اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):سابق سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے کہا ہے کہ تاریخ کے ہر دور میں عظیم رہنمائوں کے وژن جیسے موضوعات ہمیشہ زندہ رہتے ہیں، قائداعظم کی بے مثال قیادت، دیانت اور غیر متزلزل عزم نے تاریخ کے ایک نہایت نازک موڑ پر، شدید برطانوی و ہندو مزاحمت کے باوجود ایک منتشر قوم کو متحد کیا اور بالآخر پاکستان کے قیام کو ممکن بنایا۔وہ اسلامی تحقیقاتی …
قائد اعظم نے تاریخ اور جغرافیہ کا دھارا بدل کر نئی ریاست قائم کی، سینیٹر جنرل (ر) عبدالقیوم

مزید خبریں
اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):سابق سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے کہا ہے کہ تاریخ کے ہر دور میں عظیم رہنمائوں کے وژن جیسے موضوعات ہمیشہ زندہ رہتے ہیں، قائداعظم کی بے مثال قیادت، دیانت اور غیر متزلزل عزم نے تاریخ کے ایک نہایت نازک موڑ پر، شدید برطانوی و ہندو مزاحمت کے باوجود ایک منتشر قوم کو متحد کیا اور بالآخر پاکستان کے قیام کو ممکن بنایا۔وہ اسلامی تحقیقاتی ادارہ، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں منعقدہ سیمینار بعنوان ’’قائداعظم محمد علی جناح کا مضبوط اور خوشحال پاکستان کے لیے مستقبل کا وژن‘‘ سے خطاب کر رہے تھے۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم جو ادارہ نظریہ پاکستان کے وائس چیئرمین اور پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے صدر بھی ہیں، نے معروف مورخ سٹینلے وولپرٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قائداعظم کا تاریخ پر اثر اس قدر گہرا تھا کہ انہوں نے نہ صرف تاریخ اور جغرافیہ کا دھارا بدلا بلکہ ایک نئی قومی ریاست بھی قائم کی جو کسی بھی رہنما کے لیے شاذ و نادر ہی ممکن ہو پاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قائد کا وژن غیر معمولی دور اندیشی کا مظہر تھا جنہوں نے ہمیشہ فوری حالات سے آگے دیکھتے ہوئے پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کو دو قومی نظریے پر مضبوطی سے استوار کیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قائداعظم نے تعلیم خصوصاً سائنس اور ٹیکنالوجی، معدنی وسائل کی تلاش، صنعتی ترقی، اقلیتوں کے حقوق اور قومی تعمیر میں خواتین کی شمولیت کو غیر معمولی اہمیت دی۔ ان کے مطابق قائداعظم نے واضح طور پر ’’تعلیم، معیشت اور دفاع‘‘ کو پاکستان کی ترقی اور استحکام کے تین بنیادی ستون قرار دیا تھا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر قوم آئینی بالادستی اور جمہوری طرز حکمرانی کو اپنائے تو پاکستان یقینی طور پر خوشحال بن سکتا ہے تاہم آئین پسندی کی جگہ مقبولیت پسندی اور شخصیت پرستی پر مبنی سیاست قومی تباہی کا نسخہ ثابت ہوگی۔
صدر پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی نے ملک کی بہتری کے لیے اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے تعلیم کے بجٹ کو دوگنا کرنے، سکول سے باہر بچوں کی تعداد میں کمی اور مہارت پر مبنی تربیت پر زور دیا۔ معیشت کے حوالے سے بدعنوانی کے خاتمے، سرکاری اخراجات میں کمی اور غیر ملکی قرضوں پر سخت آئینی پابندیوں کی تجویز دی۔ دفاعی میدان میں انہوں نے بدلتے ہوئے خطرات اور دہشت گردی کے تناظر میں نئے دفاعی نظریات کی تشکیل اور جنگی تیاریوں میں مسلسل بہتری کو ناگزیر قرار دیا جبکہ قومی سطح پر رواداری اور آئین پسندی پر مبنی مفاہمت کے فروغ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔







