حکومت ڈیجیٹل، آئی ٹی معیشت، زراعت ، زرعی ویلیو چینز، معدنیات، کان کنی، صحت اور مہارت پر مبنی انسانی سرمائے کی برآمدات کے شعبوں میں سازگار ایکو سسٹمز کے قیام پر توجہ دے رہی ہے،وزیرخزانہ محمداورنگزیب کی آئی ایف سی وفد سے گفتگو

اسلام آباد۔18دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ حکومت براہ راست مداخلت کے بجائے ڈیجیٹل، آئی ٹی معیشت، زراعت ، زرعی ویلیو چینز، معدنیات، کان کنی، صحت اور مہارت پر مبنی انسانی سرمائے کی برآمدات کے شعبوں میں سازگار ایکو سسٹمز کے قیام پر توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کویہاں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کے وفد سے ملاقات میں کہی ۔ …

اسلام آباد۔18دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ حکومت براہ راست مداخلت کے بجائے ڈیجیٹل، آئی ٹی معیشت، زراعت ، زرعی ویلیو چینز، معدنیات، کان کنی، صحت اور مہارت پر مبنی انسانی سرمائے کی برآمدات کے شعبوں میں سازگار ایکو سسٹمز کے قیام پر توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کویہاں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کے وفد سے ملاقات میں کہی ۔ وفدکی قیادت آئی ایف سی کے ڈائریکٹر مشرقِ وسطیٰ، پاکستان و افغانستان خواجہ آفتاب احمدکر رہے تھے جبکہ ان کے ہمراہ ایکٹنگ کنٹری منیجر آئی ایف سی پاکستان ناز خان بھی موجود تھیں۔

ملاقات میں پاکستان اور آئی ایف سی کے درمیان سٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ فریقین نے خاص طور پر نجی سرمایہ کاری کے فروغ، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس کو آگے بڑھانے اور پائیدار ترقی و روزگار کے مواقع پیدا کرنے والی اصلاحات کی معاونت کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ آئی ایف سی کے وفد نے وزیر خزانہ کو پاکستان میں سرمایہ کاری اور مشاورتی (ایڈوائزری) سرگرمیوں کے حوالے سے اپنے بڑھتے ہوئے کردار پر بریفنگ دی جس میں مقامی کرنسی میں فنانسنگ، نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور پائیداری پر مبنی مشاورتی اقدامات میں حالیہ پیش رفت پرروشنی ڈالی گئی ۔

ملاقات میں بالخصوص پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ فریم ورکس کی معاونت میں آئی ایف سی کے بڑھتے ہوئے کردار پر زور دیا گیا جن میں شہری خدمات کی بہتری، وسائل کے موثر استعمال اوربنیادی ڈھانچہ کی کارکردگی کو نجی شعبے کی شمولیت اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بہتر بنانے سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔بات چیت میں وفاقی اور صوبائی اداروں کے ساتھ جاری تعاون کا بھی جائزہ لیا گیا جس کا مقصد منصوبوں کی تیاری کو بہتر بنانا، گورننس کو مضبوط کرنا اور اہم سروس ڈیلیوری شعبوں میں نجی سرمائے کو متوجہ کرنا ہے۔

فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ منظور شدہ لین دین (ٹرانزیکشنز) پر بروقت عملدرآمد اور سرمایہ کاری کے پائپ لائن میں رفتار برقرار رکھنا مارکیٹ کے اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے نہایت اہم ہے۔ ملاقات میں عالمی بینک گروپ کے اندر قریبی ہم آہنگی کی اہمیت کا بھی جائزہ لیا گیا تاکہ پاکستان کی اصلاحاتی ترجیحات کی معاونت کے لیے مشاورتی، فنانسنگ اور رسک میٹیگیشن کے آلات سے موثر طور پر استفادہ کیا جا سکے۔

آئی ایف سی کے وفد نے تنظیمی انتظامات سے متعلق تازہ معلومات بھی شیئر کیں جن کا مقصد پاکستان اور وسیع تر خطے کے ساتھ روابط کو مزید مضبوط بنانا ہے جسے وزیر خزانہ نے خوش آئند قرار دیا۔وزیرخزانہ نے حکومت کی سٹریٹجک ترجیحات کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت براہ راست مداخلت کے بجائے خصوصاً ان شعبوں میں جہاں روزگار کے وسیع مواقع اور زرمبادلہ کے حصول کی نمایاں صلاحیت موجود ہے، سازگار ایکو سسٹمز کے قیام پر توجہ دے رہی ہے، ان شعبوں میں ڈیجیٹل و آئی ٹی معیشت، زراعت و زرعی ویلیو چینز، معدنیات اور کان کنی، صحت کا شعبہ اور مہارت پر مبنی انسانی سرمائے کی برآمدات شامل ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی کا فروغ، ریگولیٹری نظام کی مضبوطی اور نجی شعبے کی قیادت ان شعبوں میں پیداواری صلاحیت اور مسابقت میں بہتری کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ فریقین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ سرمایہ کاری اور مشاورتی معاونت کو پاکستان کی درمیانی مدت کی ترقیاتی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ کیا جانا چاہیے جس میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے، پائیداری اور برآمدات پر مبنی ترقی پر واضح توجہ دی جائے۔ ملاقات اس مشترکہ عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ تعاون کو مزید گہرا کیا جائے گا، ترجیحی اقدامات پر عملدرآمد کو تیز کیا جائے گا اور نجی سرمایہ کاری کو متحرک کرنے اور پاکستان میں جامع اقتصادی ترقی کے فروغ کے لیے منظم رابطہ جاری رکھا جائے گا۔