اسلام آباد۔18دسمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات نے وفاقی پی ایس ڈی پی میں بلوچستان کا حصہ 56 فیصد تک بڑھانے، ایم-6 موٹروے کی کراچی تک توسیع اور نامکمل شاہراہوں پر ٹول پلازوں کے قیام کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ عوامی مفاد کی پالیسی سازی صرف پارلیمان کا اختیار ہے، وزارتیں سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کو …
چیئرمین اعجاز حسین جکھرانی کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اہم اجلاس، بلوچستان کے لئے 128 ارب روپے تک بڑھانے کی سفارش، نامکمل سڑکوں پر ٹول ٹیکس کی وصولی پر اظہار برہمی
اسلام آباد۔18دسمبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات نے وفاقی پی ایس ڈی پی میں بلوچستان کا حصہ 56 فیصد تک بڑھانے، ایم-6 موٹروے کی کراچی تک توسیع اور نامکمل شاہراہوں پر ٹول پلازوں کے قیام کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ عوامی مفاد کی پالیسی سازی صرف پارلیمان کا اختیار ہے، وزارتیں سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کو یقینی بنائیں۔جمعرات کو چیئرمین اعجاز حسین جکھرانی کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ مالی سال 26-2025 کے لئے بلوچستان کی سڑکوں کے منصوبوں کے لئے 128.8 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔
کمیٹی نے کوئٹہ-ژوب، کوئٹہ-لورالائی اور کوئٹہ-سبی منصوبوں پر کام کی بندش کا نوٹس لیتے ہوئے این ایچ اے کو ہدایت کی کہ نئے منصوبوں کے بجائے پہلے سے جاری کاموں کو ترجیحاً مکمل کیا جائے۔اجلاس میں کراچی-حیدرآباد روڈ پر ٹول پلازوں کی بھرمار اور نامکمل سڑکوں پر ٹیکس وصولی پر ارکان نے شدید احتجاج کیا۔پارلیمانی سیکرٹری نے یقین دہانی کرائی کہ منظور شدہ پالیسی کے تحت مقامی آبادی کو ٹول ٹیکس سے استثنیٰ دیا جائے گا۔ کمیٹی نے ٹول ٹھیکوں کی الاٹمنٹ میں مبینہ پسند ناپسند اور ای-بڈنگ سسٹم کی شفافیت پر سوالات اٹھائے۔وزارت کی جانب سے بل پر مشاورت نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے 15 دن میں تفصیلی رپورٹ طلب کر لی گئی۔
کمیٹی نے سکھر-حیدرآباد موٹروے (M-6) کے حوالے سے میڈیا میں آنے والے کرپشن کیسز اور دو سینئر افسران کی معطلی پر تفصیلی رپورٹ طلب کی۔ چیئرمین نے این ایچ اے سندھ کے ممبر کے بار بار تبادلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وہاں مستقل تعیناتی اور نو سال سے زیر التوا انڈس ہائی وے منصوبے کو جلد مکمل کرنے کا حکم دیا۔رکن کمیٹی جمال شاہ کاکڑ اور دیگر اراکین کے مطالبے پر کمیٹی نے انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لئے انڈس ہائی وے پر فوری طور پر پل تعمیر کرنے کی سفارش کی۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا 43 فیصد ہے، لہٰذا وہاں سڑکوں کا جال بچھانا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔اجلاس میں شمشیر علی مزاری، جمال شاہ کاکڑ، رمیش لعل اور سید حفیظ الدین سمیت دیگر اراکین اور وزارت مواصلات کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔









