این آئی پی پی کے زیر اہتمام بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالہ سے سیمینار

لاہور۔25دسمبر (اے پی پی):نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک پالیسی (این آئی پی پی) کے زیرِ اہتمام بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ اور اسے قومی بیانیہ بنانے کے حوالہ سے ایک اہم سیمینار منعقد ہوا۔ سیمینار میں چیئرمین رویتِ ہلال کمیٹی و خطیب بادشاہی مسجد مولانا عبدالخبیر آزاد، فادر جیمز چنن، ڈاکٹر محمد جمیل آفاقی ریکٹر نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی (این آئی پی پی)، ڈین این آئی پی پی …

لاہور۔25دسمبر (اے پی پی):نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک پالیسی (این آئی پی پی) کے زیرِ اہتمام بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ اور اسے قومی بیانیہ بنانے کے حوالہ سے ایک اہم سیمینار منعقد ہوا۔ سیمینار میں چیئرمین رویتِ ہلال کمیٹی و خطیب بادشاہی مسجد مولانا عبدالخبیر آزاد، فادر جیمز چنن، ڈاکٹر محمد جمیل آفاقی ریکٹر نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی (این آئی پی پی)، ڈین این آئی پی پی ڈاکٹر نوید الٰہی، ادارے کی قیادت، افسران اور ملازمین نے شرکت کی۔ تقریب میں اقلیتی مذہبی برادریوں سے تعلق رکھنے والے ملازمین کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا گیا۔تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔

ڈین این آئی پی پی ڈاکٹر نوید الہٰی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم محمد علی جناح کے تاریخی الفاظ دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تمام شہریوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے اور یہی نظریہ پاکستان کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم کا یہ پیغام آج بھی تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لیے تحفظ اور یقین دہانی کی حیثیت رکھتا ہے۔فادر جیمز چنن نے کہا کہ پاکستان کا تنوع اس کی اصل طاقت ہے اور بین المذاہب ہم آہنگی کے بغیر قومی ترقی ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا شمولیت پر مبنی بیانیہ اب عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے اور اقوامِ متحدہ، سعودی عرب، اردن اور ویٹیکن میں پیغامِ پاکستان پروگرام کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔مولانا عبدالخبیر آزاد نے اپنے خطاب میں کہا کہ مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینا دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مذاہب کے درمیان اتحاد ریاست پاکستان کا بنیادی ایجنڈا ہے اور پیغامِ پاکستان اقدام کے ذریعے امن اور رواداری کا پیغام نہ صرف ملک بھر میں بلکہ دنیا تک پہنچایا گیا ہے۔

ریکٹر این ایس پی پی ڈاکٹر محمد جمیل آفاقی نے اختتامی خطاب میں کہا کہ اگرچہ پالیسی سازی اور قانون کی بالادستی ریاست کی ذمہ داری ہے، تاہم عملی سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی کا فروغ عوام کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ رواداری اور برداشت کو معاشرے کا حصہ بنانا ہوگا۔تقریب کے اختتام پر معزز مہمانوں، فیکلٹی اور انٹرنز کے ہمراہ کیک کاٹا گیا جو مختلف مذاہب کے درمیان یکجہتی اور مشترکہ اقدار کی علامت قرار دیا گیا۔