اسلام آباد۔23دسمبر (اے پی پی):ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے رفعت مختار راجہ کی زیر صدارت اردل روم کا انعقاد کیا گیا جس میں کرپشن، اختیارات سے تجاوز، بھتہ خوری اور غیر قانونی امیگریشن کلیئرنس جیسے سنگین الزامات ثابت ہونے پر 7 افسران و اہلکاروں کو ملازمت سے برطرفی اور تنزلی سمیت مختلف محکمانہ سزائیں سنائی گئیں۔ سزا پانے والوں میں 2 انسپکٹرز، 3 سب انسپکٹرز، 1 اے ایس آئی اور …
ڈی جی ایف آئی اے کی زیر صدارت اردل روم کا انعقاد ،کرپشن اور غفلت پر 7 افسران و اہلکاروں کو سزائیں

مزید خبریں
اسلام آباد۔23دسمبر (اے پی پی):ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے رفعت مختار راجہ کی زیر صدارت اردل روم کا انعقاد کیا گیا جس میں کرپشن، اختیارات سے تجاوز، بھتہ خوری اور غیر قانونی امیگریشن کلیئرنس جیسے سنگین الزامات ثابت ہونے پر 7 افسران و اہلکاروں کو ملازمت سے برطرفی اور تنزلی سمیت مختلف محکمانہ سزائیں سنائی گئیں۔ سزا پانے والوں میں 2 انسپکٹرز، 3 سب انسپکٹرز، 1 اے ایس آئی اور 1 کانسٹیبل شامل ہے۔
ڈی جی ایف آئی اے نے انسپکٹر فخر عباس اور کانسٹیبل غلام مصطفیٰ دونوں کو غیر قانونی چھاپے اور بھتہ خوری کے الزامات ثابت ہونے پر ملازمت سے برخاست کر دیا۔اے ایس آئی احسن مسکین کو سیالکوٹ ائرپورٹ پر مسافر سے رقم لینے کے الزام میں ملازمت سے برخاستگی کی سزا سنائی گئی۔
سب انسپکٹر تنزیل رسول کراچی ائرپورٹ پر غیر قانونی امیگریشن کلیئرنس کے جرم میں عہدہ کم کر کے اے ایس آئی بنا دیا گیا۔انسپکٹر فہد اقبال، سب انسپکٹر کرن فرید اور سب انسپکٹر وسیم عبیدکو اسلام آباد اور سیالکوٹ ائرپورٹس پر غیر قانونی امیگریشن کلیئرنس میں ملوث ہونے پر ترقی روکنے کی سزائیں دی گئیں۔ ڈی جی ایف آئی اے رفعت مختار راجہ نے اس موقع پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ محکمانہ احتساب کا مقصد قانونی اور پیشہ ورانہ معیارات پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔
ادارے میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور کرپشن یا ناقص تفتیش میں ملوث اہلکاروں کی ایف آئی اے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ادارے کو کالی بھیڑوں سے پاک کرنے کے لیے سخت احتسابی عمل جاری ہے کیونکہ احتساب کے ذریعے ہی انسانی سمگلنگ اور کرپشن کا خاتمہ ممکن ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث اور غفلت برتنے والے افسران کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی۔








