اسلام آباد۔18دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے دوران جولائی تا نومبر پاکستان کی معیشت میں واضح استحکام دیکھنے میں آیا ہے جو محتاط میکرو اکنامک مینجمنٹ، درست پالیسی سمت اور ہدفی اصلاحاتی اقدامات کا نتیجہ ہے۔ جمعرات کو یہاں نومبر 2025ء میں پاکستان کی معاشی کارکردگی پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں …
مالی سال 2025-26 کے دوران جولائی تا نومبر پاکستان کی معیشت میں واضح استحکام دیکھنے میں آیا جو محتاط میکرو اکنامک مینجمنٹ، درست پالیسی سمت اور ہدفی اصلاحاتی اقدامات کا نتیجہ ہے، احسن اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔18دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے دوران جولائی تا نومبر پاکستان کی معیشت میں واضح استحکام دیکھنے میں آیا ہے جو محتاط میکرو اکنامک مینجمنٹ، درست پالیسی سمت اور ہدفی اصلاحاتی اقدامات کا نتیجہ ہے۔
جمعرات کو یہاں نومبر 2025ء میں پاکستان کی معاشی کارکردگی پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس عرصے کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح تقریباً 5 فیصد رہی جو گزشتہ سال اسی مدت میں 7.9 فیصد تھی۔ ان کے مطابق مہنگائی میں کمی سے عوام کو ریلیف ملا اور کاروبار و سرمایہ کاری کے لیے زیادہ قابل پیش گوئی ماحول پیدا ہوا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ بڑے پیمانے کی صنعت (ایل ایس ایم) میں 4.1 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی جو صنعتی سرگرمیوں میں بحالی اور کاروباری اعتماد میں اضافے کی واضح علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کی بہتر دستیابی، سپلائی چین میں بہتری اور اصلاحاتی اقدامات صنعتی کارکردگی میں اضافے کے اہم عوامل ہیں۔مالیاتی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی محصولات جولائی تا نومبر 4,733 ارب روپے تک پہنچ گئیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 10.2 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ بہتر ٹیکس انتظامیہ اور مالی نظم و ضبط کا مظہر ہے۔
بیرونی شعبے کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ آئی ٹی سروسز کی برآمدات میں نمایاں بہتری آئی اور یہ 19 فیصد اضافے کے ساتھ 1.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ ترسیلات زر 9.3 فیصد بڑھ کر 16.1 ارب ڈالر رہیں جس سے زرمبادلہ کے ذخائر اور مجموعی معاشی استحکام کو تقویت ملی۔ترقیاتی اخراجات کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ سہ ماہی کے دوران ترقیاتی بجٹ کے تحت 196 ارب روپے جاری کیے گئے جن میں سے 92 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں اور زیادہ تر وسائل انفراسٹرکچر منصوبوں پر لگائے گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بہتر منصوبہ بندی اور غیر ضروری اخراجات کے خاتمے سے جولائی تا اکتوبر 2025ء کے دوران 3.3 ارب روپے کی بچت ممکن ہوئی۔پروفیسر احسن اقبال کے مطابق نومبر 2025ء میں سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے 10 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی جبکہ 6 بڑے منصوبے ایگزیکٹو کمیٹی آف نیشنل اکنامک کونسل (ایکنک) کو بھجوائے گئے۔ ان منصوبوں سے 994 فوری ملازمتیں پیدا ہوں گی جبکہ مجموعی طور پر 24,859 براہ راست اور 40,873 بالواسطہ روزگار کے مواقع متوقع ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام آئندہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے گرین بلڈنگ کوڈ کو لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ’’ اُڑان پاکستان‘‘ پروگرام کے تحت تحقیق، ٹیکنالوجی اور جدت کے فروغ کے لیے عالمی اداروں کے ساتھ تعاون بڑھایا جا رہا ہے جن میں آکسفورڈ یونیورسٹی اور کیمبرج یونیورسٹی شامل ہیں۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ آئی ٹی انڈسٹری کی بحالی کے منصوبے کے تحت 20 ہزار سے زائد نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجیز میں تربیت دی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں 14 ہزار سے زائد نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان مالی استحکام، ہدفی ترقیاتی اقدامات اور مضبوط نگرانی کے ذریعے پائیدار، جامع اور ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کے لیے پرعزم ہے۔








