اسلام آباد۔16دسمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کا 18واں اجلاس منگل کو ایم این اے سید امین الحق کی زیر صدارت منعقد ہوا، قائمہ کمیٹی نے انٹرنیٹ خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے فوری اور موثر اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ منگل کو منعقد ہونے والے اجلاس میں کمیٹی نے کہا کہ ہر اجلاس میں معزز ممبران کی جانب سے …
رکن قومی اسمبلی سید امین الحق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کا 18واں اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔16دسمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کا 18واں اجلاس منگل کو ایم این اے سید امین الحق کی زیر صدارت منعقد ہوا، قائمہ کمیٹی نے انٹرنیٹ خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے فوری اور موثر اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ منگل کو منعقد ہونے والے اجلاس میں کمیٹی نے کہا کہ ہر اجلاس میں معزز ممبران کی جانب سے جو شکایات اٹھائی جاتی ہیں وہ زیادہ ترپی ٹی اے کی خدمات کے معیار بالخصوص انٹرنیٹ سروسز سے متعلق ہوتی ہیں۔
کمیٹی نے کہا کہ عام لوگوں کو انٹرنیٹ خدمات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے اور کئی علاقوں میں انٹرنیٹ خدمات کی دستیابی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ کمیٹی نے اس صورتحال کو حل کرنے کے لئے ہدایت کی کہ انٹرنیٹ خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے فوری اور موثر اقدامات کئے جائیں۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ آئندہ فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی کا عمل مکمل طور پر منصفانہ، آزادانہ اور شفاف طریقے سے منعقد کیا جائے، تمام قانونی اور ریگولیٹری (کوڈل) کی مکمل تعمیل کو یقینی بنایا جائے۔
کمیٹی اراکین نے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی ) کی کاوشوں کو سراہا اور اس کی کارکردگی کو قابل ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ این آئی ٹی بی بہترین کام کر رہا ہے اور اس کے منصوبے وسیع تر قومی مفاد میں ہیں۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ این آئی ٹی بی اسی عزم اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنا کام جاری رکھے۔ مزید برآں کمیٹی نے ہدایت کی کہ قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کے تمام معاملات کو ای-آفس سسٹم کے ذریعے پروسیس اور منظور کیا جائے اور کمیٹی کو مکمل طور پر پیپر لیس بنایا جائے۔
اس سلسلے میں ہدایت کی گئی کہ تمام بریفنگ اور ایجنڈا آئٹمز معزز ممبران کو آئندہ اجلاسوں سے قبل انہیں پہلے سے فراہم کردہ ٹیبلٹس پر دستیاب کرایا جائے تاکہ آئی ٹی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس مکمل طور پر پیپر لیس طریقے سے منعقد کئے جا سکیں۔ کمیٹی نے ڈیجیٹل میڈیا بل 2025 میں فحاشی اور بے حیائی کی روک تھام پر غور کیا جسے ایم این اے شاہدہ رحمانی نے پیش کیا۔
بحث کے دوران نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے اپنے مشاہدات پیش کئے کہ اس نوعیت کی قانون سازی پہلے سے موجود ہے۔ اس لئے علیحدہ قانون کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں قانونی دفعات اوورلیپنگ ہو جائیں گی۔ این سی سی آئی اے نے مزید واضح کیا کہ ڈیجیٹل میڈیا سے متعلق ایسے تمام معاملات پہلے ہی پیکا ایکٹ کے تحت آتے ہیں۔ ان مشاہدات کے پیش نظر معزز رکن نےاین سی سی آئی اے کی ہدایات کو تسلیم کرتے ہوئے اور سمجھتے ہوئے، اپنا بل واپس لے لیا۔
مزید برآں، کمیٹی نے معزز اراکین کو ہدایت کی کہ وہ این سی سی آئی اے سے مشورہ کریں اور اس بات کا جائزہ لیں کہ آیا موجودہ قانون میں کوئی اضافی دفعات درکار ہیں، اور اگر ایسا ہے تو اسےپیکا ایکٹ اور موجودہ سائبر کرائم قانونی فریم ورک میں شامل کیا جا سکتا ہے، تاکہ نئی اتھارٹی کی تشکیل سے بچا جا سکے اور اوور لیپنگ کے مسئلے کو مؤثر طریقے سے حل کیا جا سکے۔ اجلاس میں ایم این ایز احمد عتیق انور، ذوالفقار علی بھٹی، سید علی قاسم گیلانی، ڈاکٹر مہیش کمار ملانی، صادق علی میمن، شرمیلا فاروقی، احمد سلیم صدیقی، آسیہ اسحاق صدیق، پلین بلوچ اور بل کی محرک شاہدہ رحمانی نے شرکت کی۔







