اسلام آباد۔17دسمبر (اے پی پی):وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی زیرصدارت لیتھیئم آئن بیٹری پالیسی سے متعلق بدھ کواجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیرمملکت برائے فنانس و ریلوے بلال اظہر کیانی نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں سیکرٹری انڈسٹریز سیف انجم، سی ای او انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ حماد منصور سمیت متعلقہ وزارتوں، نجی اور عوامی شعبے کے نمائندگان شریک ہوئے۔ اجلاس کے دوران پاکستان …
معاون خصوصی ہارون اختر خان کی زیر صدارت لیتھیئم آئن بیٹری پالیسی سے متعلق اجلاس
اسلام آباد۔17دسمبر (اے پی پی):وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی زیرصدارت لیتھیئم آئن بیٹری پالیسی سے متعلق بدھ کواجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیرمملکت برائے فنانس و ریلوے بلال اظہر کیانی نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں سیکرٹری انڈسٹریز سیف انجم، سی ای او انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ حماد منصور سمیت متعلقہ وزارتوں، نجی اور عوامی شعبے کے نمائندگان شریک ہوئے۔ اجلاس کے دوران پاکستان میں لیتھیئم آئن بیٹریز کی مقامی پیداوار، مینوفیکچرنگ اور پالیسی فریم ورک پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ہارون اختر خان نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت کے مطابق لیتھیئم آئن بیٹریز کی مقامی مینوفیکچرنگ کے فروغ کے لیے جامع پالیسی تیار کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں لیتھیئم آئن سیلز اور اس کے اجزاء درآمد کر کے مقامی سطح پر اسیمبل کیے جاتے ہیں، جبکہ نئی پالیسی کے ذریعے مکمل مقامی مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی نے کہا کہ جدید تکنیکوں کے استعمال سے صنعتوں کو پاور سیونگ اور پیداواری صلاحیت میں نمایاں فائدہ ہوگا۔
انہوں نے زور دیا کہ پالیسی میں مقامی مینو فیکچرنگ کے فروغ کے لیے ضروری اور مؤثر اقدامات شامل کیے جائیں۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ وزارتِ تجارت کے مطابق لیتھیئم آئن بیٹریز کے خام مال کی درآمد پر زیرو ٹیکس جبکہ مکمل بیٹری پر 12 فیصد ٹیکس عائد ہے۔ مزید برآں، وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی بیٹریز کی ٹیسٹنگ، سرٹیفیکیشن اور معیار کی جانچ میں صنعت کو سہولت فراہم کرے گی۔
ہارون اختر خان نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو پالیسی کی تشکیل میں اپنی آراء اور تجاویز دینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے لیتھیئم آئن بیٹری پالیسی کی تیاری کے لیے تین ورکنگ گروپس تشکیل دیتے ہوئے ہدایت دی کہ ورکنگ گروپس کی مشاورت سے پالیسی کو حتمی شکل دی جائے اور دو ہفتوں کے اندر رپورٹ پیش کی جائے۔









