قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کا اجلاس، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کی پی ٹی وی میں جاری اصلاحاتی اقدامات پر قائمہ کمیٹی کو بریفنگ

اسلام آباد۔22دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کو پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) میں جاری اصلاحاتی اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں قومی نشریاتی ادارہ پی ٹی وی اقرباء پروری، اختیارات کے ناجائز استعمال اور بدعنوانی جیسے مسائل کا شکار رہا جبکہ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں کی پالیسیوں …

اسلام آباد۔22دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کو پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) میں جاری اصلاحاتی اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں قومی نشریاتی ادارہ پی ٹی وی اقرباء پروری، اختیارات کے ناجائز استعمال اور بدعنوانی جیسے مسائل کا شکار رہا جبکہ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں کی پالیسیوں نے بھی ادارے کو موجودہ مشکلات سے دوچار کرنے میں کردار ادا کیا۔

یہ بات انہوں نے پیر کو یہاں رکن قومی اسمبلی پلین بلوچ کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے پی ٹی وی ورلڈ (انگلش) اور ڈیجیٹل میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی تنظیم نو کی تفصیلات سے بھی کمیٹی کو آگاہ کیا اور بتایا کہ ناظرین کی تعداد اور آمدن میں اضافے کے لئے نئے اور باصلاحیت چہروں کو متعارف کرایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیلی ویژن کی بہتری کے لئے سٹرکچرل اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں تاکہ ادارے کو خودانحصار اور قابل عمل بنایا جا سکے۔ اس ضمن میں قائمہ کمیٹی بھی اپنی تجاویز دے۔

پی ٹی وی میں ملازمین کی تعداد بہت زیادہ ہے، اس حوالے سے ایک تجویز یہ بھی ہے کہ اگر گولڈن ہینڈ شیک سکیم متعارف کروائی جائے اور ملازمین کو اختیار دیا جائے کہ وہ اسے منتخب کریں، تو اس سے ادارے کی صورتحال کافی بہتر ہو سکتی ہے۔ قائمہ کمیٹی نے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی کہ وہ اپنے زیر انتظام موجود تمام قوانین اور ایکٹس کا جائزہ لے تاکہ انہیں وفاقی کابینہ کے فیصلے سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ کے مصطفیٰ امپیکس کیس کے فیصلے کی روشنی میں وفاقی کابینہ نے وزارت قانون سے مشاورت کے ساتھ متعلقہ قوانین میں ترامیم کی ہدایت کی تھی تاکہ مختلف قوانین میں موجود الفاط ”وفاقی حکومت“ کو مناسب ”مجاز اتھارٹیز“ سے تبدیل کیا جا سکے۔

اس تناظر میں وزارت اطلاعات و نشریات نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری آرڈیننس 2002ء، دی نیوز پیپر ایمپلائیز (شرائط ملازمت) ایکٹ 1973ء اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان آرڈیننس 2002ء میں ترامیم کی تجاویز پیش کیں جن کا مقصد لفظ ”وفاقی حکومت“ کی جگہ ”متعلقہ مجاز اتھارٹیز“ کو شامل کرنا تھا۔ کمیٹی نے تفصیلی غور و خوض کے بعد متفقہ طور پر ان بلوں کی منظوری دے دی۔ کمیٹی نے سابقہ سفارشات پر عمل درآمد کا جائزہ لیتے ہوئے وزارت اطلاعات کو ہدایت کی کہ اداروں کے سربراہان کی تقرری کا عمل ان کی ریٹائرمنٹ یا مدت ملازمت مکمل ہونے سے کم از کم 30 دن قبل شروع کیا جائے۔

کمیٹی کا موقف تھا کہ عہدے خالی ہونے سے ادارے کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ اجلاس میں کمیٹی نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے مستقل سربراہ کی تقرری اور ادارے کو قابل عمل اور خودکفیل بنانے کے لئے بھی ضروری اقدامات کی ہدایت کی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، ارکان قومی اسمبلی ندیم عباس، کرن عمران ڈار، رومینہ خورشید عالم، کرن حیدر، مس شاہین، مہتاب اکبر راشدی، سحر کامران، رانا انصر (بذریعہ زوم)، سیکرٹری وزارت اطلاعات و نشریات اور دیگر افسران نے شرکت کی۔

مزید خبریں