لاہور ہائی کورٹ نے مسابقتی کمیشن کی جانب سے 15 کروڑ روپے جرمانے کے خلاف پولٹری کمپنیوں کی ہی دائر اپیلوں پر کارروائی روکنے کی درخواست مسترد کر دی

اسلام آباد۔18دسمبر (اے پی پی):لاہور ہائی کورٹ نے پولٹری کمپنیوں اور پولٹری ایسوسی ایشن کے خلاف ڈے اولڈ برائلر چکس کی مارکیٹ میں کارٹل بنانے اور قیمتوں میں گٹھ جوڑ کرنے پر مسابقتی کمیشن کی جانب سے 15 کروڑ روپے جرمانے کے خلاف کمپٹیشن اپیلیٹ ٹربیونل میں پولٹری کمپنیوں کی ہی دائر اپیلوں پر کارروائی روکنے کی درخواست نامنظور کر دی ہے۔جمعرات کے روز مسابقتی کمیشن کی جانب سے جاری …

اسلام آباد۔18دسمبر (اے پی پی):لاہور ہائی کورٹ نے پولٹری کمپنیوں اور پولٹری ایسوسی ایشن کے خلاف ڈے اولڈ برائلر چکس کی مارکیٹ میں کارٹل بنانے اور قیمتوں میں گٹھ جوڑ کرنے پر مسابقتی کمیشن کی جانب سے 15 کروڑ روپے جرمانے کے خلاف کمپٹیشن اپیلیٹ ٹربیونل میں پولٹری کمپنیوں کی ہی دائر اپیلوں پر کارروائی روکنے کی درخواست نامنظور کر دی ہے۔جمعرات کے روز مسابقتی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پولٹری ہیچری سپریم فارمز (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور صابر پولٹری نے لاہور ہائی کورٹ میں دائر علیحدہ علیحدہ درخواستوں میں کمپٹیشن ٹربیونل کی کارروائی روکنے کی استدعا کی تھی۔درخواست گزاروں نے عدالت سے کہا تھا کہ آئینی درخواستوں کے فیصلے تک کورٹ کو اپیلوں پر فیصلہ کرنے سے روکا جائے۔

سپریم پولٹری فارمز نے اپنی پیٹیشن میں کمپٹیشن ایکٹ کے سیکشن 34 اور سیکشن 53 کو کالعدم کرنے کی درخواست کی ہے۔ ایکٹ کے سیکشن 34 مسابقتی کمیشن کو کسی بھی پرمیسز ، جگہ میں داخل ہو کر تلاشی لینے کا اختیار دیتی ہے جبکہ دفعہ 53 کمیشن کو شواہد کو اکٹھا کرنے کے لیے دیگر اداروں اور ایجنسیوں کا تعاون لینے کا اختیار دیتی ہے۔ درخواست گزار نے اعتراض کیا کہ مسابقتی کمیشن نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کی فرانزک رپورٹس اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے ڈیٹا پر انحصار کرتے ہوئے اپنا فیصلہ کیا ہے، لہذا لاہور ہائی کورٹ میں اس پٹیشن پر فیصلہ ہونے تک کمپٹیشن ٹربیونل کو پولٹری ایسوسی ایشن اور پولٹری کمپنیوں کی اپیل پر فیصلہ جاری کرنے سے روکا جائے تاہم لاہور ہائی کورٹ نے یہ درخواست نامنظور کر دی ہے تاہم پٹیشن پر سماعت جاری رکھی جائے گی۔

یاد رہے کہ ایک دن کے چوزے کی قیمتوں میں ممکنہ کاڑٹلائزینش کی تحقیقات کے دوران پولٹری کمپنیوں اور ایسوسی ایشن کے دفاتر کی تلاشی اور معائنہ کی کارروائی کے دوران کمیشن کی ٹیم نے الیکٹرانک شواہد حاصل کیے تھے۔ ان حاصل شدہ شواہد کا بعد ازاں فرانزک تجزیہ کیا گیا اور انہی رپورٹس کی بنیاد پر کمپٹیشن کمیشن نے 15 کروڑ روپے جرمانے کا فیصلہ جاری کیا۔صابر پولٹری نے بھی انہی بنیادوں پر لاہور ہائی کورٹ میں علیحدہ درخواست دائر کی جس میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ ٹربیونل کو موبائل فونز اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن سے حاصل کردہ ڈیٹا اور شواہد کی بنیاد پر فیصلہ جاری کرنے سے روکا جائے تاہم لاہور ہائی کورٹ نے ٹربیونل کی کارروائی روکنے یا اس پر حکم امتناع جاری کرنے کی درخواست نا منظور کر دیں،

البتہ عدالت ان درخواستوں کی سماعت جاری رکھے گی۔رواں سال اپریل میں مسابقتی کمیشن نے ڈے اولڈ برائلر چکس کی قیمتوں میں گٹھ جوڑ اور قیمتوں کے تعین پر آٹھ بڑی پولٹری ہیچریز اور پولٹری ایسوسی ایشن پر مجموعی طور پر 15 کروڑ 50 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔ تحقیقات کے مطابق صادق پولٹری، ہائی ٹیک گروپ، اسلام آباد گروپ، اولمپیا گروپ، جدید گروپ، سپریم فارمز (سیزنز گروپ)، بگ برڈ گروپ اور صابرز گروپ نے کارٹل بنا کر قیمتوں کا تعین کیا جو کمپٹیشن ایکٹ 2010 کی دفعہ 4 کی خلاف ورزی ہے۔