اسلام آباد۔17دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان کا طبی نظام شدید دباؤ اور زبوں حالی کا شکار ہے جسے بہتر بنانے کے لئے کم وقت میں زیادہ اور مؤثر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ بدھ کو شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لاء کے سکول آف ڈینٹسٹری میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ …
پاکستان کے طبی نظام کو بہتر بنانے کے لئے کم وقت میں زیادہ اور مؤثر کام کرنے کی ضرورت ہے، سید مصطفیٰ کمال
اسلام آباد۔17دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان کا طبی نظام شدید دباؤ اور زبوں حالی کا شکار ہے جسے بہتر بنانے کے لئے کم وقت میں زیادہ اور مؤثر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ بدھ کو شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لاء کے سکول آف ڈینٹسٹری میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ شہری ضروریات کے مطابق زیادہ سے زیادہ افراد کی تربیت ناگزیر ہے تاکہ صحت کے شعبے میں درپیش چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کیئر کا آغاز ہسپتال سے نہیں بلکہ ہسپتال کے باہر سے ہوتا ہے تاہم ہمارے ہاں بنیادی مسائل خصوصاً سیوریج ٹریٹمنٹ اور صاف پانی کے نظام پر مناسب توجہ نہیں دی گئی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آلودہ پانی کی وجہ سے ملک میں تقریباً 70 فیصد بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اور اگر عوام کو صاف پانی کی سہولت میسر ہو جائے تو ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ بھی 70 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ سیوریج کے ٹریٹمنٹ کے لئے مقامی سطح پر مؤثر نظام کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے اور ہمیں احتیاطی تدابیر اور بیماریوں سے بچاؤ کو اپنی بنیادی حکمت عملی بنانا ہوگا، طرزِ زندگی میں بہتری لا کر ہم متعدد بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا آئندہ 10برسوں میں کینسر جیسے مہلک مرض پر قابو پا لے گی ، پاکستان میں تقریباً ہر بیماری کا علاج موجود ہے لیکن پولیو اب بھی ایک سنگین چیلنج ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی پلائیں کیونکہ پولیو وائرس تاحال پاکستان میں موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ہیلتھ کیئر سسٹم میں جدت لا رہی ہے اور نئے ہسپتالوں کے قیام کے ساتھ ساتھ موجودہ ہسپتالوں کی حالت بہتر بنائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جڑواں شہروں میں ایک جدید آپریشن تھیٹر قائم ہے جہاں تمام ضروری سہولیات دستیاب ہیں تاہم ہر شہر میں ایسے مراکز کا ہونا لازمی ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہسپتالوں کی بہتری کے ساتھ تربیت یافتہ ڈاکٹروں اور طبی عملے کی فراہمی بھی انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے آبادی میں تیزی سے اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر سال تقریباً 69 لاکھ بچے پیدا ہو رہے ہیں جبکہ پاکستان کی آبادی 25 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے جس کے باعث صحت کے شعبے پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت صحت کے نظام میں پائیدار اصلاحات کے ذریعے عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔









