستان میں موجود ابھرتے ہوئے معاشی مواقع پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی نوجوان اور باصلاحیت آبادی، پھیلتی ہوئی صارفین کی منڈی اور تیزی سے ترقی کرتا ہوا اختراعی ماحولیاتی نظام سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش مواقع فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے ملائیشیا کے کاروباری حلقوں کو اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے ذریعے پاکستان میں سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کی دعوت دی۔

چیئرمین سینیٹ نے اپنے خطاب کے اختتام پر اس بات پر زور دیا کہ مسلم ممالک کو محض خطابات اور نعروں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات، مضبوط تجارتی نیٹ ورکس، موثر سرمایہ کاری نظام اور اختراعی شراکت داری کی بنیاد رکھنی چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال مسلم دنیا کی تشکیل کے لیے اپنے شراکت دار ممالک کے ساتھ ہر سطح پر تعاون کے لیے تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ باہمی اتحاد، مشترکہ وژن اور عملی تعاون ہی مسلم دنیا کو معاشی خود کفالت اور عالمی سطح پر مضبوط مقام دلانے کا واحد راستہ ہے۔