سینیٹر قرۃ العین مری کی زیر صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کا اجلاس، سندھ میں جاری پی ایس ڈی پی پراجیکٹس پر کمیٹی کو بریفنگ

کراچی۔18دسمبر (اے پی پی):سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کا اجلاس سندھ سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر قرۃ العین مری نے کی جبکہ دیگر ممبران میں سینیٹر جام سیف اللہ خان، سینیٹر عطاء الرحمان، سینیٹر دوست علی جیسر، سینیٹر ضمیر حسین گھمرو، سینیٹر اشرف علی جتوئی شامل تھے جبکہ سینیٹر سعدیہ عباسی نے اجلاس میں آن لائن شرکت کی۔ اجلاس کے …

کراچی۔18دسمبر (اے پی پی):سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کا اجلاس سندھ سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر قرۃ العین مری نے کی جبکہ دیگر ممبران میں سینیٹر جام سیف اللہ خان، سینیٹر عطاء الرحمان، سینیٹر دوست علی جیسر، سینیٹر ضمیر حسین گھمرو، سینیٹر اشرف علی جتوئی شامل تھے جبکہ سینیٹر سعدیہ عباسی نے اجلاس میں آن لائن شرکت کی۔

اجلاس کے ایجنڈے میں سندھ میں جاری پی ایس ڈی پی پراجیکٹس برائے سال 2025ء تا 2026ء، کراچی کو پانی کی فراہمی کے منصوبے ’کے-فور، سکھر حیدرآباد کراچی موٹروے ایم 6، نیو کراچی تا حیدرآباد موٹروے ایم 10 اور ریلوے کے منصوبے ایم ایل 1 کی بابت بریفنگز شامل تھیں۔چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر قرۃ العین مری نے سیکرٹری ریلوے سے استفسار کیا کہ سندھ حکومت تھرکول ریل کنیکٹوٹی منصوبے میں وفاق کی شراکت دار ہے، منصوبے کا پی سی ون منظور کرتے وقت سندھ حکومت کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا؟ کیا اس معاملے پر کسی کا احتساب کیا گیا کہ پی سی ون کس نے بنایا اور سندھ حکومت کو آن بورڈ کیوں نہیں لیا گیا؟ چیئرپرسن کمیٹی نے سینیٹر جام سیف اللہ خان سے کہا کہ 53 ارب کے پی سی ون کو 90 ارب کا کرنے اور سندھ حکومت کو بائی پاس کرکے پی سی ون بنانے کے ذمہ داران کا تعین کیا جائے۔

سینیٹر جام سیف اللہ خان نے سیکرٹری ریلوے سے کہا کہ وفاقی اور سندھ حکومت کے درمیان تھرکول پراجیکٹ سے متعلق ایک ایم او یو سائن ہوا تھا، اس کے حوالے سے درست معلومات فراہم کی جائیں۔سینیٹ قائمہ کمیٹی سب سے اعلیٰ سطح کا فورم ہے، غلط معلومات بیان کرنا اس کمیٹی کی توہین ہے، آپ نے ایک ماہ کا وقت لیا ہے، ایک ماہ بعد بالکل درست رپورٹ فراہم کریں۔ سیکرٹری ریلوے نے بریفنگ میں بتایا کہ ایم ایل ون منصوبہ 2015ء سے اب تک مختلف وجوہات کی بِناء پر تاخیر کا شکار رہا، ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی جانب سے مالی معاونت متوقع ہے جس کے بعد اگلے برس پہلے سیکشن کراچی تا روہڑی کا سنگ بنیاد رکھ دیا جائے گا۔اس موقع پر سندھ حکومت کے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کے چیئرمین نجم شاہ نے شکوہ کیا کہ ریلوے لائن اور پھاٹکوں پر اوورہیڈ برج بنانے کیلئے متعدد این او سی کی درخواستیں محکمہ ریلوے کو بھیجی گئی ہیں جن کی منظوری زیرالتواء ہے۔

