او آئی سی اومبڈزمین ایسوسی ایشن کی ذیلی کمیٹی کا پہلا اجلاس

اسلام آباد۔22دسمبر (اے پی پی):اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی اومبڈزمین ایسوسی ایشن (او آئی سی او اے) کی ذیلی کمیٹی کا پہلا اجلاس پیر کو وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی (فوسپاہ) کے ہیڈ آفس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ذیلی کمیٹی کے رکن ممالک پاکستان، آذربائیجان، بحرین، بینن، برکینا فاسو، سینیگال، ٹوگو اور ترکیہ کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ او آئی سی کے …

اسلام آباد۔22دسمبر (اے پی پی):اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی اومبڈزمین ایسوسی ایشن (او آئی سی او اے) کی ذیلی کمیٹی کا پہلا اجلاس پیر کو وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی (فوسپاہ) کے ہیڈ آفس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ذیلی کمیٹی کے رکن ممالک پاکستان، آذربائیجان، بحرین، بینن، برکینا فاسو، سینیگال، ٹوگو اور ترکیہ کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ او آئی سی کے ویمن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ڈبلیو ڈی او)، صوبائی محتسبین خیبر پختونخوا اور پنجاب نیز او آئی سی او اے سیکرٹریٹ کے ایگزیکٹو سیکرٹری الماس جوویندا بھی اجلاس میں شریک تھے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی محتسب فوسپاہ فوزیہ وقار نے شرکا کو خوش آمدید کہا اور اس امر پر زور دیا کہ اجتماعی دانش ہی او آئی سی رکن ممالک میں خواتین کے حقوق کے فروغ کے لیے مشترکہ سفر کی بنیاد رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ذیلی کمیٹی ایک ایسا پلیٹ فارم ثابت ہوگی جہاں مختلف ادارہ جاتی تجربات یکجا ہو کر ایک مشترکہ وژن کی تشکیل کریں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ذیلی کمیٹی کا کام او آئی سی او اے کی رکن ریاستوں میں موثر انداز میں گونجے گا اور او آئی سی کی خواتین تحفظ، حوصلے اور انصاف کے لیے محتسب اداروں کی طرف دیکھیں گی۔

اجلاس کے دوران رکن ممالک کی جانب سے پیش کی گئی ملکی پریزنٹیشنز میں خواتین کے حقوق سے متعلق آئینی ضمانتوں، قانون سازی، پالیسی فریم ورکس اور نفاذی طریقۂ کار کو اجاگر کیا گیا۔ آذربائیجان میں مختلف شعبہ جات میں خواتین کے لیے 674 پیشوں پر عائد پابندیوں کے خاتمے، بینن اور پاکستان میں خواتین کے حق میں مثبت امتیاز اور پارلیمان میں خواتین کے لیے نشستوں کے تحفظ، ٹوگو میں خواتین امیدواروں کی سیاسی شرکت بڑھانے کے لیے انتخابی فیس کو مرد امیدواروں کے مقابلے میں ایک چوتھائی کرنےجبکہ آذربائیجان اور بینن میں خواتین سے متعلق قومی قوانین بشمول تولیدی صحت، کم عمری کی شادیوں، نان و نفقہ اور خواتین کی معاشی مواقع تک رسائی میں وکالت اور موثر کردار کا ذکر کیا گیا۔

ذیلی کمیٹی کے اراکین نے اپنے اپنے ممالک میں درپیش چیلنجز پر بھی روشنی ڈالی جن میں سماجی و ثقافتی رکاوٹیں، رپورٹنگ کے کمزور رجحانات اور فیصلہ سازی کے مناصب پر خواتین کی کم نمائندگی شامل ہیں۔اجلاس کے اختتام پر ذیلی کمیٹی کے آئندہ لائحہ عمل پر غور کیا گیا اور اس کے مقاصد و منصوبوں کو او آئی سی کے خواتین کی ترقی کے لیے منصوبہ عمل اور ویمن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ڈبلیو ڈی او) کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ ذیلی کمیٹی کی جانب سے رکن ریاستوں اور او آئی سی او اے کی عمومی رکنیت کے لیے صلاحیت سازی (Capacity Building) کے اقدامات کیے جائیں گے۔ مزید برآں ذیلی کمیٹی نے ویمن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے ذریعے اپنی اس کاوش کو او آئی سی کی عمومی رکنیت تک توسیع دینے کی پیشکش بھی کی۔

مزید خبریں