راولپنڈی۔22دسمبر (اے پی پی):مری اور دیگر سرد علاقوں میں درجہ حرارت میں شدید کمی کے باعث گیس ہیٹرز کے استعمال میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ تاہم ماہرین اور پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 مری نے خبردار کیا ہے کہ گیس ہیٹر کا غلط اور غیر محتاط استعمال انسانی جانوں کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے خصوصاً بند کمروں اور گاڑیوں میں اس کا استعمال انتہائی …
گیس ہیٹر کا غیر محفوظ استعمال جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے، ریسکیو 1122 مری کی عوام کے لیے اہم حفاظتی ہدایات

مزید خبریں
راولپنڈی۔22دسمبر (اے پی پی):مری اور دیگر سرد علاقوں میں درجہ حرارت میں شدید کمی کے باعث گیس ہیٹرز کے استعمال میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ تاہم ماہرین اور پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 مری نے خبردار کیا ہے کہ گیس ہیٹر کا غلط اور غیر محتاط استعمال انسانی جانوں کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے خصوصاً بند کمروں اور گاڑیوں میں اس کا استعمال انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ریسکیو 1122 مری کے مطابق سرد موسم میں اکثر شہری بند کمروں میں گیس ہیٹر مسلسل چلا کر رکھتے ہیں جس کے نتیجے میں کمرے میں آکسیجن کی سطح کم ہو جاتی ہے اور زہریلی کاربن مونو آکسائیڈ گیس جمع ہو جاتی ہے۔
یہ بے رنگ اور بے بو گیس خاموشی سے دم گھٹنے کا سبب بنتی ہے اور کئی مرتبہ قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ گیس ہیٹر استعمال کرتے وقت کمرے یا گاڑی میں مناسب ہوا کی آمدورفت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ کھڑکیاں یا روشن دان تھوڑا سا کھلا رکھنا انتہائی ضروری ہے تاکہ تازہ ہوا کی فراہمی جاری رہے۔ اس کے علاوہ ہیٹر کو طویل وقت تک مسلسل چلانے کے بجائے وقفے وقفے سے بند کرنا چاہیے۔ریسکیو 1122 نے شہریوں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ سوتے وقت گیس ہیٹر ہرگز نہ چلایا جائے کیونکہ نیند کی حالت میں زہریلی گیس کے اثرات کا بروقت اندازہ نہیں ہو پاتا جو جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
خصوصی طور پر مری آنے والے سیاحوں کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ وہ گاڑیوں میں ہیٹر کا استعمال کرتے وقت غیر معمولی احتیاط برتیں۔ مکمل بند گاڑی میں ہیٹر چلانا نہایت خطرناک ہے اور کئی حادثات کی وجہ بن چکا ہے۔ سیاح حضرات کو چاہیے کہ گاڑی میں ہیٹر استعمال کرتے وقت شیشے تھوڑے کھلے رکھیں اور گاڑی کو بند حالت میں ہرگز ہیٹر کے ساتھ نہ رکھیں۔ریسکیو حکام نے مزید بتایا کہ گیس لیکیج کی صورت میں فوری طور پر گیس سپلائی بند کی جائے، تمام کھڑکیاں اور دروازے کھول دیے جائیں اور فوراً کھلی جگہ پر چلے جائیں۔
ایسی صورتحال میں ماچس، لائٹر یا کسی بھی برقی سوئچ کے استعمال سے گریز کیا جائے کیونکہ یہ دھماکے کا سبب بن سکتا ہے۔ ریسکیو 1122 مری نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں گھبرانے کے بجائے فوری طور پر ریسکیو 1122 پر کال کریں تاکہ بروقت امداد فراہم کی جا سکے۔ریسکیو 1122 کا واضح پیغام ہے کہ احتیاط زندگی ہے۔ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے اور عوام کی ذمے داری ہے کہ حفاظتی ہدایات پر عمل کر کے خود کو اور اپنے پیاروں کو محفوظ بنائیں۔








