راولپنڈی۔23دسمبر (اے پی پی):قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں کے زیرِ اہتمام دخترانِ پاکستان سائبر سکیورٹی کے موضوع پر راولپنڈی ویمن یونیورسٹی میں آگاہی سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل خطرات اور ان سے نمٹنے کیلئے سائبر نظام کی مضبوطی کو مؤثر بنانے پر زور دیا گیا۔ سیمینار کا مقصد محفوظ ڈیجیٹل مستقبل کیلئے خواتین کو بااختیار بنانا، سائبر اسپیس کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا اور چیلنجز …
دخترانِ پاکستان سائبر سکیورٹی کے موضوع پر راولپنڈی ویمن یونیورسٹی میں آگاہی سیمینار، وزیرِ مملکت وجیہہ قمر کی بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت

مزید خبریں
راولپنڈی۔23دسمبر (اے پی پی):قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں کے زیرِ اہتمام دخترانِ پاکستان سائبر سکیورٹی کے موضوع پر راولپنڈی ویمن یونیورسٹی میں آگاہی سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل خطرات اور ان سے نمٹنے کیلئے سائبر نظام کی مضبوطی کو مؤثر بنانے پر زور دیا گیا۔ سیمینار کا مقصد محفوظ ڈیجیٹل مستقبل کیلئے خواتین کو بااختیار بنانا، سائبر اسپیس کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا اور چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط کرنا ہے۔
تقریب میں وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت کی جبکہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر کپیسٹی بلڈنگ نیشنل سایئبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم زہیمہ اقبال نے بطورِ کلیدی مقرر تقریب سے خطاب میں کیا۔وجیہہ قمر نے اپنے خطاب کے دوران سیمینار کے انعقاد پر تمام منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور دخترانِ پاکستان ٹیم اور نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کی بروقت اور اہم کاوشوں کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل مستقبل کی اخلاقی اور فکری سمت کا تعین نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے پیغامِ پاکستان کو ایک تاریخی دستاویز قرار دیا جو انتہاپسندی اور عدم برداشت کے خلاف واضح مؤقف پیش کرتی ہے اور کہا کہ جس طرح عدم برداشت کو حقیقی دنیا میں مسترد کیا گیا ہے، اسی طرح اسے سائبر اسپیس میں بھی مسترد کیا جانا چاہیے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین صرف سائبر سیکیورٹی کی متاثرہ فریق نہیں بلکہ اس کی محافظ بھی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تعلیم سائبر خطرات کے خلاف سب سے مضبوط فائر وال ہے اور سائبر سیکیورٹی کو ایک بنیادی زندگی کی مہارت کے طور پر اپنانا چاہیے، نہ کہ صرف ماہرین تک محدود رکھا جائے۔ انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ محض ٹیکنالوجی کے صارف نہیں بلکہ ڈیجیٹل مستقبل کی تشکیل کرنے والے ہیں۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ڈیجیٹل مستقبل میں خواتین اور نوجوانوں کو مرکزی حیثیت دی جائے گی۔
زہیمہ اقبال نے سائبر سیکیورٹی کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سائبر سیکیورٹی محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ اہم سماجی مسئلہ بھی ہے۔ انہوں نے محفوظ پاس ورڈ مینجمنٹ، وائی فائی، اسمارٹ فون اور ایپس کے محفوظ استعمال، فِشنگ، میل ویئر اور دیگر سائبر خطرات سے بچاؤ، اور سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال سے متعلق رہنمائی فراہم کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنسی ہراسانی، سائبر اسٹاکنگ، جعلی شناخت اور ڈیپ فیکس ٹیکنالوجی فیسلی ٹیٹڈ جینڈر بیسڈ وائلنس کے اہم پہلو ہیں۔ زہیمہ اقبال نے پاکستان میں سائبر واقعات کی رپورٹنگ کے دستیاب نظام سے آگاہی فراہم کی اور ڈیجیٹل زیادتی کے خلاف آواز اٹھانے اور اس کو بروقت رپورٹ کرنے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
رجسٹرار راولپنڈی ویمن یونیورسٹی ڈاکٹر ہما رؤف نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور اس نوعیت کی آگاہی سرگرمیوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر ہما نے یونیورسٹی کی جانب سے تمام منتظمین اور شراکت دار اداروں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ہمارا مستقبل مصنوعی اور جھوٹے بیانیوں کے بجائے ہمارے حقیقی تجربات، مثبت اقدار اور ذمہ دار رویوں پر مبنی ہوگا۔
ڈاکٹر ہما نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ راولپنڈی ویمن یونیورسٹی جدید دور کے تمام چیلنجز سے متعلق طالبات کو مسلسل آگاہی فراہم کرتی رہے گی تاکہ وہ ایک محفوظ اور ذمہ دار ڈیجیٹل معاشرے کی تشکیل میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر ہما رؤف نے مہمانوں کو اعزازی شیلڈز سے نوازا گیا ۔








