اسلام آباد۔18دسمبر (اے پی پی):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ جولائی سے نومبر تک کی مدت کے دوران اوسط مہنگائی کی شرح 5.0 فیصد رہی، زرعی سائیکل کی بحالی سے مارکیٹ میں رسد کی صورتحال بتدریج معمول پر آ رہی ہے، پالیسی میں مسلسل ہم آہنگی اور مضبوط نگرانی کا نظام مہنگائی پر قابو پانے میں آئندہ مہینوں میں مزید معاون ثابت ہوگا، اجلاس میں کئی …
ای سی سی اجلاس،مہنگائی کی صورتحال پربریفنگ، کئی وزارتوں اورڈویژنز کیلئے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری
اسلام آباد۔18دسمبر (اے پی پی):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ جولائی سے نومبر تک کی مدت کے دوران اوسط مہنگائی کی شرح 5.0 فیصد رہی، زرعی سائیکل کی بحالی سے مارکیٹ میں رسد کی صورتحال بتدریج معمول پر آ رہی ہے، پالیسی میں مسلسل ہم آہنگی اور مضبوط نگرانی کا نظام مہنگائی پر قابو پانے میں آئندہ مہینوں میں مزید معاون ثابت ہوگا، اجلاس میں کئی وزارتوں اورڈویژنز کیلئے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دی گئی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹرمحمداورنگزیب کی زیرِ صدارت جمعرات کویہاں منعقد ہوا جس میں مجموعی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں بالخصوص مہنگائی کے رجحانات اور غذائی تحفظ پر توجہ مرکوز کی گئی اور جاری مالی سال کے لئے مالی، ترقیاتی اور سماجی شعبے سے متعلق متعدد تجاویز کی منظوری دی گئی۔ چیف اکانومسٹ، پلاننگ، ڈویلپمنٹ اینڈ سپیشل انیشی ایٹو ڈویژن ڈاکٹر امتیاز احمد نے موجودہ معاشی حالات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ جاری مالی سال کے دوران مجموعی مہنگائی کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے جس سے قیمتوں میں استحکام اور کلی معیشت کے بہترانتظام وانصرام کی عکاسی ہورہی ہے ،صارفین کیلئے عمومی مہنگائی مالی سال کے ابتدائی مہینوں میں نسبتاً کم سطح پر رہی جو جولائی میں 4.1 فیصد اور اگست میں 3.0 فیصد ریکارڈکی گئی ،ستمبر اور اکتوبر میں سیلاب کے باعث رسد میں رکاوٹوں کی وجہ سے عارضی دبائوسامنے آیا اوربعد ازاں مہنگائی میں کمی آئی،نومبر میں عمومی مہنگائی 6.1 فیصد تک آ گئی جس سے قیمتوں پردبائوکی عکاسی ہورہی ہے۔
اجلاس میں بتایاگیا کہ جولائی سےنومبر تک کی مدت کے دوران اوسط مہنگائی کی شرح 5.0 فیصد رہی جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے 7.9 فیصد کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ اجلاس کوبتایاگیا کہ مہنگائی کی شرح میں کمی محتاط مالی نظم و نسق،قیمتوں کے مؤثر استحکام کیلئے اقدامات اور منڈیوں کی بہتر نگرانی کی وجہ سے ممکن ہوئی ، مہنگائی حکومتی بجٹ تخمینوں کے مطابق ہی رہی ہے ۔
اجلاس میں قیمتوں کے حساس اشاریہ (ایس پی آئی) کے تحت قیمتوں کی ہفتہ وار نگرانی کا بھی جائزہ لیا گیا جس سے اشیائے ضروریہ میں استحکام کا رجحان ظاہر ہوا۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق 51 میں سے 10 ضروری اشیاء کی قیمتوں میں ہفتہ وار بنیاد پر کمی دیکھی گئی جس سے صارفین کو عملی ریلیف ملا۔اجلاس کوبتایاگیا کہ سیلاب کے بعد زرعی سائیکل کی بحالی سے مارکیٹ میں رسد کی صورتحال بتدریج معمول پر آ رہی ہے اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پالیسی میں مسلسل ہم آہنگی اور مضبوط نگرانی کے نظام مہنگائی پر قابو پانے میں آئندہ مہینوں میں مزید معاون ثابت ہوں گے۔
اجلاس میں وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کی سمری پرآزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور بلوچستان میں دانش سکولز کے قیام اور نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کے ذریعے وزیرِ اعظم یوتھ سکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے نفاذ کے لئے 5760.270 ملین روپے کی اضافی رقم تکنیکی ضمنی گرانٹ کی صورت میں منظورکی گئی تاہم کمیٹی نے وزارت کو ہدایت کی کہ پائیداری کو بہتر بنانے کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈلز پر غور کیا جائے کیونکہ مستقبل میں مستقل سرکاری فنڈنگ پر انحصار مشکل ہو سکتا ہے۔
