اسلام آباد۔18دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نےکہا ہے کہ دنیا میں ٹیکنالوجی ایک نیا انقلاب برپا کر چکی ہے جس کے تناظر میں پاکستان کی یونیورسٹیوں کو نئی معیشت کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔جمعرات کو ہائیڈ کے زیر اہتمام نیشنل لیڈرشپ ڈائیلاگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اُڑان پاکستان کا بنیادی مقصد …
جامعات کو انڈسٹری، زراعت، ٹیکنالوجی اور مستقبل میں درپیش مسائل کے حل میں قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا، وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال
اسلام آباد۔18دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نےکہا ہے کہ دنیا میں ٹیکنالوجی ایک نیا انقلاب برپا کر چکی ہے جس کے تناظر میں پاکستان کی یونیورسٹیوں کو نئی معیشت کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔جمعرات کو ہائیڈ کے زیر اہتمام نیشنل لیڈرشپ ڈائیلاگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اُڑان پاکستان کا بنیادی مقصد یونیورسٹیوں کو محض تعلیمی اداروں کے بجائے ٹیلنٹ اور جدت ( انوویشن) کی فیکٹریوں میں تبدیل کرنا ہے۔ یونیورسٹیوں کو کتابی اور روایتی تحقیق سے آگے بڑھ کر قومی ترقی کے لیے کارآمد اور مسئلہ حل کرنے والی ریسرچ کرنا ہوگی۔پروفیسر احسن اقبال نے زور دیا کہ یونیورسٹی ریسرچ کو اسٹارٹ اپس اور کمرشل مصنوعات میں تبدیل کرنے کے نظام کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ وژن 2010 اور وژن 2025 کے تحت اربوں روپے کی سرمایہ کاری سے ہزاروں پی ایچ ڈیز تیار کی گئیں اور ملک بھر میں جامعات کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا گیا، تاہم اب اعلیٰ تعلیم کے نظام کو براہِ راست معیشت سے جوڑنا ترجیح ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ یونیورسٹیوں کو پاکستان کی انڈسٹری، زراعت، ٹیکنالوجی اور مستقبل میں درپیش مسائل کے حل میں قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس سلسلے میں انہوں نے بتایا کہ اعلیٰ تعلیم میں انوویشن اور اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کے فروغ کے لیے یونیورسٹی آف کیمبرج کے ساتھ معاہدہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کی یونیورسٹیاں علم و تحقیق کے ذریعے نئے آئیڈیاز کی تخلیق کا مرکز ہوتی ہیں، جبکہ پاکستان کو بھی اپنی مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن اور برانڈنگ کے ذریعے برآمدات بڑھانا ہوں گی۔ یونیورسٹیوں کو ٹیلنٹ کی تیاری کا عملی مرکز بنایا جائے گا تاکہ نوجوان عالمی معیشت میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ جامعات محض نصابی سرگرمیوں تک محدود نہ رہیں بلکہ قومی اور اقتصادی ترقی میں فعال کردار ادا کریں۔ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے سات نکاتی ایجنڈے پر عملی اقدامات جاری ہیں، جن کے مثبت نتائج جلد سامنے آئیں گے۔









