قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کا اجلاس،ریلویز پنشنرز کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے پائیدار ماڈل تیار کرنے کی سفارش

اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں رانا ارادت شریف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ ممبر فنانس ریلوے نے کمیٹی کو بریفنگ دی کہ پاکستان ریلویز جو کہ ریلوے ڈویژن کا ایک منسلک محکمہ ہے اپنے ریٹائرڈ ملازمین کو اپنے وسائل سے پنشن ادا کرتا ہے۔ پاکستان ریلویز کو پنشن کی خاطر خواہ اور تیزی سے بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں …

اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں رانا ارادت شریف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ ممبر فنانس ریلوے نے کمیٹی کو بریفنگ دی کہ پاکستان ریلویز جو کہ ریلوے ڈویژن کا ایک منسلک محکمہ ہے اپنے ریٹائرڈ ملازمین کو اپنے وسائل سے پنشن ادا کرتا ہے۔ پاکستان ریلویز کو پنشن کی خاطر خواہ اور تیزی سے بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کا سامنا ہے مثلاً کمیوٹیشن، لیو انکیشمنٹ، وزیراعظم کے امدادی پیکیج اور بینوولینٹ فنڈ سے متعلقہ دعوے بغیر کسی وقف شدہ پنشن فنڈ کے۔

پنشن کے اخراجات آپریشنل ریونیو سے کافی زیادہ شرح سے بڑھے ہیں، پاکستان ریلویز کے بجٹ پر مسلسل دباؤ اور بنیادی ریلوے آپریشنز میں سرمایہ کاری کو محدود کرتے ہوئے پاکستان ریلویز آپریشنل اور مالیاتی اصلاحات کر رہی ہے جس کا مقصد ریونیو جنریشن کو بہتر بنانا، اخراجات کو کنٹرول کرنا اور حکومتی سپورٹ پر انحصار کم کرنا ہے۔ پاکستان ریلویز نے اپنی مالیاتی اور آپریٹنگ کارکردگی میں بتدریج لیکن مسلسل بہتری کا مظاہرہ کیا ہے۔ پاکستان ریلوے کی آپریٹنگ کارکردگی ایک اہم تبدیلی کو ظاہر کرتی ہے۔

ریلوے کی آمدن مالی سال 2020-21 میں 48.649 ارب روپے سے بڑھ کرمالی سال 2024-25 میں 93.601 روپے ہوگئی ہے جبکہ آپریٹنگ نقصان مالی سال 2020-21 میں 8.196 ارب روپے اور مالی سال 2022-23 میں 8.460 ارب روپے کے آپریٹنگ سرپلس میں بدل گیا جو مالی سال 2023-24 میں 0.412 ارب رہا ۔ ایڈیشنل سیکرٹری فنانس نے کمیٹی کو بریفنگ دی کہ مالیاتی رکاوٹوں کے باوجود پاکستان ریلویز کو مسلسل بجٹ میں خاطر خواہ رقم مختص کی گئی ہے۔

رواں مالی سال میں 70 ارب روپے پاکستان ریلویز کا سالانہ پنشن خرچ پچھلے سالوں کے دوران حکومت کی طرف سے فراہم کردہ گرانٹ سے کم ہے اور یہ کہ 2022-23 اور 2023-24 کے دوران 2.5 ارب روپے کی اضافی گرانٹ اور فنانس ڈویژن کی طرف سے بالترتیب 2 ارب روپے کا بھی انتظام کیا گیا تھا تاکہ پاکستان ریلویز کو پنشن کا بیک لاگ ختم کرنے میں مدد ملے، اس لئے پنشن کے بقایا جات جمع کرنے سے گریز کیا جانا چاہئے تھا۔

کمیٹی نے پنشنرز کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے ایک پائیدار ماڈل تیار کرنے کی سفارش کی جس میں وزیر اعظم کے پیکیج کے تحت آنے والے تمام مستحقین شامل ہیں۔ کمیٹی نے کہا کہ اس طرح کے ماڈل کو تمام متعلقہ پنشنرز کی فلاح و بہبود اور ان کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے طویل مدتی مالی استحکام کو یقینی بنانا چاہئے۔ اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی راجہ قمر الاسلام، چوہدری محمود بشیر ورک، نوید عامر، حمید حسین اور نعیمہ کشور خان کے علاوہ سیکرٹری وزارت پارلیمانی امور، ممبر خزانہ وزارت ریلوے، ایڈیشنل سیکرٹری وزارت خزانہ اور دیگر وزارتوں کے سینئر ممبران نے بھی شرکت کی ۔