اسلام آباد۔18دسمبر (اے پی پی):بھارت کے جارحانہ عزائم اور فوجی برتری کے جنون نے جنوبی ایشیا کے خطے کو ایک بار پھر سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق بھارتی حکومت مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں دفاعی شعبے کے لیے مختص رقم میں 20 سے 25 فیصدتک کے نمایاں اضافے پر غور کر رہی ہے جس کا مقصد ’’آتمانربھر بھارت‘‘ کی آڑ میں ہتھیاروں کے …
بھارت کا بڑھتا ہوا دفاعی بجٹ خطے میں عدم توازن کا باعث، جنگی جنون کے سائے گہرے ہونے لگے
اسلام آباد۔18دسمبر (اے پی پی):بھارت کے جارحانہ عزائم اور فوجی برتری کے جنون نے جنوبی ایشیا کے خطے کو ایک بار پھر سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق بھارتی حکومت مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں دفاعی شعبے کے لیے مختص رقم میں 20 سے 25 فیصدتک کے نمایاں اضافے پر غور کر رہی ہے جس کا مقصد ’’آتمانربھر بھارت‘‘ کی آڑ میں ہتھیاروں کے انبار لگانا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے دفاعی اخراجات کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو ایک واضح اور خطرناک فرق نظر آتا ہے۔ مالی سال 26-2025 کے لیے بھارت کا مجموعی وفاقی بجٹ 600 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو کہ پاکستان کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق بھارت کا موجودہ دفاعی بجٹ 6.81 کھرب بھارتی روپے (تقریباً 78.70 ارب امریکی ڈالر) ہے جس کا 26 فیصد حصہ صرف نئے اور جدید ترین عسکری آلات کی خریداری کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کا دفاعی بجٹ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا محض 1.97 فیصد ہے۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ معرکہ حق میں ہزیمت اٹھانے اور رافیل طیاروں سمیت روسی دفاعی نظام ایس 400 کی ناکامی کے بعد بھارت اب اپنی عوام کو ’’آپریشن سندور ٹو‘‘ جیسی مہمات کے ذریعے مطمئن کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اسی نام نہاد آپریشن کو بنیاد بنا کر نئے مہنگے ہتھیاروں کی خریداری کی راہ ہموار کی جا رہی ہے تاکہ اپنی عسکری ناکامیوں پر پردہ ڈالا جا سکے۔بھارت اس وقت فرانس، روس اور اسرائیل کے لیے ہتھیاروں کے سب سے بڑے خریدار کے طور پر ابھرا ہے۔ اس نے امریکا، فرانس، روس، اسرائیل اور سپین سے بڑے پیمانے پر جنگی ساز و سامان کی خریداری تیز کر دی ہے جس میں جدید جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹرز،راکٹ، میزائل اور ریڈار سسٹم،بھاری توپ خانہ اور اسالٹ رائفلز شامل ہیں۔
بھارت کی جانب سے جدید ترین عسکری ساز و سامان کی اس اندھا دھند خریداری نے خطے میں جنگی جنون اور عدم استحکام کے خدشات کو جنم دیا ہے تاہم اس تمام تر صورتحال میں پاکستان کی مسلح افواج محدود وسائل کے باوجود اپنی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ وطن عزیز کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنائے ہوئے ہیں۔یہ واضح فرق ثابت کرتا ہے کہ بھارت کی ترجیح علاقائی ترقی کے بجائے صرف عسکری بالادستی ہے جو پورے جنوبی ایشیا کے امن کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔









