قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بحری امور کا اجلاس،سانحہ اے پی ایس پشاور کے شہدا کو خراجِ عقیدت

اسلام آباد۔16دسمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بحری امور کو بتایا گیا ہے کہ عوام کی فلاح و بہبود اور سہولت کیلئے ایک سہولت مرکز کے قیام کی تجویز زیر غور ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بحری امور کا اجلاس منگل کو چیئرمین عبدالقادر پٹیل کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔ اجلاس میں سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کو خراجِ عقیدت …

اسلام آباد۔16دسمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بحری امور کو بتایا گیا ہے کہ عوام کی فلاح و بہبود اور سہولت کیلئے ایک سہولت مرکز کے قیام کی تجویز زیر غور ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بحری امور کا اجلاس منگل کو چیئرمین عبدالقادر پٹیل کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔ اجلاس میں سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش اور فاتحہ خوانی کی گئی۔اجلاس کے دوران کمیٹی نے مشترکہ طور پر اے پی ایس کے شہدا ء کو خراجِ عقیدت پیش کیا، ساتھ ہی ملک بھر میں مختلف واقعات میں جان قربان کرنے والے تمام دیگر فوجیوں اور شہریوں کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا،

ان کی درجات کی بلندی، مرحومین کی مغفرت اور لواحقین کے لئے صبر و استقامت کی دعا کی۔کمیٹی نے مشترکہ طور پر کمیٹی سیکرٹری کوملازمت سے سبکدوش ہونے پر ان کو گرمجوشی سے الوداع کیا۔چیئرمین اور اراکین نے سیکرٹری کمیٹی کی جانب سے کئی سالوں تک دی جانے والی مخلصانہ، ایماندارانہ اور قابلِ قدر خدمات کی تعریف کی ، ان کی پیشہ وارانہ مہارت، عزم اور پارلیمانی عمل میں ان کی نمایاں خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے مستقبل میں ان کیلئے صحت اور کامیابی کی دعا کی۔

اجلاس کے دوران گزشتہ اجلاس کے منٹس کی توثیق اور سفارشات پر عملدرآمد کی رپورٹس پر غور کیا گیا۔ جن سفارشات پر عملدرآمد کے حوالہ سے کمیٹی مطمئن تھی انہیں نمٹا دیا گیا جبکہ دیگر پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مزید کارروائی کی سفارش کی گئی۔ ایس آر فنڈز کے استعمال اور کراچی پورٹ ٹرسٹ کی طرف سے کے جی ٹی ایل اور کے جی ٹی ایم ایل کے ساتھ دستخط شدہ اصل معاہدوں کو کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کے معاملہ کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزارت کی جانب سے جمع کرائے گئے تحریری جوابات کا جائزہ لینے اور اس حوالہ سے اگر ضرورت ہوئی تو الگ سے اجلاس کا اہتمام کئے جانے پر اتفاق کیا گیا۔

لیز پالیسی کے حوالہ سے کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ اس کی بورڈ سے منظوری ہو چکی ہے اور اس پر عمل جاری ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ فائر فائٹرز پراجیکٹ آئوٹ سورس کرنے سے سالانہ ساڑھے تین کروڑ روپے کی بچت ہو رہی ہے جبکہ ماہرین کی بلاتعطل اور مسلسل خدمات بھی حاصل ہو رہی ہیں جو محکمہ جاتی سطح پر ممکن نہیں ہو سکتیں۔ کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ عوام کی فلاح و بہبود اور سہولت کے لئے ایک فیسیلیٹیشن سینٹر کے قیام کی تجویز زیرِ غور ہے۔

کمیٹی نے انوائرنمینٹلی ساؤنڈ مینجمنٹ آف انوینٹری آف ہیزرڈس میٹریل آن شپس بل، 2025، پورٹ قاسم اتھارٹی (ترمیمی) بل 2025، گوادر پورٹ اتھارٹی (ترمیمی) بل، 2025 اور کراچی پورٹ ٹرسٹ (ترمیمی) بل 2025 پر غور کیا۔ دو اراکین نے ان بلز کی مختلف شقوں پر اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے بلز کے تمام پہلوئوں کا جائزہ لینے کیلئے انہیں آئندہ اجلاس تک مؤخر کرتے ہوئے ہدایت کی کہ جن اراکین کے پاس کوئی تجاویز مشاہدات یا مجوزہ ترامیم ہوں وہ انہیں یکم جنوری 2026 تک کمیٹی کے سیکرٹری کو تحریری طور پر جمع کرائیں تاکہ ان پر غور کیا جا سکے ۔