سندھ اور خیبر پختونخوا میں ایس ڈی جیز اچیومنٹ پروگرام کے تحت ترقیاتی سکیموں کے نفاذ کے لئے پی آئی ڈی سی ایل کے ضمن میں وزارتِ ہائوسنگ اینڈ ورکس کیلئے 5190.000 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی۔ وزارتِ بین الصوبائی رابطہ کی تجویز پر کمیٹی نے مالی سال 2025-26 کے لئے پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے بجٹ کے لئے 170.400 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی ۔
وزارت کو ہدایت کی گئی کہ ایک جامع بزنس پلان تیار کیا جائے جس میں پی ٹی ڈی سی کے مجوزہ کردار، گورننس فریم ورک، افرادی قوت کی ضروریات اورخصوصاً جاری کنسلٹنسی سٹڈیز اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے اقدامات کے تناظر میں قومی سیاحتی حکمتِ عملی کے ساتھ ہم آہنگی کو واضح کیا جائے ۔چیئرمین نے زور دیا کہ پی ٹی ڈی سی سے متعلق سابقہ فیصلوں پر کسی بھی نظرِ ثانی کو ایک مضبوط بزنس کیس کے ذریعے ثابت کیا جانا چاہئے جو ریاستی ملکیتی اداروں کی اصلاحات اور رائٹ سائزنگ کے حکومتی ایجنڈے سے مطابقت رکھتا ہو۔
اجلاس میں پاور ڈویژن کی تجویز پر وزیرِ اعظم فین ری پلیسمنٹ پروگرام کے تحت فنڈنگ کے لئے اہلیت کے معیار پر نظرِ ثانی اور ردوبدل کی منظوری بھی دی گئی اس کامقصد سکیم کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانا ہے تاکہ توانائی کے مؤثر استعمال اور بجلی کی کھپت میں کمی کو مزید فروغ دیا جا سکے۔اجلاس میں پنجاب، اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری، سندھ اور خیبر پختونخوا میں ایس ڈی جیز اچیومنٹ پروگرام کے تحت سکیموں کے نفاذ کے ضمن پاورڈویژن کیلئے 6.358 ارب روپے کے تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی ،
اسی طرح بجلی کے شعبہ میں کیش فلو کے مسائل سے نمٹنے کے لئے ڈسکوز کی ایکویٹی کے ضمن میں حکومتِ پاکستان کی سرمایہ کاری کے تحت 200 ارب روپے کے ایک اورتکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں انسانی ہمدردی کے پہلوئوں کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارتِ داخلہ و انسدادِ منشیات کنٹرول کی تجویز پر لاپتہ افراد سے متعلق کمیشن آف انکوائری آن انفورسڈ ڈس اپیئرنسز کی جانب سے شناخت کی گئی 945 مستحق خاندانوں کو ادائیگی کے لئے 4.775 ارب روپے کی فراہمی کی منظوری دی گئی ، یہ رقوم منظور شدہ طریقہ کار کے مطابق کمیشن کی نگرانی میں تقسیم کی جائیں گی۔
اجلاس میں فرنٹیئر کور بلوچستان (نارتھ)، کوئٹہ کے ہیلی کاپٹروں کی سالانہ دیکھ بھال کے لئے 79.00 ملین روپے اور پاکستان رینجرز (سندھ) کے ہیلی کاپٹروں کی مرمت و دیکھ بھال کے لئے مالی سال 2025-26 کے دوران 10.821 ملین روپے کے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دی گئی۔ وزارتِ داخلہ و انسدادِ منشیات کنٹرول کی تجویز پر ای سی سی نے اراکینِ پارلیمنٹ کے لئے 104 اضافی فیملی سوئٹس، بشمول ملازمین کے کوارٹرز، کی تعمیر کے نظرِ ثانی شدہ پی سی ون کی منظوری دی اور کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو اپنے اثاثوں کی دیکھ بھال اور عمارتوں کے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لئے جامع منصوبہ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔
اجلاس میں وزارتِ دفاع کی تجویز پر ایس ڈی جیز اچیومنٹ پروگرام کے تحت ترقیاتی سکیموں کے نفاذ کے لئے 40 ملین روپے اور کنگ حماد یونیورسٹی آف نرسنگ اینڈ الائیڈ میڈیکل سائنسز کو رواں مالی سال میں فعال بنانے کے لئے 250 ملین روپے کے تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دی گئی ۔ اجلاس میں وفاقی وزراء برائے توانائی، پٹرولیم، تجارت، منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، قومی غذائی تحفظ و تحقیق، اور سرمایہ کاری کے علاوہ متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز، محکموں اور ریگولیٹری اداروں کے وفاقی سیکرٹریز اور سینئر حکام نے شرکت کی۔









