اسلام آباد۔18دسمبر (اے پی پی):پاکستان نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی پر عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے جمعرات کو یہاں پریس بریفنگ میں کہا کہ ہم نے7 دسمبر کے بعد دریائے چناب کے بہائو میں اچانک تغیرات کا مشاہدہ کیا ہے، پاکستان ان تغیرات کو انتہائی تشویش اور سنجیدگی سے دیکھتا ہے، …
پاکستان کا بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی پر عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ
اسلام آباد۔18دسمبر (اے پی پی):پاکستان نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی پر عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے جمعرات کو یہاں پریس بریفنگ میں کہا کہ ہم نے7 دسمبر کے بعد دریائے چناب کے بہائو میں اچانک تغیرات کا مشاہدہ کیا ہے، پاکستان ان تغیرات کو انتہائی تشویش اور سنجیدگی سے دیکھتا ہے، پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر نے اپنے بھارتی ہم منصب کو خط لکھا ہے جس میں سندھ طاس معاہدے میں درج طریقہ کار کے مطابق اس معاملے پر وضاحت طلب کی گئی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ زرعی سیزن میں دریا کے بہائو سے چھیڑ چھاڑ عوامی زندگی اور غذائی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، پاکستان بھارت سے یکطرفہ اقدامات سے باز رہنے کا مطالبہ کرتا ہے، بھارت سندھ طاس معاہدے پر مکمل اور نیک نیتی سے عمل کرے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کی خلاف ورزی بین الاقوامی قانون کے لیے خطرہ ہے، پاکستان پانی کے بنیادی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ کسی پیشگی اطلاع یا ڈیٹا، معلومات کے تبادلے کے بغیر بھارت کی طرف سے پانی چھوڑنے پر پاکستان کو شدید تحفظات ہیں۔
انہوں نے پاکستان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ پانی کے حقوق کی واپسی کے لیے تمام آپشنز استعمال کرے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ بھارت کی طرف سے پانی کی سپلائی کو محدود نہ کیا جائے، بین الاقوامی برادری بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل نظر اندازی کا نوٹس لے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے ذرائع ابلاغ کو دریائے چناب کے بہائو میں حالیہ اچانک تبدیلی اور بھارت کی جانب سے بغیر کسی پیشگی اطلاع یا معلومات کے یکطرفہ طور پر دریا میں پانی چھوڑے جانے سے آگاہ کیا۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان اس بات کا اعادہ کرنا چاہتا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک پابند بین الاقوامی معاہدہ ہے جو خطے میں امن اور استحکام کا ایک ذریعہ رہا ہے، اس کی خلاف ورزی ایک طرف بین الاقوامی معاہدوں اور بین الاقوامی قانون کی تعمیل کے لیے خطرہ ہے اور دوسری طرف اس سے علاقائی امن، اچھی ہمسائیگی کے اصولوں اور بین ریاستی تعلقات کو کنٹرول کرنے والے اصولوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو بھارت کی طرف سے دو طرفہ معاہدے کی مسلسل نظر اندازی کا نوٹس لینا چاہیے اور بھارت کو بین الاقوامی قانون اور قائم کردہ اصولوں کے مطابق ذمہ داری سے کام کرنے کا مشورہ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تنازعات اور مسائل کے پرامن حل کےلئے پرعزم ہے لیکن وہ اپنے لوگوں کے پانی کے وجود کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔









