اسلام آباد۔18دسمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے ڈیجیٹل اصلاحات کے ایجنڈے کے تحت عدالتی نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنانے کے لئے اہم اقدامات متعارف کرا دیئے ہیں۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق ان اقدامات کا مقصد سائلین کو سہولت فراہم کرنا اور انصاف کی فراہمی کے عمل کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تیز اور منظم بنانا ہے۔ سپریم کورٹ …
سپریم کورٹ نے ڈیجیٹل اصلاحات کے ایجنڈے کے تحت عدالتی نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنانے کیلئے اہم اقدامات متعارف کرا دیئے
اسلام آباد۔18دسمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے ڈیجیٹل اصلاحات کے ایجنڈے کے تحت عدالتی نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنانے کے لئے اہم اقدامات متعارف کرا دیئے ہیں۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق ان اقدامات کا مقصد سائلین کو سہولت فراہم کرنا اور انصاف کی فراہمی کے عمل کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تیز اور منظم بنانا ہے۔
سپریم کورٹ نے مقدمات کی درجہ بندی کے لئے ایک جامع فریم ورک منظور کر لیا ہے جس کے تحت دیوانی، فوجداری اور سروس کیسز کے لئے تین معیاری فہرستیں تیار کی گئی ہیں۔ اس اقدام سے مقدمات کی فائلنگ میں یکسانیت، ابتدائی مرحلے پر مؤثر جانچ پڑتال اور عدالتی انتظامیہ میں بہتری ممکن ہو سکے گی جبکہ ڈیٹا پر مبنی کیس مینجمنٹ کو بھی فروغ ملے گا۔فائلنگ کے عمل کو مزید آسان اور مؤثر بنانے کے لئے ایک لازمی معیاری ٹیمپلیٹ فارم بھی منظور کیا گیا ہے جس میں مقدمے کی بنیادی تفصیلات درج کرنا لازم ہوگا۔
یہ فارم سپریم کورٹ میں ہر مقدمے کی فائلنگ کے وقت ایڈووکیٹ آن ریکارڈ (AOR) یا ایڈووکیٹ سپریم کورٹ (ASC) کے ذریعے جمع کرانا ہوگا۔ فراہم کردہ معلومات کی جانچ انسٹی ٹیوشن آفیسر کریں گے جبکہ ریسرچ آفیسر اس کی تصدیق کریں گے تاکہ درستگی، تکمیل اور منظور شدہ درجہ بندی فریم ورک سے مطابقت کو یقینی بنایا جا سکے۔مقدمات کی درجہ بندی کے نظام اور ٹیمپلیٹ فارم کی تیاری وکلا برادری کے اشتراک سے مشاورتی عمل کے تحت کی گئی۔
کمیٹی آف ایڈووکیٹس آن ریکارڈ کے تعاون سے تمام AORs کو اپنی آرا دینے کی دعوت دی گئی، جس کے بعد تفصیلی مشاورت کے نتیجے میں حتمی ٹیمپلیٹ فارم کو وکلا کی اجتماعی تجاویز اور پیشہ وارانہ بصیرت کی عکاسی کے ساتھ تیار کیا گیا۔اس کے علاوہ سپریم کورٹ میں عدالتی ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن کا عمل جاری ہے جو 31 دسمبر 2025 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
اس سلسلے میں ڈیجیٹل سرٹیفائیڈ کاپیز پورٹل کو پائلٹ بنیادوں پر لانچ کر دیا گیا ہے۔ کامیاب آزمائش کے بعد یہ پورٹل سائلین اور وکلاء کو کسی بھی مقام سے آن لائن مصدقہ نقول حاصل کرنے کی سہولت فراہم کرے گا جس سے تاخیر اور طریقہ کار کی رکاوٹیں نمایاں طور پر کم ہوں گی۔یہ تمام اقدامات ایک ایسے عدالتی نظام کی جانب اہم پیشرفت ہیں جو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ، مؤثر، شفاف اور عوام کے لئے زیادہ قابلِ رسائی ہو۔









