اقوام متحدہ ۔17دسمبر (اے پی پی):پاکستان نے کہا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیرقانونی یہودی آبادکاری میں خطرناک حد تک ہونے والے اضافے کو فوری طور پر روکے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 (2016) پر مکمل عملدرآمد کرے۔اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں قرارداد 2334 پر سہ ماہی بحث کے دوران کہا کہ مقبوضہ علاقوں کی …
اسرائیل مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیرقانونی آبادکاری فوری ختم ،بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 پر عملدرآمد کرے ، پاکستان
اقوام متحدہ ۔17دسمبر (اے پی پی):پاکستان نے کہا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیرقانونی یہودی آبادکاری میں خطرناک حد تک ہونے والے اضافے کو فوری طور پر روکے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 (2016) پر مکمل عملدرآمد کرے۔اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں قرارداد 2334 پر سہ ماہی بحث کے دوران کہا کہ مقبوضہ علاقوں کی آبادیاتی، قانونی یا تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوئی بھی کوشش، بشمول بیت المقدس کے اطراف، غیرقانونی ہے اور اسے واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے اسرائیل کی جانب سے قرارداد 2334 پر عملدرآمد سے انکار کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کی کسی بھی قرارداد کو یکطرفہ طور پر ’’غیر مؤثر‘‘ یا ’’پرانا‘‘ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کی قراردادیں اس وقت تک مؤثر اور قابلِ عمل رہتی ہیں جب تک ان پر مکمل عمل نہ ہو جائے۔سفیر عاصم احمد نے کہا کہ فلسطینی عوام کئی دہائیوں سے غیرقانونی قبضے، بے دخلی اور اپنے ناقابلِ تنسیخ حقوق سے محرومی کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے ایک آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف اصولی اور مستقل رہا ہے۔
پاکستانی مندوب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت اور امن کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں امن منصوبہ اور شرم الشیخ سمٹ منعقد ہوئی، جس نے خطے اور عالمی برادری کو فوری ترجیحات پر متحرک کیا، جن میں خونریزی کا خاتمہ، جنگ بندی کا تسلسل، انسانی بحران سے نمٹنا، قیدیوں اور یرغمالیوں کی رہائی اور فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب قابلِ اعتماد سیاسی عمل کی بحالی شامل ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ جنگ بندی کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے اور کسی بھی یکطرفہ فوجی کارروائی سے گریز ضروری ہے، جبکہ غزہ سے اسرائیلی افواج کا انخلا ناگزیر ہے۔پاکستانی مندوب نے مقبوضہ بیت المقدس میں اقوامِ متحدہ کے ادارے یواین آر ڈبلیو اے کے ہیڈکوارٹر پر دھاوے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام کی امداد میں ادارے کا کردار نہایت اہم ہے اور اسے بلاجواز تنقید کے ذریعے کمزور نہیں کیا جانا چاہیے۔انہوں نے شرم الشیخ میں پیدا ہونے والی پیش رفت کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کا مرکزی کردار ناگزیر ہے۔
ساتھ ہی محصور فلسطینیوں تک انسانی امداد کی مکمل، محفوظ اور بلا رکاوٹ رسائی یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ تباہ حال غزہ کی تعمیرِ نو میں بلا تاخیر آغاز کیا جانا چاہیے اور اس عمل میں کسی قسم کے الحاق، جبری بے دخلی یا فلسطینی زمین کی تقسیم کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ احتساب ناگزیر ہے، کیونکہ انصاف اور بین الاقوامی قانون کے احترام کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔
پاکستانی مندوب نے اس بات پر زور دیا کہ ایک مقررہ مدت پر مبنی اور ناقابلِ واپسی سیاسی عمل، متعلقہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی بنیاد پر، 1967 سے قبل کی سرحدوں کے مطابق القدس الشریف کو دارالحکومت بنانے والی ایک خودمختار، آزاد اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام پر منتج ہونا چاہیے، جو خطے میں دیرپا امن اور استحکام کی ضمانت ہے۔









