اسلام آباد۔22دسمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے نفرت انگیز مواد پھیلانے کے مقدمے میں نامزد ملزم سید محمد کی ضمانت منظور کر لی۔ کیس کی سماعت پیر کو جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔دوران سماعت جسٹس نعیم اختر افغان نے استفسار کیا کہ ملزم سے صرف ایک کتاب ہی برآمد ہوئی ہے؟ کیا اس کتاب کی تقسیم کا کوئی ٹھوس ثبوت بھی موجود ہے؟ …
سپریم کورٹ نے نفرت انگیز مواد پھیلانے کے مقدمے میں نامزد ملزم سید محمد کی ضمانت منظورکر لی

مزید خبریں
اسلام آباد۔22دسمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے نفرت انگیز مواد پھیلانے کے مقدمے میں نامزد ملزم سید محمد کی ضمانت منظور کر لی۔ کیس کی سماعت پیر کو جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔دوران سماعت جسٹس نعیم اختر افغان نے استفسار کیا کہ ملزم سے صرف ایک کتاب ہی برآمد ہوئی ہے؟ کیا اس کتاب کی تقسیم کا کوئی ٹھوس ثبوت بھی موجود ہے؟
اس موقع پر سرکاری وکیل نے بینچ پر اعتراض اٹھاتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف درخواست عدالت عظمیٰ میں قابل سماعت نہیں۔ تاہم جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے کہ نئے رولز کے مطابق اب عدالت ایسے معاملات سن سکتی ہے۔پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ ملزم اسامہ بن لادن سے منسوب کتاب ’’صحرا سے سمندر تک‘‘ کی تقسیم میں ملوث ہے اور ملزم کے موبائل فون سے بھی نفرت انگیز مواد برآمد ہوا ہے۔
پراسیکیوٹر کے مطابق ملزم کا تعلق وزیرستان سے ہے۔اس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے کہ اگر شواہد موجود ہیں تو ٹرائل میں ثابت کریں اور سزا دلوائیں۔ وکیل ملزم سید اقبال گیلانی نے عدالت کے نوٹس میں کچھ آف دی ریکارڈ حقائق لانے کی کوشش کی جس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے واضح کیا کہ جو باتیں ریکارڈ کا حصہ نہیں، ان پر عدالت کوئی رائے نہیں دے سکتی ۔
وکیل ملزم نے موقف اختیار کیا کہ ملزم ساہیوال میں محنت مزدوری کرتا ہے اور تین ماہ بعد اپنے ساتھیوں کی مزدوری اکٹھی کر کے گھر جا رہا تھا کہ اسے گرفتار کر لیا گیا۔ وکیل کے مطابق ملزم کو فروری 2025ء میں سی ٹی ڈی لاہور نے گرفتار کیا اور 27 دن بعد پانچ لاکھ روپے میں سے صرف ایک لاکھ نو ہزار روپے کی ریکوری ظاہر کی گئی۔پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ کیس میں صرف چار گواہان ہیں اور ملزم پر چارج بھی فریم ہو چکا ہے۔ وکیل ملزم نے موقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں زیادہ سے زیادہ سزا پانچ سال ہے۔تمام دلائل سننے کے بعد جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے کہ ٹرائل میں شواہد پیش کریں، عدالت ضمانت دے رہی ہے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے ملزم سید محمد کی ضمانت منظور کر لی۔








