لاہور۔23دسمبر (اے پی پی):وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ2025 میں پاکستان ریلوے نے93 ارب روپے سے زائد ریونیو حاصل کیا ہے جبکہ مالی سال26۔2025 کی پہلی ششماہی میں 50 ارب روپے آمدن متوقع ہے۔منگل کو اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے نے سال2025 کے دوران ادارہ جاتی اصلاحات،مالی استحکام،سیفٹی،اپ گریڈیشن اور ڈیجیٹائزیشن کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ …
پاکستان ریلوے نے رواں سال 93 ارب روپے سے زائد ریونیو حاصل کرلیا،وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی

مزید خبریں
لاہور۔23دسمبر (اے پی پی):وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ2025 میں پاکستان ریلوے نے93 ارب روپے سے زائد ریونیو حاصل کیا ہے جبکہ مالی سال26۔2025 کی پہلی ششماہی میں 50 ارب روپے آمدن متوقع ہے۔منگل کو اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے نے سال2025 کے دوران ادارہ جاتی اصلاحات،مالی استحکام،سیفٹی،اپ گریڈیشن اور ڈیجیٹائزیشن کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مالی سال کے اختتام پر پاکستان ریلوے تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک کھرب روپے آمدن کا سنگِ میل عبور کرے گا۔وزیرِ ریلوے کے مطابق سیفٹی کے شعبے میں اہم اصلاحات کی گئی ہیں اور سیفٹی ڈیپارٹمنٹ کو ڈائریکٹوریٹ میں تبدیل کیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں حادثات میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔
سیفٹی ڈائریکٹوریٹ کے قیام کے بعد حادثات کی شرح 0.09 فیصد سے کم ہو کر0.04 فیصد رہ گئی ہے جبکہ اس عرصے کے دوران کسی بھی قسم کا سنگین حادثہ پیش نہیں آیا۔انہوں نے کہا کہ2025 میں راولپنڈی کو ملک کا پہلا سمارٹ ریلوے اسٹیشن بنا دیا گیا ہے،جہاں جدید کیمرے اور سیکورٹی سسٹم نصب کئے گئے ہیں۔آئندہ سال2026 میں دیگر بڑے ریلوے اسٹیشنوں کو بھی سمارٹ اسٹیشنز میں تبدیل کیا جائے گا جبکہ ٹرینوں میں بھی کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
اپ گریڈیشن کے حوالے سے وزیرِ ریلوے نے بتایا کہ پاکستان ریلوے نے صرف آٹھ ماہ کے دوران ٹرینوں کے آٹھ ریکس کو اپ گریڈ کیا ہے۔شالیمار ایکسپریس، پاک بزنس ایکسپریس، لاثانی ایکسپریس اور فیض احمد فیض ایکسپریس سمیت مختلف ٹرینوں کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دسمبر 2026 تک پاکستان ریلوے کی تمام ٹرینوں کو اپ گریڈ کر دیا جائے گا۔اس کے علاوہ لاہور، کراچی، راولپنڈی اور فیصل آباد کے ریلوے اسٹیشنوں کو بھی اپ گریڈ کیا جا چکا ہے۔
ڈیجیٹائزیشن کے عمل پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیرِ ریلوے نے کہا کہ پاکستان ریلوے کو مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام پر منتقل کر دیا گیا ہے اور وزارت کا تمام کام ای فائلنگ کے ذریعے انجام دیا جا رہا ہے۔تمام بڑے ریلوے اسٹیشنوں پر اے ٹی ایم، ڈی وی ایم اور پی او ایس مشینیں نصب کر دی گئی ہیں جبکہ حاضری کا نظام بھی کمپیوٹرائزڈ کر دیا گیا ہے جس کے تحت دفتر آئے بغیر تنخواہ وصول کرنا ممکن نہیں رہا۔
انہوں نے بتایا کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی کے دوران2025 میں قابضین سے394 ایکڑ ریلوے اراضی واگزار کرائی گئی ہے جبکہ دسمبر2026 تک ریلوے کی تمام قبضہ شدہ اراضی واگزار کرانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔وزیرِ ریلوے کے مطابق آوٹ سورسنگ کے عمل کے تحت تین ریلوے سکول آوٹ سورس کئے جا چکے ہیں اور آئندہ چھ ماہ میں دیگر سکول بھی آوٹ سورس کئے جائیں گے۔اس کے علاوہ11 مزید ٹرینیں آوٹ سورس کی جا رہی ہیں۔
لاہور، خانیوال، ملتان، کراچی اور راولپنڈی کے ریلوے اسٹیشنوں کی صفائی کا انتظام بھی آوٹ سورس کر دیا گیا ہے جس کے بعد ان اسٹیشنوں پر رات12 بجے بھی صفائی کا عمل جاری رہتا ہے۔دیگر اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ ریلوے نے کہا کہ ریلوے اسٹیشنوں پر کھانے کے معیار کو بہتر بنایا گیا ہے اور اب صوبائی فوڈ اتھارٹیز کسی بھی وقت معائنہ کر سکتی ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ کراچی تا روہڑی ریلوے ٹریک کے منصوبے پر پیش رفت جاری ہے۔