سینیٹ قائمہ کمیٹی نے سیکرٹری ریلوے کو ہدایت جاری کی کہ تمام زیرالتوا این او سیز جاری کرکے ایک ماہ بعد کمیٹی کو جواب جمع کرایا جائے۔سینیٹر سعدیہ عباسی نے کراچی گرین لائن منصوبے اور تھرکول ریلوے کی پیشرفت سے متعلق سوال کیا جس پر سی ای او پی آئی ڈی سی ایل وسیم باجوہ نے بتایا کہ دو پراجیکٹس ہیں، گرین لائن بی آر ٹی کراچی کنسٹرکشن آف کامن کاریڈور مین پراجیکٹ ہے، اس سال کی ایلوکیشن 3 ارب روپے تھی جس میں سے پہلے دو کوارٹرز میں ساری رقم استعمال کی جاچکی ہے۔ کچھ مسائل کی بِناء پر دو مہینے کا تعطل آیا تھا، سندھ حکومت کے ساتھ وہ حل کرلیے گئے ہیں، پراجیکٹ اگلے برس 31 اکتوبر تک مکمل ہوجائے گا۔

چیئرپرسن قائمہ کمیٹی سینیٹر قرۃ العین مری نے کہا کہ دونوں کنسلٹنٹس کب تک دستخط کریں گے؟ جس پر چیئرمین پی آئی ڈی سی ایل نے بتایا کہ ایک مہینے میں کاغذی کارروائی مکمل ہوجائے گی، اگلی میٹنگ میں اس کا رزلٹ دیں گے۔اجلاس میں سیکرٹری مواصلات کو بھی شرکت کرنا تھی لیکن ایک گھنٹے تک وہ شریک نہ ہوئے جس پر چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر قرۃ العین مری نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ایسا پہلی بار نہیں ہورہا۔سیکرٹری مواصلات نے گزشتہ اجلاسوں میں بھی شرکت نہیں کی تھی، اب انہیں سمن کیا جائے گا۔

محکمہ مواصلات کے افسر نے کمیٹی کو بتایا کہ کراچی حیدرآباد سکھر (ایم 6 موٹروے) کا ٹینڈر جاری ہوچکا ہے، اس کے پانچ سیکشنز ہیں جن میں سے دو پر جون 2026ء تک کام شروع ہوجائے گا۔سندھ کے صوبائی وزیر جام خان شورو نے سینیٹ قائمہ کمیٹی سے شکوہ کیا کہ پاکستان ورکس ڈیپارٹمنٹ بند ہونے کے بعد اس کے جاری 27 منصوبوں میں سے سندھ حکومت کو صرف 6 منصوبے ملے ہیں جبکہ دیگر صوبوں کو تمام منصوبے منتقل کیے جاچکے ہیں۔ چیئرمین برائے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ نجم شاہ نے بتایا کہ دو سہ ماہی سے وفاق کی جانب سے فنڈز نہیں جاری کیے گئے۔ چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر قرۃ العین مری نے وفاقی فنانس ڈویژن کو ہدایت دی کہ صوبہ سندھ کے فنڈز جلد از جلد جاری کیے جائیں۔

سینیٹر جام سیف اللہ خان نے کہا کہ وفاقی اور سندھ حکومت دونوں کو سراہتا ہوں کہ نواب شاہ سے رانی پور، سانگھڑ اور ایم 6 والے تینوں منصوبوں پر اسی تعاون سے کام ہوگیا تو ہم سب کیلئے اور عوام کیلئے بہت سہولت ہوجائے گی۔ سیکرٹری روڈز نے بتایا کہ ٹنڈوالہیار اور روہڑی کی سڑک مقررہ مدت سے قبل ہی مکمل کرلی جائے گی کیونکہ اس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں۔

سینیٹر سعدیہ عباسی نے استفسار کیا کہ کراچی میں آئی ٹی پارک قائم کرنے کے حوالے سے کیا پیشرفت ہوئی؟ وفاقی سیکرٹری برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات اویس منظور سمرا نے بتایا کہ یہ وزارت آئی ٹی کا پراجیکٹ ہے جسے کوریا فنڈ کررہا ہے، منصوبہ ٹینڈر کے مرحلے میں ہے، جلد ہی یہ مرحلہ مکمل ہوجائے گا۔

ایڈیشنل سیکرٹری وزارتِ آبی وسائل مہر علی شاہ نے کے فور منصوبے پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں پانی لانے کیلئے ورلڈ بینک کے قرضے سے کام کررہے ہیں، کے فور پورا ایک سسٹم ہے، اس میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں شامل ہیں۔چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر قرۃ العین مری نے کہا کہ کراچی کو پانی چاہیے جس کیلئے کے فور منصوبہ دیا گیا ہے، اس سے پہلے ہی آپ کو ’’کے بی فیڈر پراجیکٹ‘‘ مکمل کرنا چاہیے تھا کیونکہ یہ ورلڈ بینک کی شرط ہے، جتنا تعطل ہوگا پیسے بڑھتے چلے جائیں گے، ہم اور آپ چاہتے ہیں کراچی کو پانی ملے اور یہ پراجیکٹ مکمل ہو۔

انہوں نے ہدایت دی کہ آپ اور سیکرٹری زراعت اس کا حل ڈھونڈیں۔اس موقع پر صوبائی وزیر زراعت جام خان شورو نے ایڈیشل سیکرٹری وفاقی وزارتِ آبی وسائل سے کہا کہ اگر ہمیں مئی میں پتا چل جاتا کہ آپ کے کیا مسائل ہیں تو ہم انہیں حل کردیتے، اب 6 ماہ بعد دسمبر میں صرف ایک اپ ڈیٹ مل رہی ہے۔چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر قرۃ العین مری کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت دونوں اس منصوبے کو مکمل کرنا چاہتی ہیں،

ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ مارچ میں کابینہ کا فیصلہ ہوا، آپ کو 6 ماہ بعد نومبر میں پتا چلا؟ یہ سوشل میڈیا کا دور ہے، واٹس ایپ اور دیگر ٹیکنالوجی استعمال کرنا چاہیے تھی۔ انہوں نے ہدایت دی کہ صوبائی سیکرٹری زراعت اور ایڈیشنل سیکرٹری آبی وسائل کل اس پراجیکٹ کے کنسلٹنٹس کو دفتر بلائیں، بشمول واپڈا، نیسپاک اور دیگر تمام کے ساتھ میٹنگ کرکے اس کا حل نکالیں۔

وفاقی ایڈیشنل سیکرٹری آبی وسائل نے کہا کہ پراجیکٹ 39 ارب سے شروع ہوا تھا، طے کیا گیا تھا کہ وفاق اور سندھ حکومت منصوبے کے اخراجات مل کر برداشت کریں گے لیکن اب تخمینہ بڑھ سکتا ہے۔ چیئرپرسن سینیٹر قرۃ العین مری نے کہا کہ آپ بریف تک محدود رہیں کہ کس طرح اس منصوبے کو پلاننگ ڈویژن بھیجنا ہے۔ اس کیلئے آپ کل کا پورا دن لیں، صوبائی سیکرٹری زراعت کو اسلام آباد جانے کی ضرورت نہیں، اسی لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے، سینیٹر سعدیہ ہمارے ساتھ پورے اجلاس میں آن لائن ہیں۔

انہوں نے وفاقی سیکرٹری برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات اویس منظور سمرا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کو ایک ہفتے میں یہ پراجیکٹ نہ ملے تو ہمیں بتائیں، یہ تعطل سمجھ سے بالاتر ہے، کل میں اسلام آباد میں ہوں گی اور ہوسکتا ہے اس پر پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے آپ کے دفتر چکر لگا لوں۔